مشمولات شمارہ برائے جون, 2008

مسعودِ ملت۔ اخلاقِ عالیہ کے پیکر

مسعودِ ملت حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ رحمۃ الرحمن۔ اخلاقِ عالیہ کے پیکر
سید محمد ریاست رسول قادری

تھیں جو کل تک جلوہ افروزی سے شمع انجمن
آج وہ شکلیں چراغ، زیرِ داماں ہوگئیں
میں نہ کوئی ادیب ہوں اور نہ ہی میرے پاس کچھ علمی استعداد ہے، مگر28/اپریل 2008ء بروز منگل جب یہ دل ہلادینے والی غمناک خبر ملی کہ حضرت قبلہ مسعودِ ملت اپنے پیارے حبیب سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار کرنے کے لیے اس دنیا سے پردہ فرماگئے ہیں تو دل کو یقین نہ آیا اور انتہائی غمگین ہوگیا۔ سب کچھ ایک خواب ہوگیا۔ ابھی تو مسعودِ ملت ہمارے درمیان آفتاب و ماہتاب کی طرح بنفس نفیس موجود رہ کر ہماری رہنمائی اور سرپرستی فرمارہے تھے۔
موت سے کس کو رستگاری ہے
آج وہ کل ہماری باری ہے

اللہ عزوجل جب کسی بندے کو اپنا محبوب بنانا چاہتا ہے اور اس کو جلیل القدر اور عظیم دینی خدمات کے لیے منتخب کرنا چاہتا ہے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بلاکر فرماتا ہے ”مجھ کو فلاں بندے سے محبت ہے، تم بھی اس سے محبت کرو۔“ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کو اس سے محبت ہوجاتی ہے۔ پھر وہ آسمان میں منادی کرتے ہیں کہ ”اللہ تعالیٰ کو فلاں سے محبت ہے لہٰذا تم سب بھی اس سے محبت کرو۔“ چنانچہ آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں، پھر روئے زمین میں بسنے والوں کے دلوں میں اس کی محبت اور مقبولیت رکھ دی جاتی ہے اور زمین پر رہنے والوں کے دل خود بخود اس کی طرف مائل ہوتے ہیں، انہیں مقربین اور محبوبین میں ماہرِ رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ کی ذات گرامی تھی جنہیں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ابتداء ہی سے دین و مسلک کی خدمت کے لیے منتخب کرلیا تھا!مگر مجددِ قرن الماضیہ والحالیہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں صاحب محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ کے عشق نے قبلہ مسعودِ ملت علیہ الرحمہ کو ولیٴ وقت بنادیا۔ آپ نے اپنی زندگی دین و مسلک بالخصوص رضویات کی نشر و اشاعت کے لیے وقف کردی تھی اور بحیثیت محقق ساری دنیا میں مشہور ہوگئے، بین الاقوامی شہرت یافتہ فضلاء و محققین نے آپ کی علمی تحقیقات کو سراہا ہے۔ آپ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے سرپرستِ اعلیٰ تھے اور آپ نے جدید تعلیم یافتہ طبقوں میں اعلیٰ حضرت کو متعارف کروانے اور جامعات کے اساتذہ اور محققین کو ان کی علمی، دینی اور ادبی خدمات پر ڈاکٹریٹ کروانے میں نہ صرف مدد فرمائی بلکہ خود ان کی سرپرستی و رہنمائی فرمائی۔ اہلِ سنت و جماعت کے لیے قبلہ ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کا یہ عظیم کارنامہ ان شاء اللہ رہتی دنیا تک ان کو زندہٴ جاوید رکھے گا۔ جیساکہ میں نے شروع میں ہی لکھا ہے کہ میں نہ ہی ادیب ہوں اور نہ ہی کچھ علمی استعداد رکھتا ہوں کہ ایسے عالمِ باعمل ولیٴ وقت کی شان میں کچھ لکھ سکوں، ہاں مگر میرا ان خوش نصیبوں میں نام شامل ہے جن کو حضرت مسعود ملت کے قدموں میں بیٹھنے کی سعادت حاصل تھی۔ آپ ادارے اور میرے بڑے بھائی حضرت مولانا وجاہت رسول قادری صاحب کی نسبت سے مجھ سے بہت محبت فرماتے تھے اور اپنی دعاؤں سے نوازا کرتے تھے، انتہائی شفیق، مخلص اور سادہ انسان تھے۔ آپ کی زندگی میں کوئی بناوٹ نہ تھی۔ آپ کے گھر کئی بار جانے کا اتفاق ہوا۔ بڑی فقیرانہ، درویشانہ زندگی تھی۔ سادہ کمرہ، دری بچھی ہوئی، ایک چھوٹی میز قلم، دوات اور کتابوں کا ڈھیر۔ ادارے کی کئی نرم گرم میٹنگوں میں بھی آپ کے ساتھ بیٹھنے کی سعادت ملی۔ سب کو بڑے تحمل سے سننا، پھر مسکراکر اپنا فیصلہ سنانا اور تمام لوگوں کا بے چون چرا اس پر عمل کرنا، یہ آپ کی ہمارے نزدیک بڑی کرامت تھی۔ انکساری کا یہ عالم کہ اپنی بیماری سے صحت پانے کے فوراً بعد ہمارے گھر بڑی گیارہویں شریف میں شریک ہونے کی حامی بھرلی۔ آپ تشریف لائے، بعد نماز مغرب تا رات 12 بجے تک بیٹھے رہے۔ تقریر کی، میری بیٹی جویریہ فاطمہ کی آمین کروائی۔ پچھلے برس ہنگامے پھوٹ پڑے، پورے شہر میں آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا تھا مگر آپ ہمارے محب الحاج عبد اللطیف قادری صاحب کے گھر میلاد شریف میں تشریف لے گئے۔ آپ کا یہی انکسار، یہی کردار، یہی رویہ، یہی محبت، یہی حسنِ خلق اس بات کی گواہی ہے کہ آپ حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد پر مکمل طور پر عامل تھے اور آپ کی اسی شان نے آپ کو ہم سب کے درمیان پیارا اور معظم بنادیا تھا۔ آج ہم اپنے آپ کو آپ کے پردہ فرمانے کے بعد یتیم محسوس کررہے ہیں مگر ہمیں یقین ہے کہ آپ کے فیوض و برکات آپ کے چاہنے والوں پر ہمیشہ جاری و ساری رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ جلیلہ سے آپ کی قبر شریف کو اپنے نور سے منور کردے اور آپ کی قبر میں آپ کے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان صاحب محدثِ بریلوی قدس سرہ کا سلام گونجتا رہے۔ ان سے عشق کا آپ کو انعام تاصبحِ قیامت ملتا رہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے تمام گھر والوں کو صبرِ جمیل عطا کرے اور آپ کے صاحبزادے محبی و عزیزی محمد مسرور میاں زید مجدہ کو آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق اور آپ کے تمام مریدین و متعلقین کو صبر کے ساتھ آپ کے پیغام پر چلنے کی سعادت اور ہمیں ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین علیہ التحیۃ والتسلیم۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »

حضرت مسعود ملت رحمہ اللہ تعالیٰ کی چند یادیں

از: خلیل احمد رانا

تقریباً 30 سال پہلے کی بات ہے کہ احقر مرکزی مجلس رضا (لاہور) کا خادم تھا ، حضرت حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہ الرحمہ(م۔1999ء)، مجلس کی مطبوعات کے مسوّدے کتابت کے لئے احقر کے پاس بھیج دیتے تھے ، یہ ناکارہ مسودات کی کتابت حضرت حاجی محمد صدیق فانی خوش نویس مرحوم (خانیوال)سے کراکے اور پروف ریڈنگ کرکے لاہور بھیج دیتا، حضرت حکیم صاحب نے احقر کو فرمایا کہ آئندہ حضرت پروفیسر محمد مسعود احمد قبلہ کے مسودات کتابت کراکے اُنہیں بھیج دیا کریں ،میں نے حکم کی تعمیل کی ، اس طرح حضرت انیس المساکین پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمہ سے قربت نصیب ہوئی ، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ نے تقریباً ڈیڑھ سو خطوط احقر کے نام لکھے، جن میں سے کچھ خطوط ”مکتوبات مسعودی“ مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل(کراچی) 2005ء کے صفحہ 103 تا 126 پر شائع ہو کر محفوظ ہو چکے ہیں۔

انہی دنوں حضرت نے خط کے ذریعے احقر کو اطلاع دی کہ میں فلاں تاریخ کو حکیم سیّد شوکت علی دہلوی، اندرون بوہڑ دروازہ (ملتان)آرہاہوں ، ہوسکے تو ملاقات کرلیں، آپ غالباً اپنی بچی کے رشتہ کے سلسلے میں تشریف لائے تھے، احقر اُس بتائی ہوئی تاریخ کو ملتان میں حکیم سید شوکت علی دہلوی صاحب قبلہ کے مطب پر حاضر ہوا، مطب سے مجھے حکیم صاحب کا ایک ملازم گھر لے گیا، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمت بہت محبت سے ملے، بہت ہی شفقت فرمائی، چائے سے تواضع فرمائی اور اس ناکارہ کو بھائی کہہ کر بلایا، مسودات کی کتابت سے متعلق کچھ ہدایات فرمائیں، احقر نے کچھ دیر آپ کی صحبت بابرکت میں بیٹھ کر اجازت لی اور گھر چلا آیا۔

آپ کے اخلاق کریمانہ یاد رہیں گے، احقر کے والد ماجد فوت ہوئے تو حضرت مسعود ملت کی خدمت میں اطلاعاً خط لکھا، حضرت نے جواباً خط میں لکھا!
”یہ فراق عارضی ہے، اس فراق کا انجام وصال ہے ، کیونکہ قیامت کے دن صالح اولاد کو والدین سے ملا دیا جائے گا“

احقر نے جواب میں لکھا کہ حضرت میں تو صالح نہیں ہوں ، میں تو کلین شیو اور گنہگار انسان ہوں، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمت نے پھر جواب میں فرمایا!
”والدین کو ایصال ثواب کرنا صالحیت(نیکی) ہی ہے “

اسی طرح جب احقر نے حضرت شیخ العرب والعجم مولانا ضیاء الدین احمدقادری مہاجرمدنی قدس سرہ العزیز خلیفہ مجاز امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ کے حالات زندگی پر مشتمل کتاب”انوارِ قطبِ مدینہ“مرتب کررہا تھا(تقریباً 500 صفحات کی یہ کتاب مرکزی مجلس رضا، لاہور نے شائع کی تھی)، تو مجھے ایک رات خواب آیا کہ جیسے حج کا موسم ہے اور میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوں ، حجاج اور زائرین کا بہت ہجوم ہے، پھر دیکھتا ہوں کہ ایک پندرہ ضرب پندرہ فٹ کا چبوترہ ہے، جس پر تین قبریں بنی ہیں ، میں بھی زائرین کی بھیڑ میں سلام عرض کرکے قبر انور کے پاس بیٹھ جاتا ہوں ، مزار مبارک کی مٹی عطر میں خوب بھیگی ہوئی ہے، میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھا سے مٹی مبارک کو کھرچ کر ایک کاغذ میں پڑیا بنا کر رکھ لیتا ہوں ، اتنے میں آنکھ کھلی جاتی ہے، دل بہت مسرور ہوا کہ چلو ظاہری طور پر تو مدینہ طیبہ کی زیارت نہ کرسکا ، خواب میں ہی دیکھنانصیب تھا، صبح اُٹھ کر حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کو خط لکھا کہ میں نے ایسے خواب دیکھا ہے ، آپ نے جواب میں اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ آپ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیض عطا ہوگا۔ اللہ کریم اپنا فضل فرمائے۔

جب کتاب شائع ہوگئی تو آپ کو ارسال کی، آپ نے جواب میں فرمایا !
” تحفہٴ مرغوب ”انوار قطب مدینہ“ نظر نواز ہوا، آپ کی کاوش قابل تحسین وآفریں ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین! آپ نے بہت مفید اور اہم مواد جمع کردیا ہے، اس سے آنے والا مورخ استفادہ کرسکے گا، ان شاء اللہ، اس نفیس تالیف پر احقر کی طرف سے دلی مبارک باد قبول فرمائیں“۔ (مکتوب محررہ 5/ فروری 1988ء ، از ٹھٹھہ۔ سندھ)

