<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>&#124;&#124;&#124; FikreAlaHazrat.Net &#124;&#124;&#124;</title>
	<atom:link href="http://fikrealahazrat.net/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://fikrealahazrat.net</link>
	<description>Just another WordPress weblog</description>
	<lastBuildDate>Mon, 01 Mar 2010 13:11:15 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>مسلمان ہونا عزت کافر ہونا ذلت</title>
		<link>http://fikrealahazrat.net/musalmanhonaizzat/</link>
		<comments>http://fikrealahazrat.net/musalmanhonaizzat/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Feb 2010 10:18:23 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Books]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fikrealahazrat.net/?p=9</guid>
		<description><![CDATA[
مسلمان ہونا عزت،  کافر ہونا ذلت
از
شہزادہٴ اعلیٰ حضرت امام الفقہاء مفتی اعظم
حضرت علامہ شاہ محمد مصطفےٰ رضا قادری نوری   
ناشر
ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں۔
۱۔ مسلمانوں کی کون کون قومیں رذیل ہیں۔ جواب بحوالہ کتب اور مدلل مرحمت [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center><br />
<h3>مسلمان ہونا عزت،  کافر ہونا ذلت</h3>
<p>از<br />
شہزادہٴ اعلیٰ حضرت امام الفقہاء مفتی اعظم<br />
حضرت علامہ شاہ محمد مصطفےٰ رضا قادری نوری   </p>
<p>ناشر<br />
ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی</center></p>
<p> کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسائل میں۔<br />
۱۔ مسلمانوں کی کون کون قومیں رذیل ہیں۔ جواب بحوالہ کتب اور مدلل مرحمت ہو۔<br />
۲۔ اصل اور کم اصل کی تعریف کیا ہے۔ اور ان کی شناخت کیا ہے۔<br />
۳۔ محمد ابن عبدالوہاب نجدی۔، مولوی نذیر حسین، مولوی اسمٰعیل مقتول، رشید احمد گنگوہی، خلیل احمد انبیٹھوی، اشرف علی تھانوی، ثناء اللہ امرت سری، عبداللہ چکڑالوی، سر سید احمد خاں نیچری، مرزا غلام احمد قادیانی،  مرزا حیرت دہلوی، عبدالمجید خاں وغیرہم جنہوں نے فرق باطلہ کی بنیادیں ڈالیں، یا ان کی تبلیغ کی، دعویٰ نبوت کیا یہ سب اور ان کی قومیں رذیل ہیں یا نہیں۔<br />
۴۔ اصل طیب کے اکثر یا چند افراد بد مذہب ہوجائیں۔ تو وہ اور ان کی ساری قومیں رزیل کہلانے کی مستحق ہیں یا نہیں۔ بینوا توجروا۔ جواب مدلل مع حوالہ کتب مرحمت ہو۔<br />
مرسلہ حبیب احمد صاحب رضوی قادری پیلی بھیت<br />
(۲۸؍ذی الحجہ ۱۳۳۸ھ)<br />
الجواب:<br />
مسلمان سب بعزت اسلام معزز ہیں۔ قال تعالیٰ وللہ العزہ ولرسولہ وللمومنین۔ اسلام عزت ہے۔ کفر ذلت۔ کافر ذلیل بلکہ ذلیل  تر ہیں۔ قال اللہ تعالیٰ اولئک فی الاذلین۔ پھر تقویٰ و طہارت عزت و کرامت ہے۔ اور فسق و فجور ذلت و حقارت ور ذالت۔ قال تعالیٰ ان اکرمکم عنداللہ اتقاکم۔ اس خالص دینی عزتِ اسلام، پھر عزتِ تقویٰ میں سب برابر نہیں، جواتقی ازروئے ایمان اقویٰ ہے۔ وہ زیادہ معزز، اعز المومنین، اکرم المتقین ہے۔ جس کو ایمان و تقویٰ سے جس قدر حصہ ملا ہے اتنا ہی وہ عزت والا ہے۔ یوں ہیں دینوی عزت میں چھٹائی بڑائی ہے، خدا نے بادشاہ کو عزت دی۔ اس کی دولت اس کی عزت اس کی حکومت۔ فقیر محتاج اس عزتِ دولتِ کرامت سے بے نصیب ہے، بیچ میں جو جتنی  دولت و حکومت و امارت رکھتا ہے۔ اتنا ہی معزز ہے۔ اس میں چھٹائی بڑائی ہے۔<br />