غالباً 29/ اپریل کو احقر اپنے گاؤں میں گندم کی کٹائی میں مصروف تھاکہ بزرگوارحضرت قبلہ سید وجاہت رسول قادری صاحب مدظلہ نے فون پرحضرت مسعود ملت علیہ الرحمت کے وصال کی خبر دی، انا للپ وانا الیہ راجعون ، احقر حضرت صاحب زادہ محمد مسرور احمد مسعودی دامت برکاتہم سے تعزیت کرتا ہے ، حضرت صاحبزادہ مسرور احمد صاحب اپنی نسبی شرافت وبزرگی میں اپنے خاندان کے امین ہیں ماشاء اللہ ، اللہ کریم سے دعا ہے کہ تمام اہل خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین

جون 2008 | تبصرہ کریں »

وفیات

فاٹا سے قومی اسمبلی کے ممبر اور جماعتِ اہلسنّت، پاکستان کی سپریم کونسل کے رکن جناب صاحبزادہ نور الحق قادری کے بھائی جناب صاحبزادہ نور الدین قادری (خطیب زرگون مسجد، حیات آباد)، ان کے بہنوئی علامہ ہمایوں قادری (شیخ الحدیث، دارالعلوم جنیدیہ غفوریہ، سینیٹر مولانا عبد المالک صاحب کے صاحبزادے) اور صاحبزادہ نور الحق قادری صاحب کے چچا علامہ عبد العظیم قادری (صدر، تنظیم المدارس اہلسنّت، صوبہٴ سرحد) کو ڈرائیور سمیت جمروٹ کے علاقہ میں چند شرپسند عناصر نے شہید کردیا۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی کی مجلسِ عاملہ کے اراکین ان تمام مرحومین کے درجات کی بلندی کی دعا کرتے ہیں اور سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں۔

1۔ انوارِ رضا اور ماہنامہ ”سوئے حجاز“ کے مدیرِ اعلیٰ ملک محبوب الرسول قادری کے والدِ ماجد جناب ملک عبد الرسول قادری 29/ربیع الآخر 1429ھ بمطابق 6/مئی 2008ء کو جوہر آباد میں وصال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی عمر تقریبا 80سال تھی۔ وہ 1929ء میں جوہر آباد میں تاریخی بادشاہی مسجد کے خطیب اور عظیم روحانی شخصیت حضرت حافظ سید رسول نقشبندی رحمہ اللہ تعالیٰ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ ایک مجاہد صفت بزرگ تھے۔ جامع مسجد غوثیہ، جوہر آباد میں آپ کی نمازِ جنازہ آستانہٴ عالیہ بیریل شریف کے سجادہ نشین اور ادارہٴ معین الاسلام کے بانی سربراہ صاحبزادہ پروفیسر محبوب حسین چشتی نے پڑھائی اور علماء و مشائخ کی کثیر تعداد سمیت ہزاروں افراد نے آپ کے جنازے میں شرکت کی۔
2۔ جماعتِ اہلِ سنت کراچی کے امیر علامہ سید شاہ تراب الحق قادری صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے برادرِ اکبر جناب شاہ سیف اللہ قادری صاحب بروز پیر 19/مئی 2008ء مطابق 13جمادی الاولیٰ 1429ھ کو انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ بروز بدھ 21/مئی 2008ء کو صبح دس بجے جامع مسجد مدینہ، کورنگی، کراچی میں آپ کے برادرِ اصغر حضرت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری مدظلہ نے پڑھائی۔
ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی کے صدر صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری، جنرل سیکریٹری پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری و دیگر اراکینِ مجلسِ عاملہ نے مرحومین کے لواحقین سے دلی تعزیت اور رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے درجات کی بلندی کی دعا فرمائی۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »

شفق چھوڑ جاؤں گا

از: محترمہ شبنم خاتون
(ریسرچ اسکالر، ڈپارٹمنٹ آف عربک،بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی، یوپی، انڈیا)

دنیا میں بہت کم ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو مرکر بھی زندگی کی انمٹ چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ مسعود صاحب کو پہلی بار دیکھنے اور ان سے ملنے کا موقع 25وویں امام احمد رضا انٹرنیشنل سلور جوبلی کانفرنس 2005ء، کراچی، پاکستان میں ملا۔ نیچی نظریں لیکن دور تک دیکھنے کی صلاحیت، سادہ لباس لیکن چمک دمک والے لوگ بھی آپ کے قرب کو اپنی خوش بختی سمجھتے۔ ایک ایسی شخصیت جس کی زبان تو خاموش رہتی لیکن قلم ہمیشہ چلتا رہتا اور ایسا چلتا کہ بولنے والوں کو خاموش کردیتا۔ 25ویں سلور جوبلی کانفرنس (کراچی) کے موقع پر سید وجاہت رسول قادری (صدر، ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی، پاکستان) کو گولڈ میڈل دیا جارہا تھا تو وجاہت صاحب نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں پروفیسر مسعود صاحب کے ہاتھ سے گولڈ میڈل لوں گا۔ مسعود صاحب گولڈ میڈل دینے کے لیے نہ ہی اسٹیج پر آئے اور نہ ہی کیمرے کا سامنا کیا بلکہ سامعین کی صف میں بیٹھے ہوئے وہیں سے دے دیا۔ اس وقت میں نے یہ سوچا کہ کون سی ایسی قدآور شخصیت ہے جن سے وجاہت رسول صاحب نے گولڈ میڈل لینے کی خواہش ظاہر کی۔ مجھے ایسی بلند و بالا شخصیت کو دیکھنے کا تجسس پیدا ہوا اور پھر میری آنکھیں اس کانفرنس کے جمِ غفیر میں ایسی بلند و بالا شخصیت کو تلاش کرنے لگیں۔ بالآخر میں مسعود صاحب کے پاس گئی، وجاہت رسول قادری صاحب نے کہا، آپ ان سے دعائیں لے لیجئے۔ پھر کیا تھا، میں ان کے پاس گئی۔ انہوں نے نیچی نظروں سے میرا تعارف سنا اور دعائیں دیں۔ میں نے اپنی چھوٹی سی ڈائری نکالی اور حضرت کو بغرض آٹوگراف دیا۔ مرحوم مسعود صاحب نے اس پر خوبصورت سا دستخط اس انداز سے ثبت کیا جس میں بسم اللہ کی شباہت نظر آتی ہے جسے میں حرزِ جاں بنائے ہوئے ہوں۔ جب میں کراچی سے ہندوستان واپس آئی تو مسعود صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ واقعی یہ شخصیت بحر العلوم ہے۔ عربی، اردو اور انگریزی، تینوں زبانوں میں آپ کی بیشتر تصانیف ہیں۔ آپ کا شمار ماہرینِ رضویات میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ اس سلسلے کی مضبوط کڑی تھی۔ مسعود صاحب کی وہ علمی شخصیت جن پر خود ان کے استاد پروفیسر غلام مصطفی خاں (سندھ یونیورسٹی) کو بھی فخر تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
”میری پوری مدتِ ملازمت میں وہ میرے سب سے بہتر شاگرد رہے ہیں۔ میں ان پر بجا طور پر فخر کرسکتا ہوں۔ ان جیسے باوقار، باکردار اور باصلاحیت طلباء موجودہ حالات میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ وہ ان محققین میں سے ہیں جن پر فضلاء اعتماد کرسکتے ہیں اور جن پر کسی یونیورسٹی کو فخر ہوسکتا ہے۔“
(امام احمد رضا اور مسعودِ ملت، ص:11)

مرحوم مسعود صاحب نے 1970ء سے احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی پر لکھنا شروع کیا اور تادمِ مرگ لکھتے رہے۔ آپ 1970ء سے پہلے دوسرے موضوعات پر بھی لکھتے رہے، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”مرکزی مجلسِ رضا، لاہور کی تحریک اور اس کی مدد سے میں نے 1970ء میں اعلیٰ حضرت پر تحقیقی کام کا آغاز کیا۔“
(بحوالہ Neglected Genius of the East، ناشر: مرکزی مجلسِ رضا، لاہور)

حالانکہ ڈاکٹر مسعود صاحب کا قلمی سفر 1956ء سے شروع ہوچکا تھا۔ آپ نے اپنا پہلا مقالہ اردو شاعر ولی دکنی اور انگریزی شاعر چا ملر کے تقابلی جائزہ پر لکھ کر سندھ یونیورسٹی سے انعام حاصل کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی بیشتر تصانیف احمد رضا فاضلِ بریلوی کے حوالے سے لکھتے رہے۔ انہوں نے بہت سی انگریزی کتب کے تراجم بھی کئے ہیں جو ادب، معاشیات اور اسلامیات سے متعلق ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے مختلف علوم و فنون کی کتابوں پر مقدمے اور تبصرے بھی لکھے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود صاحب نے مختلف موضوعات پر مختلف زبانوں میں تقریباً دو سو کتب و رسائل و مقالات تحریر کئے ہیں۔
(معارفِ رضا، کراچی، ص: 20، اگست 2000ء)

آج مسعود صاحب ابدی نیند سورہے ہیں لیکن ان کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ان کی حیاتِ جاودانی کی گواہی دے رہا ہے۔ آپ نے دینی، علمی اور ادبی، ہر موضوعات پر لکھا اور خوب لکھا۔ ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو صاحب لکھتے ہیں:
”پروفیسر مسعود احمد کا شمارہ ان فضلاء میں ہوتا ہے جو اپنی قابل قدر تصانیف اور اپنی علمی کارناموں کی وجہ سے دور دور تک شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے قدر داں ان کے معتقدین، ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں مشرق اوسط کے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جہاں مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف شوق اور توجہ سے پڑھی جاتی ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد سو (100) سے زائد ہیں، جن میں چالیس کتابوں کے ترجمے دوسری زبانوں میں شائع ہوکر مختلف ملکوں میں پھیل گئے ہیں۔“ (امام احمد رضا اور مسعودِ ملت، ص:13)

مسعود صاحب کی رحلت سے جہاں علم و ادب کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے اور احمد رضا خاں بریلوی کی تصانیف و تالیف پر مسلسل اور انتھک عملی نقطہٴ نظر سے کام کرنے والی ایک اہم علمی شخصیت کا فقدان ہوگیا ہے۔ وہاں وہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے گئے ہیں کہ انسان صورت سے نہیں بلکہ اپنی سیرت بالفاظ دیگر اپنے کارناموں کے سبب حیاتِ جاوید کا حق دار ہوتا ہے۔

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
گر ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
پروفیسر مسعود صاحب کی شخصیت یقینا اس شعر کی مصداق ہے۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »

تعزیت نامے

بر وصال ماہرِ رضویات مسعود ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمہ اللہ تعالیٰ

۔۔۔۔۔
علامہ مولانا محمد منشا تابش قصوری
(مدرس، جامعہ نظامیہ رضویہ، اندرون لوہاری گیٹ، لاہور، پاکستان)

حضرت مولانا الحاج صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری مدظلکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

فون پر آپ نے ملت ِ اسلامیہ کے عظیم اسکالر، محقق، مفکر، علامہ پیر نازشِ لوح و قلم حضرت الحاج صاحبزادہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری مجددی نقشبندی علیہ الرحمۃ کے وصالِ پُرملال کی دکھ بھری خبر سنائی۔ مرحوم کا وصال اہلِ علم و قلم اور خاندانِ عظمت نشان کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ آپ کے قلمی فیضان سے نہ صرف پاک و ہند بلکہ بین الاقوامی سطح پر کتاب سے تعلق رکھنے والے ہزاروں کی تعداد سے مستفیض ہورہے تھے، نئے نئے کلمات و طیبات سے دلوں کو متاثر کررہے تھے۔ نہ جانے کتنے غیر مسلم اور بدعقیدہ لوگوں نے اسلام و عقیدہ کی بے پایاں دولت پائی، آپ نے ہر شعبہٴ علم کو نوازا، جدید و قدیم علوم کی تفہیم اس انداز سے فرمائی کہ ہر قاری نے تحسین و تبریک کے نذرانے پیش کئے۔