یوں ہی باعتبارِ اخلاق فرقِ مراتب ہے۔ یوں ہیں باعتبار انساب۔ یہ ہوسکتا ہے اور ہوا ہے اور ہوگا کہ ایک فقیر جو عزت دنیا سے بالکل بے نصیب ہو۔ ہو عزت دینی و قوت ایمانی و کرامت تقویٰ سے عنداللہ بادشاہ و غیرہ معززین سے اعز ہو۔ پھر ایک عزت و شرافت شخصی ہے، ایک نوعی، ایک جنسی و صنفی، تو اگر کوئی نوعی یا جنسی شرافت نہیں رکھتا تو شخصی سے بے نصیب ہونا کیا ضرور۔ ہوسکتا ہے کہ شخصی شرافت کے اعتبار سے اعز ہو اگرچہ دوسری قسم کی شرافت اور عزت سے خالی ہو۔<br />
سوائے عزت و شرافت و کرامتِ ایمانی و دینی اور اقسام عزت و شرافت و کرامت کا انکار عقل و نقل سب کو پیٹھ دینا ہے۔ اس کی ضرورت کیا ہے کہ تعین  سے کہلوایا جائے کہ مسلمانوں کی کون سی قومیں رذیل ہیں۔<br />
اس قسم کے سوال کا جواب حضور  پر نور قاسم عزت و نعمت سرکار عالی شان شہنشاہ نبوت ر وسالت ﷺ کے کلامِ معجز نظام نظام خیارکم خیارکم فی الجاھلیۃ سے روشن۔ قرآن و حدیث و فقہ کے احکام تو ظاہر ہی ہیں، مگر ہر ذی عقل پر یہ روشن ہے کہ ’’خدا پنچ انگشت یکساں نکرد‘‘ فلا انساب بینھم یومئذ۔ وانبعک الارذلون۔ اور انا جعلناکم شعوبا وقبائل الایہ کی تفاسیر اور حدیث عن  انس ابن مالک قال قیل یا رسول اللہ مئی تقرک الامر بالمعروف والنھی عن المنکر عن قال اذا اظھر فیکم ما ظھر فی الامم قبلکم۔ قلنا یا رسول اللہ ما ظھر فی الامم قبلنا۔ قال الملک فی صغارکم والفاحشۃ فی کبارکم والعلم فی رذالتکم  (ابن ماجہ) اور حدیث اذا کان الحفاۃ العراۃ رؤس الناس فذالک من اشراطھا۔ (ابن ماجہ)<br />
اصل طیب وہ جو فضائل کی حامل  اور اخلاق حسنہ طیبہ رکھتی ہو۔ کم اصل وہ جو اس سے خالی ہو۔ یہ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص جو باعتبار نسب کم اصل ہو مگر خود فضائل، عمدہ خصائل کا حامل ہو کہ شخصی عزت سے اعلیٰ درجہ کا معزز ہو، مگر یوں معزز ہوکر، جنسی و نوعی عزت  کا اگر منکر  ہوگا تو عقل و نقل سب سے روگرداں ہوگا۔ پان باعتبار اپنی نوع کے معزز ہے۔ اگرچہ کسی عارض سے    کوئی پان کڑوا ہو۔ اس کی کڑواہٹ کو دیکھ کر کوئی کہے کہ پان کی نوع اچھی نہیں ہوتی، اس میں اور نیم میں کیا فرق؟ تو ایسا شخص عقل سے عاری بھی کہا جائے گا، یا کھٹے آم کے درخت میں کوئی پھل خوشبودار خوش مزہ ہو اس سے کوئی عاقل اس درخت کو شیریں آموں کے درخت کے برابر نہ ٹھہرائے گا۔ یہ ہوا اور ہے اور ہوگا کہ اصل طیب کے بعض افراد بگڑ کر کسی اور عزت کے مستحق نہ رہے ہوں، اور ان کی وہ عزت نسبی وغیرہ لائق اعتبار نہ ہی ہو۔ یوں ہی کم اصل کے بعض افراد فضائل سے اراستہ، عمدہ خصائل، اچھے اطوار، بہتر شمائل کے حامل ہوں اور ان فضائل کو دیکھتے ان کی کم اصل ان کے آفتاب فضائل کی تجلی میں گم ہوجائے۔ شرافت نسبی وغیرہ کا اعتبار عقلاً و شرعاً ہر طرح بہت  جگہ ہوتا ہے، اور بعض مواقع پر نہیں کیا جاتا۔<br />
امام فخر الدین رازی زیر آیۃ کریمہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰی کُمْ۔ میں فرماتے ہیں:<br />
فان قیل ھذا مبنی علی عدم اعتبار النسب ولیس کذالک فان للنسب اعتبار اعرفا و شرعا حتی لا یجوز الشریف بالبطی فنقول اذا جاء لا امر العظیم لا یبقی الامر الحقیر معتبرا وذلک فی الحس والشرع والعرف اما فی الحس فلان الکواکب لا تری عند طلوع الشمس ولجناح الذباب دوی ولا یسمع عند ما  یکون راعدی قوی وامافی العرف فلان ما جاء مع الملک لا یبقی لہ اعتبار ولا الیہ التفات اذا علمت ھذا فیھما ففی الشرع کذلک اذا جاء الشرف الدین الا لھی لا یبقی لامر ھناک اعتبار لا نسبت ولا نسکب الا تری۔<br />