آپ کے علم و عمل سے روحانی چشمے پھوٹتے رہے اور ہر شعبہٴ زندگی سے متعلق افراد نے آپ کی ارادت و عقیدت کو اس نہج سے اپنایا کہ شریعت و طریقت کے متبع نظر آتے ہیں، آپ کی تصانیف و تالیفات سے ایک جہاں بہرہ مند ہوتا رہے گا۔

امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی اور مجددِ دین و ملت امام احمد رضا خاں صاحب علیہما الرحمۃ پر اس شان سے قلم چلایا کہ زندہ و جاوید ہوگئے۔ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل کے آپ بانیوں میں شامل ہیں۔ آپ کے وصال سے ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے اربابِ حل و عقد کو جو عظیم صدمہ پہنچا ہے، اس پر ہر رکن سے بندہ تعزیت کرتا ہے۔ دعا ہے، اللہ تعالیٰ مسعودِ ملت علیہ الرحمۃ کو جنت کی اعلیٰ نعمتوں سے نوازتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت عطا فرمائے۔ جملہ روحانی و جسمانی پس ماندگان کو صبر جمیل اور اجر جزیل مرحمت فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

۔۔۔۔۔۔
علامہ محمد فیاض احمد اویسی رضوی مدظلہ العالی
(ایڈیٹر، ماہنامہ ”فیضِ عالم“ و ناظم اعلیٰ جامعہ رضویہ، بہاولپور)

بخدمتِ عالی مرتبت قبلہ حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری مد ظلہ
السلام علیکم!
فقیر ناچیز کو حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مجددی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصالِ باکمال کی المناک خبر کراچی کے جلیل احمد قادری اور مفتی محمد رفیق درانی نے فون پر دی۔ فقیر عالمِ اسلام کی عظیم علمی وروحانی شخصیت کے وصالِ پرملال کی خبر سنتے ہی یک دم گم سم ہوگیاکہ آہ !ہم اہلِ اسلام اہلسنّت کا نقصان ہوا ۔ ہم ایک عالمِ باعمل شیخِ طریقت کے علمی فیضان سے محروم ہوئے۔ موصوف بے شمار اسلامی، دینی،اصلاحی کتب کے مصنف تھے۔ان کا اسلوبِ تحریر ایسا دلنواز تھا کہ پڑھنے والا اُکتاہٹ محسوس نہیں کرتا۔ اُن کے قلم میں ایسی خداداد طاقت تھی کہ جب وہ کسی موضوع پر لکھتے، الفاظ سمندر کی طرح ٹھاٹھیں مارتے اور اندازِ تحریر ایسا جامع اور مدلل و محقق ہوتا کہ کسی کو انکار کی مجال ہی کہاں۔

بہت عرصہ پہلے ایک گھناؤنے منصوبہ اور سازش کے تحت جدید تعلیم کے دلدادہ لوگوں میں امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کو ایک نئے مذہب کا بانی قرار دیا جانے لگا۔ انہوں نے مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ والرضوان کے دفاع میں ایسا تحریری کام فرمایا کہ آج دنیا انہیں ماہرِ رضویات کے نام سے یاد کرتی ہے۔ امام احمد رضا کی ذات پر انہوں نے مختلف زبانوں میں ایسے مدلل و محقق مقالہ جات/ مضامین لکھے کہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں اعلیٰ حضرت کے علوم پر سینکڑوں متلاشیانِ علم نے تحقیقات کی۔

گذشتہ چند سال قبل حضور امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رضی اللہ عنہ کی علمی، روحانی، خدمات پر کئی مجلدات پر ضخیم کتاب بنام ”جہانِ امام ربانی“ ترتیب دی جس میں ممتاز اور جید علماء کرام و مشائخ عظام کے مقالات جمع فرمائے اور خود بھی اس میں نادر و نایاب مضامین تحریر فرمائے۔ علمی ذوق رکھنے والے وہ حضرات جو حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ پر تحقیقات کررہے ہیں ان کے لیے یہ کتاب انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتی ہے۔

سچی بات ہے وہ اسلاف کی زندہ تصویر تھے۔ (اذا راوا ذکر اللّٰہ جن کا چہرہ دیکھنے سے خدا یاد آتا ہے) کے مظہر تھے ان کی محفل میں بیٹھنے والا ایک روحانی سکون محسوس کرتا تھا فقیر کو باب المدینہ (کراچی) ان کے آستانہ پر کئی مرتبہ حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔ ان کی باتوں میں جو روحانی کیف و سرور تھا وہ زندگی بھر یاد رہے گا۔ ان کی ہر بات بامقصد پائی بلکہ بات بات میں مسلکِ حق اہلِ سنت پر کام کرنے کی رہنمائی ہوتی۔ مسلکِ رضا پر کام کرنے والوں کی وہ اس خوبصورتی سے حوصلہ افزائی فرماتے کہ کام کرنے کا عزمِ مصمم ہوجاتا۔ اپنے درِ دولت پر آنے والے کی بھرپور مہمان نوازی فرماتے مہمان کو رخصت کرتے وقت بہت سارے علمی جواہر پارے (کتب/ رسائل) تحفتاً عطا فرماتے۔ بہاولپور میں ان کے بہت قریبی عزیز ہیں، جب ان کے ہاں تشریف لاتے تو جامعہ اویسیہ رضویہ، بہاولپور میں ضرور قدم رنجہ فرماتے۔

جامعہ کے فضلاء کے لیے ہر سال اپنی تصانیف جلیلہ کے سیٹ ارسال فرماتے۔ حضور مفسر اعظم پاکستان مدظلہ کے ساتھ ان کا ایک گہرا دلی لگاؤ تھا۔ ان کے تحریری کام پر انہوں نے جتنے حوصلہ افزا مقالہ جات تحریر فرمائے ہیں، وہ صدیوں تک روشن تاروں کی طرح چمکتے رہیں گے۔ نہ صرف تحریراً حوصلہ افزائی فرمائی بلکہ عملاً بے شمار غیر مطبوعہ مسودہ جات کو زیورِ طباعت سے آراستہ کرنے کے لیے اشاعتی اداروں کو حکم فرمایا۔ بہاولپور میں اہلسنّت کی مرکزی جامع مسجد سیرانی میں جمعۃ المبارک میں ہزاروں کے اجتماع میں فقیر نے حضرت پروفیسر قبلہ رحمۃ اللہ علیہ کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کے بعد ان کے رفع درجات اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا کرائی۔ حضور مفسر اعظم پاکستان فیض ملت علامہ محمد فیض احمد اویسی مدظلہ نے ان کے وصالِ پُر ملال پر گہرے دکھ و رنج کا اظہار فرماتے ہوئے کہا کہ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ صدیوں پُر ہوتا نظر نہیں آتا۔

۔۔۔۔۔۔۔
مولانا محمد سہیل احمد سیالوی
(عالم، فاضل، محقق اور استاذ جامعہ رضویہ احسن القرآن، دینہ، پنجاب، پاکستان )

محترم المقام حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری زید مجدہ العالی
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ
مزاج گرامی بخیر !
مسعود ملت، حضرت ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری رحمہ اللہ تعالی کے وصال پُر ملال کی جاں کاہ خبر سنی، انا للہ وانا الیہ راجعون ۔حضرت کی کس کس خوبی کا ذکر کیا جائے اور کس کس وصف کا تذکرہ کیا جائے ،وہ صرف گفتا رکے غازی نہیں بلکہ بلندیٴ کردار کے نقیب بھی تھے، صرف علمِ کتابی کے حامل نہیں، نظر کا نور اور دل کی بصیرت رکھنے والے انسان تھے ۔رضویات کے حوالے سے محترم المقام حکیم محمد موسی امرتسری ،قبلہ شرفِ ملت اور حضرت ڈاکٹر صاحب رحمہم اللہ تعالی کی کاوشیں اولیت کا درجہ رکھتی ہیں۔ ان تینوں حضرات نے بلا شک و شبہ فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ والرضوان پر کام کی بنیاد رکھی ،علماء ،محققین اور دانشوروں کو فاضل بریلوی کے افکارِ عالیہ اور حقیقی کارناموں سے متعارف کروایا ،مثبت انداز میں تحقیقی لٹریچر کی تیاری اور ترسیل کی طرح ڈالی ۔ تحریری میدان میں اہل سنت کی کم مائیگی کے داغ کو دھونے کی گراں قدر کوششیں کیں ۔

حضرت مسعودِ ملت بلا شک و شبہ غیر معمولی علم و فضل کے مالک اور عظیم علمی و روحانی خانوادے کے فردِ فرید تھے ۔لیکن میرے خیال میں ان کی اصل وجہِ فضیلت ان کے کردار کی وہ روشنی تھی جس نے بلا تفریق اپنوں اور غیروں میں اجالے بانٹے ،وہ نرم گفتگو اور میٹھے بول بول کر غیروں کو اپنا بنانے کے فن سے واقف تھے ،ان کے باطن کی صداقت اور دل کی جگمگاہٹ ان کے اعضاء و جوارح اور قلم سے جھلکتی تھی ،تحریر بالکل سادہ اور بے تکلف ،لیکن ایسی کہ اس طرح لکھنے بیٹھو تو ایک صفحہ نہ لکھ سکو ۔ہر بات دل کے راستے تلاش کر لیتی، ہر جملہ دماغ کو مسکن بنا لیتا،وہ محبتیں بانٹنے والے تھے ،اجالوں کے سوداگر اور روشنیوں کے سفیر تھے ۔ان کا عجز ، انکساری ،تواضع اور کسر نفسی ان کے حقیقی شرف کی آئینہ دار تھی ،ان کی کوئی بھی کوشش ،کوئی بھی تحریر ،کوئی تصنیف ،کسی کے ساتھ علمی و ادبی تعاون اپنی شہرت ،تصانیف کی فہرست میں اضافہ یا حصول زر کی بنیاد پر نہیں ہوتا تھا ،سب کاموں میں رضائے الہی اور خوشنودیٴ مصطفی ﷺ کا حصول ان کی منزل تھی ،وہ انسانیت کے محسن ،علم کے سچے شیدائی ، حقیقت کے پرستار اور باطل سے مثبت انداز میں پیکار کرنے والے تھے ۔
اپنے ایک مکتوب میں انہوں نے لکھا کہ
” لوگوں کو جب حق کا پیغام فاضلِ بریلوی رحمہ اللہ تعالی کے حوالے سے دیتا ہوں تو وہ طبعی تعصب کی بناء پر اسے قبول نہیں کر پاتے اب میں نے یہی پیغام حضرت مجدد الف ثانی رضی اللہ تعالی عنہ کے حوالے سے دینے کا ارادہ کیا ہے “
ان کے اس جملے سے واضح ہوتا ہے کہ ان کا مدعائے اصلی اور منتہائے آرزو اصلاح انسانیت اور فلاح ِعالم تھی چاہے یہ پیغام کسی بھی شخصیت کا نام لے کر پیش کیا جائے ۔
میں نے ان سے ملنے والوں کو ان کا گرویدہ پایا ،ان کی باتیں سننے والے کہتے ہیں کہ وہ گل بدہن آدمی تھے ۔ ان کی تحریریں پڑھ کر لگتا ہے کہ اثر انگیزی کے عنصر نے ان کے قلم میں سیاہی کی جگہ لے رکھی تھی ۔
انہوں نے اپنی خداداد ذہنی ،فکری اور علمی صلاحیتوں کو پوری دیانت داری سے مرضیات الہی میں صرف کیا ،ان کے مکاتیب کا سرسری مطالعہ بتاتا ہے کہ وہ کس حد تک مصروف ،فعال اور مفید زندگی بسر کر کے گئے ہیں ۔مختلف ممالک کے محققین سے رابطے ،انہیں ان کی مطلوبہ کتب اور مواد کی فراہمی ،ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضاکی سرپرستی ،تصنیف و تالیف ،روحانی معاملات کی بجا آوری ،مریدین و متعلقین سے ملاقاتیں ، الغرض اشغال کا ایک ہجوم تھا جسے ان کے دامن توجہ نے ا پنی وسعتوں میں سمیٹ رکھا تھا ۔
ہر طرف سے چوکنا ،ہر طرف نظر رکھنے والے ،بروقت خبر دار کرنے والے ، حوصلہ افزائی کرنے والے اور ہمت بڑھانے والے افراد اب کہاں نظر آتے ہیں ؟
ان کا سینہ ملت کے درد سے معمور تھا، وہ ملت کے تنزل اور ادبار پر گریہٴ خوں بہانے والے اور اس کے اسباب کو کھوج کر تلافی مافات میں کوشاں رہنے والے مردِ جلیل تھے ۔” مٹھی“ جیسے پس ماندہ اور دور افتادہ علاقے میں رہ کر ان کی آتشِ شوق ٹھنڈی نہیں ہوئی۔بلکہ وہاں کتنے ہی سینوں میں اس شمع سے شمعیں جلیں۔
آپ کی وفات سے ”ادارہٴ تحقیقات ِامامِ احمد رضا انٹر نیشنل“ یقینا ایک مدبر سر پرست ،مصلح قائد، اور دور اندیش رہنما سے محروم ہو گیا ،ادارہ کے ساتھ ان کی دلچسپی اور ادارہ کو اس مقام تک پہنچانے میں ان کا کردار کیا تھا ؟ اس کا کچھ اندازہ ان مکتوبات سے ہوتا ہے جو انہوں نے حضرت سید ریاست علی قادری رحمہ اللہ تعالی اور حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری زید مجدہ کے نام لکھے ہیں ۔
”بزم شیخ الاسلام“ کے تمام اراکین اس غم میں آپ کے ساتھ برابر کے شریک ہیں ،رب ذو الجلال ،حضرت مسعود ملت کی قبر انور کو اپنی خاص عنایات کا مہبط بنائے ۔ان کی مساعیٴ جلیلہ ،خلعتِ قبول سے آراستہ ہوں ۔ملت کو ان جیسے افراد کے تحفے دست قدرت سے ملتے رہیں،ان کی سدا بہار خوشبوئیں ان کا پتا دیتی رہیں گی ،اور ان کے زریں کارنامے ان کی یاد دلاتے رہیں گے ۔
اللہ تبارک وتعالی حضرت کے پس ماندگان ، متوسلین، متعلقین، اور تمام اہل اسلام کو حضرت کی وفات کا صدمہ سہنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
والسلام مع الاکرام
محمد سہیل احمد سیالوی
واراکین بزم شیخ الاسلام
جا معہ رضویہ احسن القرآن دینہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمد اشفاق جلالی
(استاذ، گورنمنٹ ڈگری کالج ،جہلم)