ان الکافرون کان من اعلی الناس نسباً والمومن وان کان من ازلھم نسباً لا یقاس احدھما بالآکر و کذلک ما ھو من الدین مع غیرہ ولھذا یصلح للمناصب الدینیۃ کالقضاء والشھادۃ کل شریف ووضیع اذا کان دینا صالحا عالما ولا یصلح لشی منھا فاسق وان کان قرشی النسب و فاروقی النسب ولکن اذا اجتمع فی اثنین الدین المتین واحدھم نسیب ترجع بالنسب عند الناس لا عند اللہ لان اللہ تعالیٰ یقول وان لیس للانسان  الا ماسعی وشرف النسب لا یکتسب ولا یحصل بسعی۔<br />
ملا علی قاری مکی لکھتے ہیں:<br />
المدار علی العلم والتقویٰ لا علی مجرد النسب المعتبر فی الدنیا لا العقبی۔<br />
مواہب لدنیہ کی شرح زرقانی میں ہے:<br />
انما ینظر الاصل والعنصر عند التجلی بالفضائل والتجلی عن الرذائل۔<br />
اشخاص مذکورین فی السوال اگرچہ نسباً اور مال و دولت کے اعتبار سے کیسے ہی زیادہ گنے جاتے ہوں، مگر جب وہ کفر و ارتداد وغیرہ ذلتوں کے گڑھے میں گرے اور نجاسات و فسق و ابتداع و کفر و ارتداد سے ملوث ہوئے۔ اور ان کی وہ فانی عزتیں ساقط اور بے اعتبار ہوگئیں، مگر ان اشخاص کے اپنی عزت پھونک دینے سے ان کی قومی عزتیں نہ جاتی رہیں۔ اصل طیب کے بعض افراد اگر گمراہ یا بدمذہب ہوجائیں، یا معاذ اللہ یوں ہی فرض کیجیے کہ سب ایسے ہوجائیں تو اس سے ان کی اصل میں خرابی نہ ہوگی۔ وھذا ظاھر واللہ تعالیٰ اعلم۔<br />
قیامت کے قریب جب کوئی لا الہ اللہ کہنے والا نہ رہے گا تو کیا ان سب افراد کی کفر کے سبب شرافت انسانیت و کرامت آدمیت ہی جاتی رہے گی، اس وقت بھی جو کفار ہیں اگرچہ وہ اپنے کفر کے سبب اذلین میں ہیں، مگر شرافت انسانیت و عزت آدمیت رکھتے ہیں اگرچہ کفر کے سبب کہیں  وہ اعتبار نہیں کی جاتیں اور کہیں اس حال میں بھی اس کا اعتبار موجود ہو۔<br />
واللہ تعالیٰ اعلم۔<br />
<a title="View Musalman Hona Izzat Kafir Hona Zillat on Scribd" href="http://www.scribd.com/doc/26874466/Musalman-Hona-Izzat-Kafir-Hona-Zillat" style="margin: 12px auto 6px auto; font-family: Helvetica,Arial,Sans-serif; font-style: normal; font-variant: normal; font-weight: normal; font-size: 14px; line-height: normal; font-size-adjust: none; font-stretch: normal; -x-system-font: none; display: block; text-decoration: underline;">Musalman Hona Izzat Kafir Hona Zillat</a> <object id="doc_954411151158286" name="doc_954411151158286" height="600" width="100%" type="application/x-shockwave-flash" data="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf" style="outline:none;" ><param name="movie" value="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf"><param name="wmode" value="opaque"><param name="bgcolor" value="#ffffff"><param name="allowFullScreen" value="true"><param name="allowScriptAccess" value="always"><param name="FlashVars" value="document_id=26874466&#038;access_key=key-1g58eabqbcopknj3d7rb&#038;page=1&#038;viewMode=list"><embed id="doc_954411151158286" name="doc_954411151158286" src="http://d1.scribdassets.com/ScribdViewer.swf?document_id=26874466&#038;access_key=key-1g58eabqbcopknj3d7rb&#038;page=1&#038;viewMode=list" type="application/x-shockwave-flash" allowscriptaccess="always" allowfullscreen="true" height="600" width="100%" wmode="opaque" bgcolor="#ffffff"></embed></object></p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fikrealahazrat.net/musalmanhonaizzat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیانِ شہادت کے احکام سے متعلق</title>