صبح ساڑھے سات بجے کے قریب، حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری (صدر ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا انٹر نیشنل ) کے ذریعے ٹیلی فون پرروح فرسا خبر سنی کہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد انتقال کر گئے ہیں ۔دلی صدمہ ہوا ۔ماہر رضویات ،پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کی ساری زندگی دین اسلام کی خدمت کے لیے وقف تھی ۔آپ نے تیس برس تک اعلی حضرت پر اس انداز میں کام کیا کہ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں نغمات رضا گونجنے لگے ،اور زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ اعلی حضرت کے نوادرات خفیہ گوشوں سے نکل کر منصہٴ شہود پر جلوہ گر ہونے لگے ۔ڈاکٹر صاحب کو اللہ تعالی نے وہ عظمت عطا فرمائی تھی کہ آپ کا قلم جس موضوع پر چلتا ،اپنے بیگانے سب معترف ہو جاتے ۔چند سال قبل آپ نے حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ پر کام کا بیڑا اٹھایا تو ”جہان امام ربانی “ کے عنوان سے اولین طور پر 12 جلدوں میں اور بعد ازاں پندرہ جلدوں کی صورت میں عظیم شاہکار اور حضرت مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کے کارناموں اور سوانح پر دائرۃ المعارف کی شکل میں ایک خزانہ سامنے آگیا ۔ڈاکٹر صاحب زہد و ورع ،تقوی و طہارت کے پیکر تھے ۔دہلی کے عظیم علمی و روحانی خانوادے کے ساتھ ان کا تعلق تھا جو صدیوں سے دہلی کی مسجد فتح پوری اور اس کے گرد و نواح کو علم و عرفان سے روشن و منور کر رہا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کی یہ خصوصیت قابل توجہ ہے کہ آپ سٹیج کی زینت بننے کی بجائے گم نام جگہ پر تشریف رکھتے ۔لا ہور،اسلام آباد اور کراچی میں ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا کے ذریعے بین الاقوامی امام احمد رضا کانفرنسز کا انعقاد کروایا جس میں مفکرین ،محققین ،علماء ،دانشور حضرات اپنے تحقیقی مقالہ جات پیش کرتے ،جس سے اعلی حضرت علیہ الرحمہ کی یہ پیشین گوئی حرف بحرف ثابت ہوئی کہ
بے نشانوں کے نشاں مٹتے نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
محققین اور ریسرچ سکالرز حضرات آپ سے رابطہ کرتے ،ڈاکٹر صاحب موضوع کے انتخاب میں ان کی رہ نمائی فرماتے ،اس طرح آپ کی تحریک پر سینکڑوں مقالات اور بیسیوں ادارے قائم ہوئے ۔
بندہٴ ناچیز کا ڈاکٹر صاحب سے تعلق اس وقت سے ہے جب میں جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور اور پنجاب یونیورسٹی کا طالب عالم تھا،بارہا ان سے خط و کتابت اور بالمشافہہ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ ان کی مجلس علمی و روحانی سے ہمیشہ کام کرنے کی ایک نئی لگن پیدا ہوئی ۔ڈاکٹر صاحب کاا نتقال پوری دنیائے اسلام کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور اتنا بڑا خلا ہے جو جلد پر ہونے والا نہیں۔
اللہ تعالی ان کے صاحبزادہ والا شان کو اور ان کی روحانی اولاد کو ان کا صحیح جانشین بننے کی توفیق عطا فرمائے ۔اللہ تعالی ،شفیع معظم صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے انہیں فردوس اعلی میں مقام اعلی نصیب فرمائے۔آمین

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر مجیب احمد
(ریسرچ اسکالر، استاذ شعبہٴ تاریخ، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی، اسلام آباد)
5 مئی 2008ء کو نماز مغرب سے کچھ دیر پہلے جب میں 17 ۔سی ، بلاک نمبر ۔2، پی ای ایچ سی سوسائٹی ، کراچی پہنچا تو وہاں پر چند احباب موجود تھے۔ مگر ہمیشہ کی طرح خوشدلی اور محبت سے میرا استقبال کرنے والے ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب نہیں تھے۔
ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ سے میرا تعلق 1989ء سے تھا۔ متعدد بار ان سے ملاقات کیلئے ان کے گھر حاضر ہوتا رہا۔ کراچی کے علاوہ لاہور اور اسلام آباد میں بھی ان سے ملاقاتیں رہیں۔ ایک دو مرتبہ ڈاکٹر صاحب میرے گھر بھی تشریف لائے ۔ دلی کی روائتی مہمان نوازی کے علاوہ انہوں نے تقریباَ ہر ملاقات پر کتب سے نوازا ۔ میرے پاس ان کی دستخط شدہ کئی کتابیں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں ان کے کئی خطوط بھی میرے پاس محفوظ ہیں۔ زبانی یاداشتیں بھی ان کی یادگار ہیں۔
ڈاکٹر محمد مسعود احمدایک ممتاز محقق ، ادیب ، ماہرِتعلیم اور نفیس نقشبندی بزرگ تھے۔ اگرچہ انہوں نے اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی پر تحقیق و تحریر کرنے سے پہلے بھی اپناعلمی و تحقیقی تشخص قائم کر لیا تھا۔ تاہم ان کی عالم گیر شہرت اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمۃ کے حوالے سے ہی بنی۔ 1992ء میں انہوں نے ادارہ مسعودیہ، کراچی قائم کیا۔ جس کے تحت انہوں نے کئی موضوعات پر کتب شائع کیں۔ حضرت مجدد الف ثانی کے حوالے سے ان کے تحقیقی و اشاعتی کام کو بھی عالمی سطح پر سراہا گیا ۔ آپ کی سر پرستی میں ماہنامہ المظہر (کراچی) کا بھی اجرا ء ہوا۔ علاوہ ازیں آپ متعدد تنظیموں اور اداروں کے سرپرست بھی تھے۔
ڈاکٹر محمد مسعود احمدنے جنوبی ایشیا ء کی مسلم تاریخ کے حوالے سے، اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اور دیگر علمائے اہل سنت و جماعت کی ہمہ جہتی خدمات کو اپنی تحقیق سے نہ صرف پاکستان بلکہ بیرونِ پاکستان کے اعلیٰ علمی حلقوں اور اداروں میں متعارف کرایا اور ان کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ مروجہ یک طرفہ تاریخ کو مستند اور حرفِ آخر ماننے کی بجائے تاریخ کے دوسرے پہلو بھی اپنے سامنے رکھیں ۔ڈاکٹر محمد مسعود احمدکی تحقیق و تحریر سے کوئی مکمل طور پر متفق ہو یا نہ ہومگریہ ناممکن ہے کہ اس سے صرف نظر کیا جا سکے۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمدنے نہ صرف کئی تاریخی حقائق کو بے نقاب کیا ہے۔ بلکہ بعض نئے پہلوؤں اور گوشوں پر از سرِ نو تحقیق کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
بلاشبہ ڈاکٹر محمد مسعود احمدکی رحلت ایک عظیم سانحہ ہے ۔ تاہم قحط الرجال کے اس دور میں ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب مرحوم و مغفور کا بظاہر کوئی متبادل نہ ہونا عظیم تر سانحہ ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اہل سنت و جماعت کو ان دونوں سانحات کو صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ آمین۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مفتی محمد عارف حسین نورانی،
(ضلع بھمبر، آزاد کشمیر)
جملہ صاحبزادگان و اہلِ خانہ مسعودِ ملت ماہرِ رضویات پیرِِ طریقت رہبرِ شریعت عالمِ با عمل حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نقشبندی حنفی نور اللہ مرقدہ!
السلام علیکم !
حضرت قبلہ ڈاکٹر صاحب کے انتقال پُرملال پر آپ کے برابر شریکِ غم ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے محبوب نبیٴِ پاک کے وسیلہٴ جلیلہ سے قبلہ ڈاکٹر صاحب کے درجات بلند فرمائے، پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے! آمین بجاہ طٰہٰ و یٰسین صلی اللہ علیہ وسلم
حضرت علامہ پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسعود احمد مظہری نقشبندی حنفی علیہ رحمۃ الرحمن کا شمار اُن نفوسِ قدسیہ میں ہوتا ہے جن کی زندگیاں حسن صورت و سیرت، خدماتِ دینیہ امتِ مسلمہ کے لیے مینارہٴِ نور کی حیثیت رکھتی ہیں۔
آپ نے عام روش وطریقہ سے ہٹ کر خدمتِ دین کا فریضہ سر انجام دیا ہے جس کے اثرات صدیوں تک رہیں گے۔ امت مسلمہ آپ کی خدماتِ دین جو تحریری صورت یعنی تالیفات و تصنیفات کی صورت میں موجود ہیں، سے مستفید ہوتی رہے گی۔ آپ حوادثِ زمانہ کا شکار نہیں ہوئے اُن اہلِ علم کی طرح جوجانتے ہوئے یہ حق ہے اور یہ باطل ہے اظہارِ حق کا اظہار صلح کلی طریقہ سے کرتے ہیں، جو کہ موٴمنانہ شان کے خلاف ہے۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب فدائے کوچہٴ حبیب صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم تھے۔ آپ نے مجددِ دین و ملت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں حنفی قادری برکاتی علیہ رحمۃ الرحمن جنہوں نے چودھویں صدی ہجری میں حقیقی معنوں میں خدمتِ دین کا فریضہ سرانجام دیا، نوزائیدہ فتنے جنہوں نے اُمتِ مسلمہ کا شیرازہ اور اتحاد توڑنے کا مذموم کردار اداکیا، کی سرکوبی کی۔ ناموسِ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا پہرا دیا جب بھی کسی ناموسِ رسالت کے دشمن نے سر اُٹھایامحدثِ بریلوی کاقلم تحفظِ مقامِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کیلیے حرکت میں آگیا۔ گستاخانِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کیفرِ کردار تک پہنچایا۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا پر اُس وقت کام کیا جب اعلیٰ حضرت کا نام لینا معیوب سمجھاجاتا تھا۔ لوگ آپ کی دینی خدمات سے نابلد تھے۔ فضیلت یہ ہے کہ دشمن گواہی دیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب نے اعلٰی حضرت امام احمد رضا خاں نور اللہ مرقدہ پر جو کام کیا ایک بد مذھب کو کہنا پڑا کہ ہم نے مولانا احمد رضا کو دفن کردیا تھا، ایک پروفیسر نے دوبارہ زندہ کردیا۔ اب ہمیں پچاس سال کام کرنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب نبیٴ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہٴ جلیلہ سے آپ کی دینی خدمات کو قبول فرمائے!ادارہٴِ تحقیقاتِ امام احمد رضا وادارہٴ مسعودیہ، کراچی کو حسبِ سابق آپ کا پیغام امتِ مسلمہ تک پہنچانے میں سرخرو فرمائے!