		<link>http://fikrealahazrat.net/hind-taziadari-bayan-shahadat/</link>
		<comments>http://fikrealahazrat.net/hind-taziadari-bayan-shahadat/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 13 Feb 2010 13:40:17 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Books]]></category>
		<category><![CDATA[امام احمد رضا خاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fikrealahazrat.net/?p=6</guid>
		<description><![CDATA[ اَعَالِی الْاِفَادَةِ فِیْ تَعْزِیَۃَ الْھِنْدِ وَبَیَانِ شَھَادَةٍ (۱۳۲۱ھ)
(ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیانِ شہادت کے احکام سے متعلق بلند پایہ فوائد)
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ان احسن تعزیۃ لقلوب المسلمین فیما ھجم من البدعات علی اعلام الدین ان الحمد للہ رب العٰلمین وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علیٰ سیّد الشھداء بالحق یوم القیام وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہ الغرر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong> اَعَالِی الْاِفَادَةِ فِیْ تَعْزِیَۃَ الْھِنْدِ وَبَیَانِ شَھَادَةٍ </strong>(۱۳۲۱ھ)<br />
(ہندوستان میں تعزیہ داری اور بیانِ شہادت کے احکام سے متعلق بلند پایہ فوائد)</p>
<p>بسم اللہ الرحمٰن الرحیم<br />
ان احسن تعزیۃ لقلوب المسلمین فیما ھجم من البدعات علی اعلام الدین ان الحمد للہ رب العٰلمین وافضل الصلوٰۃ واکمل السلام علیٰ سیّد الشھداء بالحق یوم القیام وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہ الغرر الکرام اٰمین!<br />
دینی شعائر پر بدعات کے ہجوم کی وجہ سے مسلمانوں کے دلوں کے لیے بہترین تعزیت، اللہ تعالیٰ رب العالمین کی حمد، اور قیامت کے روز حق  کی شہادت دینے والوں کے سردار پر بہترین صلوٰۃ اور کامل ترین سلام اور اُن کی آل و اصحاب ممتاز عزت والوں پر۔ آمین!<br />
<span id="more-6"></span></p>
<p>سوال اول ۲۴ صفر ۱۳۰۸ھ<br />
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ تعزیہ داری کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)<br />
الجواب<br />
تعزیہ کی اصل اس قدر تھی کہ روضۂ پُر نور شہزادہٴ گلگوں قبا حسین شہید ظلم و جفا صلوات اللہ تعالیٰ و سلامہ علیٰ جدّہ الکریم وعلیہ کی صحیح نقل بناکر بہ نیت تبرک مکان میں رکھنا اس میں شرعاً کوئی حرج نہ تھا کہ تصویر مکانات وغیرہا ہر غیر جاندار کی بنانا، رکھنا، سب جائز، اور ایسی چیزیں کہ معظمانِ دین کی طرف منسوب ہوکر عظمت پیدا کریں ان کی تمثال بہ نیت تبرک پاس رکھنا قطعاً جائز، جیسے صدہا سال سے طبقۃً فطبقتاً ائمۂ دین و علمائے   متقدمین نعلین شریفین حضور سید الکونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے نقشے بناتے اور ان کے فوائد جلیلہ و منافع جزیلہ میں مستقل رسالے تصنیف فرماتے ہیں جسے اشتباہ ہو*امام علامہ تلمسانی کی فتح المتعال وغیرہ مطالعہ کرے، مگر جُہّال بیخرد نے اس اصل جائز کو بالکل نیست و نابود کرکے صدہا خرافات وہ تراشیں کہ شریعتِ مطہرہ سے الاماں الاماں کی صدائیں آئیں، اوّل تو نفسِ تعزیہ میں روضۂ مبارک کی نقل ملحوظ نہ رہی، ہر جگہ نئی تراش نئی گھڑت جسے اُس نقل سے کچھ علاقہ نہ نسبت، پھر کسی میں پریاں، کسی میں براق، کسی میں اور بیہودہ طمطراق، پھر کوچہ بکوچہ و دشت بدشت، اشاعتِ غم کے لیے اُن کا گشت، اور ان کے گرد سینہ زنی، اور ماتم سازشی کی شور افگنی، کوئی ان تصویروں کو جھک جھک کر سلام کر رہا ہے، کوئی مشغولِ طواف، کوئی سجدہ میں گرا ہے، کوئی اُن مایۂ بدعات کو معاذ اللہ معاذاللہ جلوہ گاہ حضرت امام علیٰ جدّہ وعلیہ الصلوٰۃ والسّلام سمجھ کر اس ابرک پنّی سے مرادیں مانگتا منتیں مانتا ہے، حاجت روا جانتا ہے، پھر باقی تماشے، باجے، تاشے، مردوں عورتوں کا راتوں کو میل، اور طرح طرح کے بیہودہ کھیل ان سب پر طرّہ ہیں۔ غرض عشرہ محرم الحرام کہ اگلی شریعتوں سے اس شریعت پاک تک نہایت با برکت و محلِ عبادت ٹھہرا ہوا تھا، ان بیہودہ رسوم نے جاہلانہ اور فاسقانہ میلوں کا زمانہ کردیا پھر وبال ابتداع کا وہ جوش ہو اکہ خیرات کو بھی بطورِ خیرات نہ رکھا، ریاء و تفاخر علانیہ ہوتا ہے پھر وہ بھی یہ نہیں کہ سیدھی طرح محتاجوں کو دیں بلکہ چھتوں پر بیٹھ کر پھینکیں گے، روٹیاں  زمین پر گر رہی ہیں، رزقِ الٰہی کی بے ادبی ہوتی   ہے، پیسے ریتے میں گِر کر غائب ہوتے ہیں، مال کی اضاعت ہو رہی ہے، مگر نام تو ہوگیا کہ فلاں صاحب لنگر لٹا رہے ہیں، اب بہار عشرہ کے پھول کھلے، تاشے باجے بجتے چلے، طرح طرح کے کھیلوں کی دھوم، بازاری عورتوں کا ہر طرف ہجوم، شہوانی میلوں کی پوری رسوم، جشن یہ کچھ اور اس کے ساتھ خیال وہ کچھ کہ گویا یہ ساختہ تصویریں بعینہا حضرات شہداء رضوان اللہ  تعالیٰ علیہم کے جنازے ہیں، کچھ نوچ اتار باقی توڑتاڑ دفن کردیے۔  یہ ہر سال اضاعتِ مال کے جُرم و وبال جداگانہ رہے۔ اللہ تعالیٰ صدقہ حضرات شہدائے  کربلا علیہم الرضوان والثناء کا ہمارے بھائیوں کو نیکیوں کی توفیق بخشے اور بُری باتوں سے توبہ عطا فرمائے، آمین! اب کہ تعزیہ  داری اس طریقۂ نا مرضیہ کا نام ہے قطعاً بدعت و ناجائز و حرام ہے، ہاں اگر اہلِ اسلام جائز طور پر حضرات شہدائے کرام علیہم الرضوان کی ارواحِ طیبہ کو ایصالِ ثواب کی سعادت پر اقتصار کرتے تو کس قدر خوب و محبو ب تھا اور اگر نظر شوق و محبت  میں نقل روضۂ انور کی حاجت تھی تو اُسی قدر جائز پر قناعت کرتے کہ صحیح نقل بغرض تبرک و زیارت اپنے مکانوں میں رکھتے اور اشاعتِ غم و تصنع الم و نوحہ زنی و ماتم کنی و دیگر امورِ شنیعہ و بدعاتِ قطعیہ سے بچتے اس قدر میں بھی کوئی حرج نہ تھا مگر اب اس نقل میں بھی اہلِ بدعت سے ایک مشابہت اور تعزیہ داری کی تہمت کا خدشہ اور آئندہ اپنی اولاد یا اہلِ اعتقاد کے لیے ابتلاءِ بدعات کا اندیشہ ہے، اور حدیث میں آیا ہے:</p>
<p>اتقوا مواضع التھم[1] (تہمت کے مواقع سے بچو۔ت)</p>
<p>اور وارد ہوا:<br />
من کان یؤمن باللہ والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التھم۔[2]<br />
جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ ہرگز تہمت کے مواقع میں نہ ٹھہرے۔ (ت)</p>
<p>لہٰذا روضۂ اقدس حضور سید الشہداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایسی تصویر بھی نہ بنائے بلکہ صرف کاغذ کے صحیح نقشے پر قناعت کرے اور اسے بقصد تبرک بے آمیزش منہیات اپنے پاس رکھے جس طرح حرمین محترمین سے کعبہ معظّمہ اور روضۂ عالیہ کے نقشے آتے ہیں یا دلائل الخیرات شریف میں قبور پُر نور کے نقشے لکھے ہیں والسلام علی من اتبع الھدی، واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔</p>
<p>سوال دوم<br />
از امروہہ مرسلہ مولوی سیّد محمد شاہ صاحب میلاد خواں ۲۲؍شعبان ۱۳۱۱ھ<br />
کیا ارشاد ہے علمائے دین متین کا اس مسئلہ میں کہ مجالس میلاد شریف میں شہادت نامہ کا  پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنواتوجروا۔</p>
<p>الجواب<br />