اللہ تعالیٰ تمام اہلِ سنت کے علماء و مشائخ کو ڈاکٹر صاحب کی طرح حقیقی معنوں میں خدمتِ دین کا فریضہ سرانجام دینے کی توفیق عطا فرمائے جس سے امتِ مسلمہ اہلِ سنت و جماعت کا فروغ و تحفظ ہوسکے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر صاحبزادہ ساجد الرحمن
(مدیر ”فکر و نظر “، اسلام آباد، پاکستان)
گرامیٴِ مرتبت سید وجاہت رسول قادری دامت برکاتہم العالیہ
چند روز پہلے عزیزِمحترم پروفیسر مجیب احمد صاحب کی وساطت سے مسعودِ ملّت پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے انتقال کی خبر سننے میں آئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب بلاشبہ اہلِ سنت کے عظیم محسن تھے۔ فکرِ رضا سے آگاہی کے لیے اُنہوں نے جس جانفشانی سے خدمات سرانجام دیں وہ قابلِ رشک بھی ہیں اور لائقِ تقلید بھی۔ اُن کی فکر میں بھی ندرت تھی اور تحریر بھی منفرد اُسلوب کی حامل تھی۔ فکرِ رضا کے ساتھ ساتھ برصغیر کی نابغہٴِ روزگار شخصیت حضرت امام ربانی مجددِ الفِ ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حیات و تعلیمات پر اُن کاکام تصوّف کے ادبی سرمائے میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ ”جہانِ امامِ ربانی“ میں جہاں مرحوم نے حضرت مجددِ الفِ ثانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی حیات اور فکر کی تمام جہات کو ملحوظ رکھا اور ہر جہت پر قاری کی تشفی کا سامان فراہم کیا وہاں مجددِی سلسلے کی اہم خانقاہوں کو نہایت عمدگی کے ساتھ متعارف کروایا۔
آپ کا گرامی نامہ آج موٴرخہ 20/مئی 2008 کو موصول ہوا جس میں تقاضہ کیا گیا کہ 25/مئی 2008تک مرحوم و مغفور کی شخصیت یا اُن کے علمی مقام و مرتبہ سے متعلق مقالہ قلمبند کرکے آپ کی خدمت میں پہنچایا جائے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی انتہائی وقیع شخصیت پر کچھ لکھنا ایک دو روز میں ممکن نہیں، اس لیے انتہائی ادب کے ساتھ معذرت خواہ ہوں۔

دعا گو ہوں اللہ رب العزت ڈاکٹر صاحب مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ نصیب فرمائے اور جن پاکانِ اُمت کے ساتھ وہ بے پناہ محبت رکھتے تھے، اُنہی کے ساتھ حشر میں اُٹھنا نصیب فرمائے! آمین بجاہ سیّد المرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و بارک وسلم۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سید محمد عبد اللہ قادری
(واہ کینٹ، پنجاب، پاکستان)
محترم المقام صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری صاحب زیدمجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ کی رحلت سے دنیائے علم و ادب، اہلِ سنت و جماعت ایک عظیم نقصان سے دوچار ہوئے ہیں۔ انہوں نے عمر بھر خدمتِ ادب، تعلیماتِ امام احمد رضا، تعلیماتِ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہما کو اجاگر کرنے میں صَرف کردی۔

آپ اور آپ کا ادارہ معارفِ رضا، ان کی سرپرستی سے محروم ہوگیا ہے۔ اب آپ کے ادارہ کے بانی حضرت سید ریاست علی قادری، اول نائب صدر الحاج شفیع محمد قادری، سرپرستِ اعلیٰ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہم سبھی اللہ کو پیارے ہوگئے ہیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ بہت اچھے ادیب، محقق، سوانح نگار، مبصر اور استاذ تھے۔ عمر بھر ان کا قلم رواں دواں رہا ہے۔ آپ نے جس موضوع پر کام کیا، قلم نے بھرپور ساتھ دیا۔ بہت یادگار کام کیا جسے قوم و ملت مدتوں یاد رکھے گی۔ پروفیسر صاحب جیسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ ادارہ ایک بالغ نظر شخصیت سے محروم ہوگیا ہے۔ میری طرف سے پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب اور ادارہ کے سب معاونین سے تعزیت فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ صدقہ نبی روف الرحیم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے پروفیسر صاحب کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے اور ہمیں صبر کی استقامت نصیب فرمائے۔ برادرِ مکرم صاحبزادہ محمد مسرور احمد صاحب مدظلہ کو علیحدہ خط تحریر کردیا ہے۔ معارفِ رضا کا شمارہ اپریل/ مئی 2008ء (جلال الملت نمبر) مل گیا ہے۔ ذرہ نوازی کا شکریہ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد ندیم اختر القادری رضوی
یہ حقیقت ہے اور امر مُسَلَّم ہے کہ جب بھی اللہ تبارک و تعالیٰ کے کسی نیک بندے نے اپنے بڑوں کے بتائے ہوئے پیغامِ قرآن و سنت کو انہی کے طریقہ ہائے مبارک کے مطابق آگے سے آگے اپنی موجودہ اور آنے والی نسلوں کی بقا کے لیے پھیلایا ہے تو اس بندہٴ مومن کے کام میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب دانائے غیوب فخر کون و مکان راحتِ انس و جاں صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں اتنی برکت و وسعت عطا فرمائی ہے کہ عام بندہٴ مومن اس کا ادراک و فہم نہیں رکھ سکتا۔

حضرت الشاہ امام ربانی شیخ احمد نقشبندی سرہندی المعروف مجدد الف ثانی اور اعلیٰ حضرت امام اہلسنّت الشاہ امام احمد رضا خاں قادری برکاتی فاضلِ بریلوی رضی اللہ عنہما کی ذواتِ مقدسہ سے خصوصی اور والہانہ وابستگی ہی کی برکت ہے کہ آج جب بھی ہمارے سامنے یا ہمارے اذہان میں یہ مجموعہٴ ہر دو الفاظ ”مسعودِ ملت“ اور ”ماہرِ رضویات“ آتے ہیں تو ہماری نظروں کے سامنے ایک ایسا حسین و جمیل و نورانی پیکر ابھرتا ہے، ایک ایسا شفیق وجود سامنے آتا ہے جسے دنیائے اسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی کے نام سے جانتی ہے۔

حضرت مسعودِ ملت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شخصیت اور آپ کے علمی کارہائے نمایاں کے متعلق تفصیل سے لکھنا اس بندہٴ عاجز و کمتر کے بس میں نہیں ہے۔

تقریباً پینتیس برس قبل جب آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں قادری رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور علمی کارناموں کے حوالہ سے کام شروع کیا تو اس وقت برصغیر پاک و ہند میں بالخصوص اور باقی دنیا میں بالعموم ایک مخصوص علمی طبقہ تھا جو امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی شخصیت اور ان کے تحریری کارناموں سے واقف و آگاہ تھا۔ لیکن حضرت مسعودِ ملت رحمۃ اللہ علیہ نے امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ پر کام کا آغاز کیا اور ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل کی سرپرستی فرمائی (جوکہ الحمدللہ تادمِ آخر رہی) تو بتدریج دنیا کے گوشے گوشے میں قرآن و حدیث کے احکام پیغامِ رضا کی صورت میں پہنچنے لگے اور عام قاری بھی چودہویں صدی کے عظیم مجدد کی تحاریر سے واقف و آگاہ ہوا۔

یہ حضرت مسعودِ ملت اور ماہرِ رضویات کی شفقت و محبت ہی رہی کہ جس کی بناء پر ”ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل“ اور ”ادارہٴ مسعودیہ“ روز افزوں منازل و مدارجِ ترقی عبور کررہے ہیں۔

میں نے ذاتی طور پر ڈاکٹر صاحب مسعودِ ملت رحمۃ اللہ علیہ کو انتہائی شفیق و مہربان و مہمان نواز پایا۔ کسی بھی معاملہ یا پریشانی میں، میں نے ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے مسئلہ عرض کیا تو آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تسلی بخش جواب عطا فرمایا۔

اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے محبوب دانائے غیوب مخبر صادق صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ و جلیلہٴ خاص سے اور سرکار امام ربانی مجدد الف ثانی اور سرکارِ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ علیہما کے طفیل حضرت مسعود ملت رحمۃ اللہ علیہ کی قبر پر ہمیشگی کی حامل رحمت و رضوان کی برسات فرمائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مجاہد محمد رفیق نقشبندی
(استاذ، الجامعہ نقشبندیہ بستان العلوم، کڈھالہ، ضلع بھمبر، آزاد کشمیر)
جناب سید وجاہت رسول قادری رضوی مدظلہ زید مجدکم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مکرمی جناب سید صاحب چند روز قبل دل کے آنسوؤں کو سیاہی بناکر حضرت مسعود ملت کے غم کو اتار چکا ہوں۔ محترم ڈاکٹر مسعود احمد مجددی کی اچانک مفارقت ایک عظیم المیہ ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولیٰ تعالیٰ ان کی مغفرت فرماکر درجات عالیہ عطا فرمائے۔ اہلِ سنت پر مرحوم کے بڑے احسانات ہیں۔ ان کو امام احمد رضا قادری کے مشن سے سرفروشانہ لگاؤ تھا۔ اسی لگن میں جان عزیز جاں آفریں کے سپرد کردی۔ اپنی زندگی کا آخری خط جو میرے نام لکھا، 10/اپریل/ 3/ربیع الآخر کی تحریر ہے۔ دہلی کے مزارات پر حاضری سے جو باطنی و روحانی سکون لے کر آئے، اس کا حصہ دعا کے طور پر ہمیں دیا۔ ان کی حاضریاں قبول ہوئیں، ”جہانِ امام ربانی“ کی تکمیل ان کی زندگی کا آخری امتحان تھا۔ ہماری اور آپ کی ملاقات اور محبت و آگاہی بھی انہیں کے خلوص و محبت کی جلوہ گری ہے۔ انہوں نے بڑے خلوص اور جانکاہی سے امام احمد رضا پر مسلسل 30سال کام کیا۔ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی کو تحریر کے زینوں سے پروان چڑھایا۔ جامعات میں امام احمد رضا قادری علیہ الرحمۃ کا تعارف کرایا۔ سب کی راہنمائی فرمائی۔ انہوں نے سب کو نوازا۔ غیر نام کی کوئی شے ان کی ڈکشنری میں نہ دیکھی جاسکی۔ جو ان سے ملتا، یہ باور کرتا کہ سب سے زیادہ مجھے محبت دی ہے۔ اللہ والوں کی یہی شان ہوتی ہے۔ الحمد للہ اپنے لگائے ہوئے پودوں اور پھولوں کی بہار دیکھ لی۔ اس مشن میں تنہا کام کرکے ایسے ساتھی تلاش کرلئے جو ان کے کام کو مقالات کی صورت میں آگے بڑھائیں گے۔ ان کے نام اور کام کو زندہ رکھیں گے۔ اس حقیر نے ان کے رسائل پڑھ کر اس مشن میں داخلہ لیا اور ان کی قبر انور سے یہی خوشبو اٹھ رہی ہے۔ مجاہد تھکتے نہیں۔ موت ان کو مارتی نہیں، تازہ زندگی دیتی ہے۔ اس ناچیز کے کتب خانے میں آج بھی تقسیم کے لیے ایک ہزار کے قریب مسعودی رسائل موجود ہیں۔ آہ! محبت کی نشانی رسالہ 200 تعداد کا کارٹن میرے سامنے ہے۔ ان کے ہاں سختی نہ دیکھی۔ انہوں نے ہر لمحہ نرمی و آسانی دکھائی۔ اس حقیر نے بعض مواقع پر آپ کے اسٹاف ممبران سے بھی شکوہ کیا۔ محض ان کی محبت میں۔ پھر اسلام آباد 14/اپریل کے سفر میں فقیر سے راز و نیاز میں بہت کچھ ناصحانہ باتیں کیں۔ فرمایا، ”کیا یہ کم صلہ ہے کہ مجھے اور آپ کو ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا میں بٹھاکر اپنی یاد میں لگارکھا ہے۔“ یہی صلہ ہے، یہی انعام ہے۔ ان کی یادیں نہ معلوم کب تک بے قرار کرتی رہیں گی۔ یقینا آپ سب کے لیے بڑا حادثہ ہے۔ وہ دلوں میں زندہ ہیں، آنکھیں ان کی منتظر ہیں۔ وہ فقیر سے بڑی خاص محبت رکھتے تھے۔ ساٹھ کے قریب مراسیل فقط فقیر کے نام اپنے قلم سے رشحاتِ مجددیہ کی روشنی میں لکھے۔ اتنا کرم ہے۔ ان کے آخری محبتی خط میں آپ کے ساتھ بریلی شریف حاضری کی اجازت نہ ملنے پر میرا نام بھی ہے۔ آپ زندگی بھر اب امام احمد رضا قادری کے نشان مسعودِ ملت پر کام کریں۔ اس تعلق کو قائم رکھیں۔ ہم سب آپ کے غم میں شریک ہیں۔ میں کسی موقع کانفرنس پر اپنے دل کو چیر کر ایک مقالاتی تصویر پیش کروں گا۔ وہ میرے دل میں ہیں۔ بے شک جیسے اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے رومی سے عشق کی منزل پائی ہے، یوں ہی مسعودِ ملت نے حضرت امام احمد رضا کے قدم سے مجددِ الف ثانی کے افکار کو زندگی دی ہے۔ ان الفاظ کے ساتھ کراچی کی تیاری کرنا چاہتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے بھائی مسرور میاں کو استقامت عطا فرمائے۔ بیشک ان کے خادموں میں فقیر کا نام بھی رہے گا۔ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا اسلام آباد میں تعزیتوں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ 11/مئی کو ایصالِ ثواب اور ختمِ قرآن کی محفل اور روحانی منظر عزیزی خلیل احمد کے مراسلہ میں پڑھئے گا۔
فروغِ شمع تو قائم رہے گا روزِ محشر تک
مگر محفل تو پروانوں سے خالی ہوتی جاتی ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد طفیل قادری
(کمپیوٹر سینٹر، نیشنل بینک آف پاکستان، سوک سینٹر ، اسلام آباد)
ابھی تک یہ ناچیز گزشتہ سال ستمبر 2007ء میں تحقیق و تصنیف کے میدان کے شہہ سوار شرف ملت، فخر اہل سنت ، شیخ الحدیث، علامہ محمد عبدالحکیم شرف قادری اور اس سال جنوری 2008ء میں نامور بزرگ عالم دین، سرمایہ اہل سنت ، محدث اعظم جناب مولانا سردار احمد کے لائق اور بے مثال شاگرد اور مفسر قرآن محترم جناب مفتی محمد جلال الدین قادری رحمہم اللہ تعالیٰ کے وصال پر ملال کے صدمہ جانکاہ سے متاثر ہو کر رنج و الم سے باہر نہ نکل پایا تھا کہ جیو ٹی وی پر یہ اندوہناک خبر دیکھی کہ ادارئہ مسعودیہ اور ادارئہ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی کے سرپرست اعلیٰ نامور ماہر تعلیم ، رئیس المحققین، ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وصال فرماگئے ہیں۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن

اس خبرپر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ ہی نہ تھا۔ کیونکہ ہمیں تو ہمیشہ رضائے الٰہی پر قائم رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ اور خود محترم ڈاکٹر محمد مسعود احمدنقشبندی رحمۃ اللہ تعالیٰ کی تعلیمات سے بھی ہمیں ہر مشکل میں رضائے الٰہی پر صبروشکر سے کام لینے کا درس ملتا ہے۔

اس مختصر سے عرصہ میں ان محترم ہستیوں خاص طور پر پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کا وصال ہمارے لیے، ادارئہ مسعودیہ کے لیے ، امام ربّانی فاؤنڈیشن کے لیے اور خاص طور پر مسلک اہل سنت وجماعت کا بہت بڑا نقصان ہے۔ اللہ پاک سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب احمد مجتبیٰ محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل محترم جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ علیہ پر ابر کرم کا سایہ رکھتے ہوئے ہوئے جنت الفردوس میں اعلیٰ وارفع مقام عطا فرمائے، پسماندگان ،مریدین، ادارہٴ مسعودیہ ، ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا اور امام ربّانی فاؤنڈیشن کے تمام احباب کو یہ صدمہ صبروحوصلہ کے ساتھ برداشت کرنے اور اُس صبرِ جمیل پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ (آمین)

حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کی علمی اور تحقیقی کاوشوں خاص طور پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ فاضل بریلوی پر ڈاکٹر صاحب کی تحقیقی و تصنیفی خدمات کو کبھی بھلایا نہ جاسکے گا۔
دنیا جانتی ہے1921ء میں امام اہل سنت فاضل بریلوی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قدس سرہ کے وصال پر دشمنان امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باچھیں کھل اٹھی تھیں۔ جس سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ کے مخالفین کے حوصلے بلند ہوئے۔ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد مخالفین نے دین کے نام پر من پسند تحریروں کا آغاز کیا۔ نئے نئے خیالات نئے نئے نظریات سامنے آرہے تھے۔ بھانت بھانت کی بولیاں بولی جانے لگیں۔کیونکہ جوجو کام یہ دیوبند والے اعلیٰ حضرت کی زندگی میں نہ کرسکے ان کواعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ کے وصال کے بعد شروع کردیا۔ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان کی زندگی میں ہی کوئی کہنے لگا کہ خاتم النبین کا یہ مطلب نہیں کہ پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم سب میں آخری نبی ہیں، کوئی کہہ رہا تھا کہ اللہ جھوٹ بولنے پر قادر ہے اور کوئی کہہ رہا تھا کہ میلادالنبی صلی اللہ علیہ وسلم کی محفل کرانا یا اس میں شریک ہوناناجائز بلکہ معاذ اللہ شرک ہے۔مطلب یہ کہ ان دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان وکمالات والی کوئی بات عامۃ المسلمین تک نہ پہنچی۔

1921ء سے 1970ء تک دیوبندی علماء نے کھل کر امام اہل سنت امام احمد رضا پرکیچڑ اچھالا، شرک شرک کے فتوے تو ہر قدم پر لگائے گئے۔

حالانکہ اعلیٰ حضرت سے پہلے کے حالات کو یوں بیان کروں۔ کفار ومشرکین ہندسے مسلمانوں کا اتحاد کرایا گیا۔ ان کو بھائی بنایا گیا۔ ان کو منبر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر بٹھایا گیا۔ ان کے لیے مسجدوں میں فاتحہ خوانی کی گئی۔ ان کی خاطر گائے کی قربانی ترک کی گئی ۔ گاندھی کواپنا امام بنایا۔ عام و خواص سب ان کے پیچھے چلتے تھے۔

معاشی اور تجارتی حالات بھی ان سے مختلف نہ تھے۔ ادھر ہندو اس فکر میں لگے تھے کہ مسلمانوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیں۔ان سب حالات میں جب امام احمدرضا خان نے قرآن،حدیث، تفسیر، فقہ پر خوب کام کیا۔ وہ پچاس سے زیادہ علوم و فنون میں دسترس رکھتے تھے۔ بلکہ وہ ہر علم و فن میں اپنی یادگار چھوڑ گئے۔ بس ہر کام کرنا فرد واحد کے بس کی بات نہیں ۔ اعلیٰ حضرت کے اس مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے دشمنان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینے کے لیے اللہ تعالیٰ نے پروفیسر ڈاکٹر محمدمسعود احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ کو چن لیا۔ اور ماشاء اللہ خوب اپنی رضا کے مطابق اللہ پاک نے ڈاکٹر صاحب سے کام لیا۔

الحمداللہ اس مفکر اسلام ، ماہر تعلیم ، رئیس المحققین نے اعلیٰ حضرت کے مقالات پر تحقیقی کام جاری رکھا۔ تحقیقی کام کرتے ہوئے 1970ء سے کام شروع کیا۔تقریباً 40برس تک اعلیٰ حضرت ہی پر لکھا۔ آپ نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ کی بسیط سوانح کا خاکہ مرتب کرکے 1982ء میں ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا سے شائع کرایا۔ اس میں اعلیٰ حضرت کی سوانح کو15جلدوں میں سمیٹنے کی کوشش کی ۔ جس سے اعلیٰ حضرت کی سوانح کی وسعت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ حضرت ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ذاتی لائبریری میں تیس سے زیادہ علوم و فنون پر احمد رضا کے ایک سو سے زیادہ مخطوطات کے عکس موجود ہیں۔مطبوعات اس کے علاوہ ہیں۔ ان کی تعداد بھی 100سے کم نہ ہوگی۔ یہ تمام مخطوطات ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے بانی اور صدرِ اول مولانا سید ریاست علی قادری علیہ الرحمۃ اور بعد میں موجودہ صدرِ ادارہ محترم سید وجاہت رسول قادری صاحب بریلی شریف سے لائے تھے۔ کچھ مخطوطات حضرت علامہ مولانا تقدس علی خاں علیہ الرحمۃ نے بھی ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور کو دیئے تھے۔
اس طرح پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحبرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ان کے رفقاء کی شب و روز محنت کے بعد امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ کے نام کا ملک و بیرون ملک چرچا ہونے لگا۔ تو محققین، دانشوروں کی تیرہ سالہ جدوجہد رنگ لائی، تو یہ بات احمد رضا کے مخالفین کو پھر ایک آنکھ نہ بھائی۔ وہ پھر فکر میں پڑ گئے کہ کریں تو کیا کریں۔بلکہ مخالفین کے ایک فاضل نے تو یہاں تک کہہ دیا ۔ کہ احمد رضا کو تو ہم عرصہ پہلے دفن کر چکے تھے، اب فلاں پروفیسر (یعنی مفکر اسلام ، رہبر شریعت و طریقت مسعود ملت جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ ) نے اعلیٰ حضرت کو دوبارہ قبر سے نکالا ہے۔ اب اسے دفن کرنے میں نصف صدی لگ جائے گی۔

پھر دنیا نے دیکھ لیا کہ پروفیسر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے الحمداللہ اعلیٰ حضرت کے مشن کو رضائے الٰہی اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں نہایت جرات ، نہایت ایمانداری اور بہت ہی محبت سے آگے بڑھایا۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رحمۃ اللہ تعالیٰ کے علاوہ امام ربّانی پر بھی ڈاکٹر صاحب نے خوب کام کیا۔اس عظیم ہستی پر بھی تقریباً 15جلدیں مکمل کرڈالیں۔ حضرت ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کے والد گرامی محترم سیدی مرشدی مفتی مظہراللہ نے قرآن پاک کی تفسیر لکھی تو حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ نے اپنی نگرانی میں اس تفسیر ( تفسیر مظہرالقرآن) کو شائع کرایا۔ اس کے علاوہ حضرت ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ ے بے حساب مقالے تحریر فرمائے۔ ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کی اس تحقیقی اور علمی کاوشوں کی وجہ سے بھارت میں بھی علمائے اہل سنت کے دل میں ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ کے لیے بڑا ادب و احترام دیکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بھی ڈاکٹر صاحب کی زندگی کے کئی پہلو ہیں۔ذاتی تعلق، علم دوستی، اپنے مریدین کی رہبری بلکہ ان کی حیات مبارکہ کا ایک ایک پہلو حلیم ، نفیس تھا۔اللہ پاک اپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل ڈاکٹر صاحب کی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مبنی جدوجہد کو قبول فرماتے ہوئے ان پر اپنی رحیمی اور کریمی کی عنایات فرماتے ہوئے پیارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شفاعت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب عطافرمائے ۔ اور ہم سب کو بھی ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اسی اجروانعام سے نواز دے۔(آمین بجاہ سیدالمرسلین)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت علامہ محمد سبحان رضا خاں قادری سبحانی میاں مدظلہ العالی
(سجادہ نشین، خانقاہِ عالیہ رضویہ و مہتمم جامعہ منظر اسلام، بریلی شریف، یوپی، الہند)