شہادت نامے نثر یا نظم جو آج کل عوام میں رائج ہیں اکثر روایاتِ باطلہ و بے سروپا  سے مملو اور اکاذیب موضوعہ پر مشتمل ہیں، ایسے بیان کا پڑھنا سننا وہ شہادت ہو خواہ کچھ، اور مجلس میلاد مبارک میں ہو خواہ کہیں اور مطلقاً حرام و ناجائز ہے، خصوصاً جبکہ وہ بیان ایسی خرافات کو متضمن ہو جن سے عوام کے عقائد میں تزلزل واقع ہو کہ پھر تو اور بھی زیادہ زہرِ قاتل ہے، ایسے ہی وجوہ پر نظر فرماکر امام حجۃ الاسلامی محمد محمد محمد  غزالی قدس سرہ العالی وغیرہ ائمہ کرام نے حکم فرمایا کہ شہادت نامہ پڑھنا حرام ہے۔ علامہ ابن حجر مکی قدس سرہ الملکی صواعق محرقہ میں فرماتے ہیں:</p>
<p>قال الغزالی وغیرہ  یحرم علی الواعظ وغیرہ روایۃ مقتل الحسن والحسین وحکایتہ[3]  الخ<br />
امام غزالی وغیرہ  نے فرمایا  کہ واعظ کے لیے حرام ہے کہ وہ شہادت حسنین کریمین اور اس کے بے سرو پا واقعات لوگوں کو سنائے  الخ (ت)</p>
<p>پھر فرمایا:<br />
ماذکرہ من حرمۃ روایۃ قتل الحسین وما بعدہ لا ینافی ما ذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یجب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبراءتھم من کل نقص بخلاف ما یفعلہ الوعاظ الجھلۃ فانھم یاٴتون بالاخبار الکاذبۃ والموضوعۃ ونحوھا ولا یبینون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ۔[4]  الخ</p>
<p>امام حسین کی شہادت اور اس کے بعد کے واقعات کی روایات کا حرام ہونا جو بیان کیا گیا وہ اس کے خلاف نہیں جو کچھ میں نے اس کتاب میں ذکر کیا کیونکہ یہ سچا بیان جو صحابہ کرام کی جلالتِ شان اور ہر نقص و کمزوری سے ان کی براءت پرمشتمل  ہے اس پر اعتقاد رکھنا واجب ہے بخلاف اس کے جو جاہل واعظین بیان کرتے ہیں، وہ جھوٹی، بناوٹی اور خود ساختہ خبریں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور ان کا محمل نہیں بیان کرتے حالانکہ حق پر عقیدہ رکھنا ضروری ہے۔ الخ (ت)</p>
<p>یونہی جبکہ اُس سے مقصود غم پروری و تصنّع و حُزن ہو تو یہ نیت بھی شرعاً نا محمود، شرع مطہر نے غم میں صبر و تسلیم اور غم موجود کو حتی المقدور دل سے دُور کرنے کا حکم دیا ہے نہ کہ غم معدوم، بہ تکلف و زور لانا نہ کہ بہ تصنع و زور بنانا، نہ کہ اسے باعثِ قرب و ثواب ٹھہرانا، یہ سب بدعاتِ شنیعۂ روافض ہیں جن سے سنی کو احتراز لازم، حاشا للہ اس میں کوئی خوبی ہوتی تو حضور پر نور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی وفاتِ اقدس کی غم پروری سب سے زیادہ اہم و ضروری ہوتی، دیکھو حضور اقدس صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیٰ آلہٖ کا ماہِ ولادت و ماہِ وفات وہی ماہِ مبارک ربیع الاول شریف ہے پھر علمائے امّت و حامیانِ سنّت نے اسے ماتمِ وفات نہ ٹھہرایا بلکہ موسمِ شادیِ ولادت اقدس بنایا، امامِ ممدوح کتابِ موصوف میں فرماتے ہیں:</p>
<p>ایّاہ ثمّ ایاہ ان یشغلہ (ای یوم عاشوراء) ببدع الرافضۃ ونحوھم من الندب والنیاحۃ والحزن اذلیس ذٰلک من اخلاق المؤمنین والالکان یوم وفاتہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اولیٰ بذٰلک واحرٰی[5]  الخ<br />
بچے اور پرہیز کرے اس بات سے کہ کہیں یومِ عاشورہ میں روافض اور ان جیسے لوگوں کی بدعات میں نہ مشغول ہوجائے جو رونا پیٹنا اور غم کرنا ہوتا ہے کیونکہ یہ امور مومنوں کے اخلاق سے نہیں ورنہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا یومِ وصال ان چیزوں کا زیادہ حق رکھتا ہے اھ<br />
(یعنی اگر رونے پیٹنے اور دُکھ غم کے مظاہروں کی گنجائش اور اجازت ہوتی تو سب سے زیادہ یہ چیزیں آپ کے یومِ وصال پر عمل میں آتیں اور دیکھی جاتیں)۔ (ت)</p>
<p>عوام مجلس خواں اگرچہ بالفرض صرف روایات صحیحہ بروجہ صحیح پڑھیں بھی تاہم جو اُن کے حال سے آگاہ ہے خوب جانتا ہے کہ ذکرِ شہادت شریف پڑھنے سے اُن کا مطلب یہی بہ تصنع رونا بہ تکلف رُلانا اور اُس سے رونے رلانے سے رنگ جمانا ہے اس کی شناعت میں کیا شبہہ ہے، ہاں اگر خاص بہ نیت ذکر شریف حضرات اہلبیت طہارت صلی اللہ تعالیٰ علیٰ سیدہم وعلیہم وبارک  وبارک وسلم اُن کے فضائل جلیلہ و مناقبِ جمیلہ روایاتِ صحیحہ سے بروجہ صحیح بیان   کرتے اور اس کے ضمن میں اُن کے فضل جلیل صبرِ جمیل کے اظہار کو ذکرِ شہادت بھی آجاتا اور غم پروری و ماتم انگیزی کے انداز سے کامل  احتراز ہوتا تو اس میں حرج نہ تھا، مگر ہیہات اُن کے اطوار اُن کی عادات اس نیتِ خیر سے یکسر جُدا ہیں، ذکر فضائل شریف مقصود ہوتا تو کیا اُن محبوبانِ خدا کی فضیلت صرف یہی شہادت تھی، بے شمار مناقب عظیم اللہ عزّوجل نے اُنھیں عطا فرمائے۔ اُنھیں چھوڑ کر اسی کو اختیار کرنا اور اُس میں طرح طرح سے بالفاظ رقّت خیز و نوحہ نما و معانی حُزن انگیز و غم افزا بیان کو وسعتیں دینا اُنھیں مقاصد فاسدہ کی خبریں دے رہا ہے، غرض عوام کے لیے اُس میں کوئی وجہ سالم نظر آنا سخت دشوار ہے پھر مجلس ملائک مآنس میلاد اقدس تو عظیم شادی و خوشی و عید اکبر کی مجلس ہیں اذکار غم و ماتم اُس کے مناسب نہیں، فقیر اُس میں ذکر وفات والا بھی جیسا کہ بعض عوام میں رائج ہے پسند نہیں کرتا حالانکہ حضور کی حیات بھی ہمارے لیے خیر اور حضور کی وفات بھی ہمارے لیے خیر، صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔ اس تحریر کے بعد علامہ محدّث سیّدی محمد طاہر فتنی قدس سرہ  الشریف کی تصریح نظرِ فقیر سے گزری اُنھوں نےبھی اس رائے فقیر کی موافقت فرمائی والحمدللہ رب العٰلمین، آخر کتاب مستطاب مجمع بحار الانوار میں فرماتے ہیں:</p>
<p>شھر السرور والبھجۃ مظھر منبع الانوار والرحمۃ شھر ربیع الاول، فانہ شھر امرنا باظھار الحبور فیہ کل عام، فلا نکدرہ باسم الوفاۃ، فانہ یشبہ تجدید الماتم، وقد نصوا علی کراھیتہ کل عام فی سیدنا الحسین مع انہ لیس لہ اصل فی امھات البلاد الاسلامیۃ، وقد تحاشوا عن اسمہ فی اعراس الاولیاء فکیف فی سیّد الاصفیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم۔[6]</p>
<p>یعنی ماہِ مبارک ربیع الاول خوشی و شادمانی کا مہینہ ہے اور سر چشمۂ انوارِ رحمت صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم  کا زمانۂ ظہور ہے، ہمیں حکم ہے کہ ہر سال اُس میں خوشی کریں، تو اسے وفات کے نام سے مکدر نہ کریں گے کہ یہ تجدید ِ ماتم کے مشابہ ہے، اور بے شک علماء نے تصریح کی کہ ہر سال جو سیّدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ماتم کیا جاتا ہے شرعاً مکروہ ہے، اور خاص اسلامی شہروں میں اس کی کچھ بنیاد نہیں، اولیائے کرام کے عُرسوں میں نامِ ماتم سے احتراز کرتے ہیں تو حضور پُر نور سید الاصفیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے معاملہ میں اُسے کیونکر پسند کرسکتے ہیں۔ فالحمدللہ علی ما الھم، واللہ سبحنہ وتعالیٰ اعلم۔</p>
<p>سوال سوم<br />
از ریاست  رامپور محلہ میانگاناں  مرسلہ مولوی محمد یحییٰ صاحب محرم ۱۳۲۱ھ<br />
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شہادت نامہ پڑھنا کیسا ہے، اور اس میں اور تعزیہ داری میں فرقِ احکام کیا ہے؟ بیّنوا توجروا۔</p>
<p>الجواب<br />
ذکر شہادت شریف جبکہ روایاتِ موضوعہ و کلمات ممنوعہ و نیت نا مشروعہ سے خالی ہو عین سعادت ہے۔<br />
عند ذکر الصّٰلحین تنزّل الرحمۃ۔[7]<br />
صالحین کے ذکر پر اللہ تعالیٰ کی رحمت نازل ہوتی ہے (ت)</p>
<p>اس کی تفصیلِ جمیل فتاوٰی فقیر میں ہے اور اس میں اور تعزیہ داری میں فرقِ احکام ایک مقدمہ کی تمہید چاہتا ہے،<br />