مر کے ٹوٹا ہے کہیں سلسلہٴ قید و حیات
فرق اتنا ہے کہ زنجیر بدل جاتی ہے
مَوْتُ الْعَالِمْ مَوْتُ الْعَالَمْ
موت اس کی ہے جس کا کرے زمانہ افسوس
یوں تو دنیا میں سبھی آتے ہیں مرنے کے لیے

غمزدہ ذہن و فکر کے ساتھ یہ چند سطر لکھنے کی سعادت حاصل کررہا ہوں۔ عاشقِ رسول، فدائے اعلیٰ حضرت، محب خانوادہٴ رضویہ، مجمع البرکات، ماہرِ رضویات حضرت علامہ الحاج الشاہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب نقشبندی دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے داعیٴ اجل کو لبیک کہا اور وصالِ حق سے سرشار ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔

وصال کی خبر آتے ہی مرکزِ اہلسنّت دارالعلوم منظر اسلام میں قرآن خوانی و ایصالِ ثواب کا اہتمام کیا گیا اور دنیائے سنّیت کے اس عظیم رہنما، فدائے اعلیٰ حضرت، ناشر مسلک اعلیٰ حضرت، حضرت مسعودِ ملت کی روح پُرفتوح کو ایصالِ ثواب کرکے ان کی خدماتِ دینیہ کو سراہتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ بارگاہِ مجددِ اعظم، امام اہلسنّت، سرکار اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں صاحب فاضلِ بریلوی قدس سرہ میں حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کو یاد کرکے ان کی پاکیزہ روح کو طمانیت پہنچائی گئی۔ مولیٰ تعالیٰ شرفِ قبولیت فرمائے! آمین۔

ابھی ماضی قریب میں جب ماہرِ رضویات حضرت مسعود ملت دہلی تشریف لائے تھے۔ تو فقیر نے دہلی فون کیا تھا یہ حسن اتفاق کہ فون حضرت مسعود ملت ہی نے اٹھایا۔ بڑی مسرت ہوئی فقیر نے سلام و تحیت کے بعد حضرت علیہ الرحمہ سے خیریت و حالات معلوم کئے۔ حضرت نے نہایت محبت اور بڑے پیار سے گفتگو فرمائی۔ اپنی خیریت بتائی اور فقیر کی خیریت اور بریلی شریف کے حالات دریافت فرمائے۔ کافی دیر نہایت پیار و محبت کے ماحول میں تبادلہٴ خیالات اور خیر و عافیت پر گفتگو ہوتی رہی۔ فقیر نے بریلی شریف تشریف لانے کی دعوت پیش کی اور کافی اصرار کیا کہ حضرت کم از کم ایک دو یوم کے لیے بریلی شریف فقیر خانہ میں ضرور تشریف لے آئیں۔ مگر حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ نے معقول عذر ارشاد فرمایا جس کے بعد فقیر نے مزید اصرار نہیں کیا۔ گزشتہ سالوں میں حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ بریلی شریف بارگاہِ اعلیٰ حضرت قدس سرہ اور مرکزِ اہلِ سنت منظر اسلام میں تشریف لاتے رہے ہیں۔ یہاں حضرت کے شایانِ شان فقیر نے اور دارالعلوم کے اساتذہٴ کرام اور طلبہ نے نیز خدام خانقاہِ عالیہ رضویہ نے استقبال کیا۔ استقبالیہ محافل کرکے سپاس نامے پیش کئے۔ حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ نے نہایت پُرمغز اپنے کلماتِ طیبات سے اہلِ محفل کو نوازا اور سیدنا اعلیٰ حضرت و مسلکِ اعلیٰ حضرت و خانوادہٴ اعلیٰ حضرت سے اپنے دیرینہ تعلقات کو بتاتے ہوئے فقیر کے جدِّ کریم سیدنا اعلیٰ حضرت اور ان کی تصنیفات سے اپنا جو ایمانی تعلق بتایا، وہ آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہے۔
ماہرِ رضویات حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ نے جب سے فتاویٰ رضویہ شریف اور دوسرے رسائل و کتب اعلیٰ حضرت کا مطالعہ شروع کیا تو وہ تصنیفاتِ اعلیٰ حضرت ہی کے ہوکر رہ گئے۔ کچھ اس عقیدت اور جانفشانی سے کتبِ اعلیٰ حضرت مطالعہ میں آپ نے رکھیں کہ جس کتاب کو دیکھا، اس کے کسی گوشے کو تشنہ نہیں چھوڑا۔ پھر آپ کی پاکیزہ طبیعت نے رضویات پر لکھنے پر مجبور کیا۔ الحمد للہ تعالیٰ گہرے مطالعہ کے بعد جب آپ نے رضویات پر قلم اٹھایا تو دنیائے سنیّت کو آپ کے قلم کی پختگی اور آپ کے ذہن و فکر کی جولانیت کا اعتراف کرنا پڑا اور صرف یہی نہیں کہ اعتراف ہی پر اکتفا کیا بلکہ رضویات پر آپ کی تصانیف کو دیکھ کر اہلِ سنت کے بڑے بڑے صاحبِ قلم حضرات نے آپ کو ماہرِ رضویات کے مبارک خطاب سے یاد کیا۔ آپ کا خطاب رہتی دنیا تک زندہٴ جاوید رہے گا۔ رضوی خانوادہ دل کی گہرائی سے یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ حضرت مسعودِ ملت علیہ الرحمہ پر خاص چشمِ کرم اور بے پایاں فیضان تھا، مجددِ دین و ملت سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ کا، ورنہ سیدنا اعلیٰ حضرت کے علمی فضل و کمال پر دلائل و براہین کے ساتھ لکھنا ہر کس و ناکس کا کام نہیں۔ اول تو سیدنا اعلیٰ حضرت کی تحریرات کو سمجھنا، پھر جس مسئلے پر اعلیٰ حضرت نے قلم اٹھایا ہے، اس مسئلہ کا احاطہ، پھر جن براہین سے اس مسئلہ کو مبرہن کیا ہے، ان براہین کی معرفت پھر اپنے مافی الضمیر کو اس اسلوب سے ضبطِ تحریر میں لانا کہ خواص تو خواص، عوام کی سمجھ میں آجائے۔ یہ تمام باتیں بے فیضانِ صاحبِ کتاب ممکن نہیں۔ شک نہیں کہ حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ اپنی اس کاوش میں ممتاز و منفرد نظر آتے ہیں۔ آپ نے رضویات پر جتنا لکھا ہے اتنا شاید ان کے دور میں کسی نے بھی نہیں لکھا۔ آپ نے جہاں اعلیٰ حضرت کے علمی فضل و کمال پر لکھا، وہیں باغیانِ نبوت، دشمنانِ اسلام نے سیدنا اعلیٰ حضرت پر جو جاہلانہ اعتراضات کئے ہیں، ان جاہلانہ اعتراضات کے جوابات بھی نہایت مدلل انداز میں دیئے ہیں۔ آپ کی تصانیف و تالیفات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ کے سینے میں مناظرانہ صلاحیت کا ایک بحر ذخار موجزن تھا۔ آج تمام باغیان نبوت و دشمنانِ اسلام دم بخود ہیں کہ حضرت مسعودِ ملت کی تحریرات کا سامنا کیا جائے تو کیسے کیا جائے۔ بہرحال اہلسنّت کی جانب سے اپنے دور میں حضرت مسعود ملت نے جو علمی کار ہائے نمایاں انجام دیئے اور رضویات پر جو تحقیقی کام کیا ہے، وہ بے شبہ تحسین کا استحقاق رکھتے ہیں۔ جماعتِ اہلسنّت پر ان کا علمی و قلمی احسان رہتی دنیا تک پائندہ و تابندہ رہے گا۔

فقیر اور فقیر کے خانوادے نے ہمیشہ حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کی علمی کاوشوں کو سراہا اور آپ سے بے پناہ محبت کی۔ اعراس مبارکہ اور دعا کے ہر موقع پر آپ کے لیے مخصوص دعائیں کی گئیں۔ آج وہ ہم میں نہیں مگر قلمی و ذہنی طور پر ہم سے قریب ہیں۔ ان کی یادیں ہمارے دلوں میں تازہ ہیں، ان کے کارہائے نمایاں ہماری نگاہوں کے سامنے ہیں۔ رضویات پر ان کے ماہر قلم اور ان کے ذہن و فکر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دست بدعا ہیں کہ اللہ رب العزت ہمارے حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کو کروٹ کروٹ رحمت ِ الٰہی نصیب ہو، سرکارِ ابد قرار صلی اللہ علیہ وسلم کے طفیل عیش ابد میسر آئے، جملہ سلاسل شریعت و طریقت کے مشائخ علیہم الرضوان کی برکات بالخصوص مجدد دینِ اسلام حضرت سیدنا شیخ احمد سرہندی و حضور سیدنا اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہما کے فیضان سے عالم برزخ میں مستفید و مستفیض رہیں۔ نیز حضرت کے پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور حضرت کے خاندان میں حضرت کا نعم البدل عطا فرمائے! آمین یارب العالمین بجاہ سید المرسلین علیہ افضل الصلوات والتسلیم۔
خانوادہٴ رضویہ حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کے اعزا و معتقدین کے غم میں برابر کا شریک ہے۔
سوگوار، دعاگو
فقیر قادری محمد سبحان رضا خاں سبحانی غفرلہ
سجادہ نشین، خانقاہِ عالیہ رضویہ و مہتمم جامعہ منظر اسلام، بریلی شریف، یوپی، الہند

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر رضاء الرحمن عاکف سنبھلی
(ایم۔اے، پی۔ایچ۔ڈی، سرائے سنبھل، ضلع مراد آباد، یوپی، انڈیا)

حضور مسعود ملت کی ذات والا صفات کسی طرح بھی محتاجِ تعارف نہیں۔ آپ نے اپنی گراں قدر علمی خدمات کے توسط سے اہلِ علم میں جو مخصوص و نمایاں مقام حاصل کیا، وہ آپ کا اپنا ہی حصہ ہے۔ راقم الحروف ان کے گراں قدر علمی و تحقیقی کارناموں کا ہی قدر دان نہیں بلکہ ان کو سرمایہٴ امت بھی سمجھتا رہا۔ کیوں کہ اس کو یقینِ کامل ہے کہ آں مرحوم جیسی عظیم عبقری شخصیات کسی خاندان، شہر یا ملک کی ہی میراث نہیں ہوا کرتیں بلکہ وہ عطیہٴ الٰہی ہونے کی وجہ سے ہمیشہ ہی تمام عالم اسلام کی عزت و آبرو تسلیم کی جاتی رہی ہیں۔ حضور مسعودِ ملت جنہیں اب رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آرہا ہے، مرحوم لکھتے ہوئے قلم کانپ رہا ہے، کوئی ایسی معمولی شخصیت نہیں کہ جن پر یہ چند سطور لکھ کر ہی ان کا حق ادا ہوجائے۔ بلکہ آں مرحوم ذات و صفات اور ان کی عظیم علمی خدمات اس لائق ہیں کہ ان میں سے ہر ایک پر طویل مقالات اور مفصل تصانیف تحریر کی جائیں، سمپوزیم اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ تب بھی ان کا حق پوری طرح سے ادا نہ ہوپائے گا تو یہ کسی طرح کی دروغ گوئی یا کج بیانی نہ ہوگی۔
راقم الحروف کے حضور مسعودِ ملت کا معتقد و معترف ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آں موصوف اپنے ایک مخصوص اندازِ نگارش اور طرزِ تحریر کے موجد و مالک ہیں۔ آپ نے رضویات کو جس طرح سے ایک نئی جہت و انداز عطا کیا، اس نے اس قبیل کے قلم کاروں کو نئی روشنی عطا کی ہے۔ قلم پکڑنے کا شعور بخشا ہے اور تحریر پر دسترس حاصل کرنے کا حوصلہ دیا ہے۔ واقعی مسعودِ ملت کا اندازِ تحریر پوری طرح سے جاد و بیاں ہوتا ہے۔ آپ کے اندازِ بیاں کی نیرنگیوں نے ایک معمولی واقعے کو بھی ناقابلِ فراموش حقیقت بنادیا ہے۔ ایک ادنیٰ تحریر بھی ان کی جنبشِ قلم سے حیاتِ جاودانی پاگئی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آپ کے اندازِ تحریر اور طریقہٴ عمل سے تحریک پاکر ہم جیسے نوواردوں نے بھی ایک نئے عزم و حوصلے کے ساتھ رضویات اور متعلقاتِ رضویات کو دنیا کے سامنے نئے اور خوبصورت اسلوب میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔

حضور مسعودِ ملت کا ایک اور عظیم کارنامہ رضویات پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے ایک آئیڈیالوجی تیار کرنا بھی ہے۔ آپ کی زیرِ نگرانی عالمی جامعات میں تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے رضویات سے متعلق جو خاکے (Synopsis) تیار کئے گئے، وہ یقینا اس لائق ہیں کہ ان پر سنجیدگی سے کام کیا جائے۔ اس طرح پختہ یقین ہے کہ ہم اعلیٰ حضرت امام اہلِ سنت و طریقت احمد رضا خاں علیہ الرحمۃ کی شخصیت اور ان کے عظیم علمی و دینی کاموں کو نئے انداز و اسلوب کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرسکیں گے اور دنیائے علم و عرفاں مسلکِ اعلیٰ حضرت کو صحیح طرح سے سمجھنے کی کوشش کرے گی۔ یقینِ محکم ہے کہ حضور مسعودِ ملت نے امام الاتقیاء حامی الاولیا حامیٴ سنت ماحیٴ بدعت فاضلِ بریلوی علیہ الرحمۃ کی شخصیت و خدمات کے متعلق ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا کا جو خاکہ پیش کیا ہے، اگر اسی انداز و نہج پر وہ کام انجام پذیر ہوجاتے تو دنیا پر اعلیٰ حضرت کی علمی برتری مزید اجاگر ہوجاتی۔ مختصر یہ کہ آپ گوناگوں صفات کے حامل اور علوم وفنون کے کامل تھے۔ آپ کے اسلوبِ نگارش پر راقم الحروف عنقریب ایک تفصیلی تحریر ضبطِ قلم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
غرض کہ میدانِ کارزارِ حیات میں اپنی علمی و فنی صلاحیتوں کی گہرافشانی اور تخلیقی و تحقیقی جواہرات کی بارشِ نورانی کرتے ہوئے علم و عرفاں کا یہ نیر اعظم 22/ربیع الثانی 1429ھ مطابق 28/اپریل 2008ء بروز پیر بوقت بعد نمازِ مغرب واصل بحق ہوا اور اپنے محبین و منتسبین کو ملول و مغموم کرگیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون) یقینا آپ کا سانحہٴ ارتحال پوری ملت اور عالمِ اسلام کے لیے ایک سانحہٴ دلخراش بالخصوص مسلک اعلیٰ حضرت کے وابستگان کے لیے بڑا ہی جان کاہ ثابت ہوا۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ برصغیر کے اس نامور اہلِ قلم اور ماہرِ رضویات کو اپنے خاص الخاص مقربین میں جگہ عطا فرمائے اور انہیں دائمی راحت و سلامتی سے ہم کنار فرمائے۔ پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ملت و مسلک کو ان کا بہترین نعم البدل عنایت فرمائے۔ (آمین یا الہ العالمین)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر ڈاکٹر رفعت جمال صاحبہ
(صدر، شعبہٴ اردو، بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی، انڈیا)
مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

اس میں شک نہیں کہ فلک کی برسوں کی مشقت جب رنگ لاتی ہے، تب دھرتی کو ڈاکٹر مسعود احمد جیسے انسان ملتے ہیں جن کو زمانہ کبھی فراموش نہیں کرسکتا، کبھی بھولتا نہیں، جن کی تعریف میں قلم کبھی چوکتا نہیں،ذہن ان کی سیرت و صورت سے ہٹتا نہیں۔۔۔ واقعی ڈاکٹر مسعود ایک نام، نرالا کام اور انوکھا انداز۔ ادیب، شاعر و فن کار تو بہت ہوتے ہیں مگر کچھ اندازِ بیاں ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے مدتوں ذہن کے گوشے جگمگاتے ہیں۔ ان ہی میں ایک نام مسعود# صاحب مرحوم کا ہے جنہیں مرحوم لکھتے ہوئے قلم کانپ رہا ہے (اللہ تعالیٰ ان پر رحمت نازل فرمائے)، عقل حیراں ہے اور دل پریشاں۔۔۔ مسعود صاحب ایک قد آور شخصیت، چہرے پر بے پناہ سکون و اعتماد اور ایک چمک دمکِ ایمانی جو انسانی زندگی کو لالہ زار بنادیتی ہے۔ 29/اپریل کو تقریبا رات 8بجے مکرمی وجاہت رسول صاحب نے فون پر ان کی رحلت کی خبر دی۔بے اختیار زبان پر یہی الفاظ آئے، بہت عظیم انسان تھے۔ بس زبان گنگ ہوئی اور الفاظ نے ساتھ چھوڑ دیا۔ بہت دیر تک یہی سوچتی رہی کہ کہاں چلے جاتے ہیں دنیا سے جانے والے لوگ جن کا پتہ بھی چاہو تو پھر ملتا نہیں مگر جب ایک فن کار، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک عاشق، ایک مستانہٴ لوح و قلم رخصت ہوتا ہے تو زمین تڑپتی ہے اور آسمان روتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حضرت مسعود احمد کی جدائی پر محسوس ہوا۔ ایسا شخص جسے نہ صلے کی تمنا نہ ستائش کی پرواہ۔۔۔ وہ تو پردے کے پیچھے رہنا ہی پسند کرتے تھے۔ کبھی اسٹیج پر آنا گوارا نہیں کرتے، فوٹو کھنچوانے سے بھی پرہیز تھا۔ کتنی اعلیٰ اقدار کے مالک تھے۔ احمد رضا بریلوی علیہ الرحمۃ کے عاشق، ان کی تصانیف کے دلدادہ۔۔۔ قلم اٹھتا تو امام الہند کے کسی نہ کسی فن پارے کا احاطہ کرتا نظر آتا۔ رضویات کے علاوہ ان کی تقریباً 200 کتابیں مختلف موضوعات پر ملتی ہیں جن کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ ایسے صاحبِ طرز ادیب تھے کہ آپ نے ہر موضوع سے انصاف کیا اور حق تو یہ ہے کہ اپنے موضوع کا حق ادا کردیا۔ یہی آپ کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاج محمد خان ازہری
(ہیڈ آف اورینٹل اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ، البرکات ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس، علی گڑھ (یو پی) انڈیا)
محترم المقام لائق صد احترام ،جناب سید وجاہت رسول قادری صاحب قبلہ۔ حماہ اللہ و رعاہ۔ السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ
مزاج عوافی!
بروزسہ شنبہ جامعہ البرکات علی گڑھ کی لائبریری میں حسب عادت روزنامہ راشٹریہ سہارا پڑھ رہا تھا اچانک خبر کی ایک سرخی پر نظر پڑی: پروفیسر مسعود احمد کا کراچی میں انتقال ہوگیا،، خبر پڑھتے ہی زبان پر کلمات استرجاء جاری ہوگیے اور ایک لمحہ کے لیے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ میں عالم خواب میں ہوں، دل و دماغ بھی اس خبر کی صداقت کے متعلق شک و ریب میں پڑگئے، چونکہ چند روز قبل ہی پروفیسر صاحب کے بارے میں معلوم ہوا تھا کہ ہندوستان کی راجدھانی دہلی کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے تشریف لائے تھے،اور پہلے سے علالت کی کوئی اطلاع بھی نہیں تھی۔ مگر جب میں لائبریری سے اٹھ کر کمپیوٹر لیب پہنچا اور انٹرنیٹ آن کیا تو آپ کا ای میل ملا ، اس میں تمام تفصیلات پڑھ کر از حد افسوس ہوا۔
برصغیر ہندوپاک میں مرحوم کی شخصیت اور خدمات سے کون شخص ہے جو واقف نہیں! آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دین و ملت بالخصوص مذہب اہل سنت کے فروغ میں گزارا، درجنوں کتابیں تصنیف کیں۔ یہ تحریر کرنا ہرگز مبالغہ نہ ہوگا کہ مسعود ملت رحمہ اللہ تاحیات دین متین کی ترویج و اشاعت کے لیے جہاد بالقلم اور جہاد باللسان کرتے رہے ۔ انہوں نے اپنے آپ کو مسلک اعلی حضرت کے لیے وقف کردیا تھا،مسلک مذکور کی تائید و حمایت میں ان کی گرانقدر تالیفات کو پیش نظر رکھتے ہوئے انہیں ماہر رضویات کا لقب دینا یقینا حق بجانب ہے ۔

جناب باری تعالی میں دست بدعاء ہوں کہ مولائے قدیر مسعودِ ملت کی خدمات کو شرف قبولیت بخشے،اور جماعت اہلِ سنت کو ان کا نعم البدل عطافرمائے،نیز آپ کے متعلقین و محبین کو صبر جمیل کی توفیق عطافرمائے۔ خود مرحوم کے لیے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے دعا گو ہوں:
آسماں ان کی لحد پر شبنم افشانی کرے
حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ محمد ظفر نوری
(چیف ایڈیٹر، ماہنامہ ”الحجاز“، گوالیار، ایم۔پی، انڈیا)
زینتِ بزمِ قرطاس و قلم مکرمی حضرت علامہ مولانا وجاہت رسول صاحب قبلہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
29/اپریل 2008ء بروز منگل، تقریباً صبح 10بجے اپنے لکھنے پڑھنے کے کام میں مشغول تھا کہ اچانک موبائل کی رنگ بجی۔ جب میں نے موبائل رسیو کیا تو استاذ گرامی حضرت علامہ مولانا عبد العلیم صاحب رضوی اندور نے یہ اندوہناک خبر سنائی کہ ماہرِ رضویت مصنف تصانیفِ کثیرہ رئیس التحریر والقلم حضرت علامہ مولانا پروفیسر ڈاکٹر مسعود صاحب کا کراچی میں وصال ہوگیا ہے۔ یہ خبر سن کر کچھ دیر کے لیے میرے اوپر سکتہ سا طاری رہا۔ آنکھوں سے لہو کے آنسو بہنے لگے کیونکہ میں ڈاکٹر صاحب کی تحریر سے بہت مانوس تھا اور کئی بار مجھے ان سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ جب ملا، ہمیشہ شفقت سے پیش آتے اور ہمیشہ کتابوں کا تحفہ عنایت فرمایا۔ وہ یادیں میرے ذہن پر گردش کرنے لگیں جب یہ غمگین خبر جامعہ الحجاز کے مدرسین و متعلمین کو معلوم ہوئی تو ساری فضا سوگوار ہوگئی۔ فوراً مدرسے میں قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا اور ایک تعزیتی پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں شہر گوالیار کے بہت سے علماء کرام، حفاظ کرام اور ائمہ مساجد نے شرکت فرمائی۔ جامعہ کے پرنسپل حضرت مولانا حافظ قاری محمد ذو الفقار صاحب نے ڈاکٹر صاحب کی حیات و خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ”ڈاکٹر صاحب نے رضویات کے سلسلہ میں وہ خدمات انجام دی ہیں جنہیں ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔“ حضرت مولانا شبیر رضابریلوی نے کہا کہ ”ڈاکٹر صاحب کا وصال جماعتِ اہلِ سنت کا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب کسی فردِ واحد کا نام نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی تحریک کا نام تھا۔“ پھر آخر میں 11قرآن شریف، 41سورہ یٰسین شریف، 41بار سورہٴ ملک کا ایصالِ ثواب حضرت علامہ ڈاکٹر پروفیسر مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ کی روح کو پیش کیا پھر صلوٰۃ و سلام پر پروگرام کا اختتام ہوا۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »

پچھلا صفحہ »