فاقول وباللہ التوفیق (میں کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے توفیق حاصل ہوتی ہے۔ت) شے کے لیے ایک حقیقت ہوتی ہے اور کچھ امور زوائد کہ لوازم یا عوارض ہوتے ہیں، احکامِ شرعیہ  شے پر بحسبِ وجود ہوتے ہیں مجرد اعتبار عقلی نا صالح وجود مطمح احکام شرع نہیں ہوتا کہ فقہ افعال مکلفین سے باحث ہے جو فعلیت میں آنہیں سکتا موضوع سے خارج ہے تغائر اعتبار سے تغائر احکام وہیں ہوسکتا ہے جہاں وہ اعتباراتِ واقعیہ مفارقہ متعاقبہ ہوں کہ شے کبھی ایک کے ساتھ پائی جائے کبھی دوسرے کے، تو ہر دو انحائے وجود کے اعتبار سے مختلف حکم دیا جاسکتا ہے اور ایسی جگہ مقصود ہے کہ نفس شے کا حکم اُن بعض احکام شے مع بعض الاعتبار  سے جُدا ہو مگر زوائد کہ لوازم الوجود ہوں اُن کے حکم سے جُدا کوئی حکم حقیقت کے لیے نہ ہوگا کہ لازم سے انفکاک محال ہے جب لوازم میں یہ حال ہے تو ارکان حقیقت کہ سلخ ماہیت کا تغیر اعتبار شے نہیں بلکہ تغیر ماہیت عرفیہ ہے مثلاً نماز عرفِ شرع میں مجموع ارکان مخصوصہ بہیاٴت معلومہ کا نام ہے، اب اگر کوئی ان ارکان سے جُدا بلکہ تبدیل ہیاٴت ہی کے ساتھ ایک صورت کا نام نماز رکھے جو قعود سے شروع  اور قیام پر ختم ہو اور اس میں رکوع پر سجود مقدم، تو یہ حقیقتِ نماز ہی تبدیل ہوگی نہ کہ حقیقتِ حاصل، اور اعتبار مبتدل، جب یہ مقدمہ ممہد ہولیا فرقِ احکام ظاہر ہوگیا شہادت نامہ پڑھنے کی حقیقتِ عرفیہ صرف اس قدر کہ ذکر شہادت شریف حضرات ریحانینِ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم مسلمانوں کے آگے پڑھا جائے، معاذاللہ روایات کا موضوع و باطل یا ذکر تنقیص شان  صحابہ پر مشتمل ہونا ہرگز نہ داخلِ حقیقت ہے نہ لازم وجود، و لہٰذا جو لوگ روایاتِ صحیحہ معتبرہ نظیفہ مطہرہ  مثل سر الشہادتین وغیرہ پڑھتے ہیں اُسے بھی قطعاً شہادت ہی پڑھنا اور مجلس کو مجلس شہادت ہی کہتے ہیں تو معلوم ہوا کہ وہ امور نا مشروعہ کہ عارض ہوگئے ہنوز عوارض ہی سمجھے جاتے ہیں اور عوارض قبیحہ سے نفس شئ مباح یا حسن قبیح نہیں ہوجاتی بلکہ وہ اپنی حد ذات میں اپنے حکم اصلی پر رہتی اور نہی عوارج قبیحہ  کی طرف متوجہ ہوتی ہے  جیسے ریشمیں کپڑے پہن کر نماز پڑھنا کہ نفس ذات نماز کومعاذ اللہ قبیح نہ کہیں گے بلکہ ان عوارض و زوائد کو، تو شہادت ناموں میں ان عوارض کا لحوق بعینہٖ ایسا ہے جیسے آج کل بعض جہّالِ ہندوستان نے مجلس میلاد مبارک میں روایاتِ موضوعہ و قصص بے سروپا بلکہ کلمات  توہینِ ملائکہ و انبیاء علیہم الصلوٰۃ والثناء پڑھنا اختیار کیا ہے، اس سے حقیقت مبتدل نہ ہوئی، نہ عوارض نے دائرہ عروض سے آگے قدم رکھا جو مجالس طیبہ طاہر ہوتی ہیں انھیں بھی قطعاً مجالس میلاد مبارک ہی کہا جاتا ہے اور ہرگز کسی کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی دوسری شئ ہے جو اُن مجالس میلاد مبارک ہی کہا جاتا ہے اور ہرگز کسی کو یہ گمان نہیں ہوتا کہ یہ کوئی دوسری شئ ہے جو اُن مجالس سے حقیقت جُدا گانہ رکھتی ہے، بخلاف تعزیہ داری کہ اُس کا آغاز اگرچہ یوں ہی سُنا گیا ہے کہ سلطان تیمور نے از انجا کہ ہرسال حاضری روضۂ مقدسۂ حضور سید الشہداء شہزادہ گلگوں قبا علیٰ جدّہ الکریم علیہ الصّلوٰۃ والثناء کو مخل امورِ سلطنت دیکھا تو بنظرِ شوق و تبرک تمثال روضۂ مبارک بنوائی اور اس قدر میں کوئی حرج شرعی نہ تھا مگر یہ امر حقیقتِ متعارفہ سے وجوداً و عدماً بالکل بے علاقہ ہے اگر کوئی شخص روضۂ انور مدینہ منورہ و کعبہ معظّمہ کے نقشوں کی طرح کاغذ پر تمثال روضۂ حضرت سید الشہداء آئینہ میں لگا کر رکھے ہرگز نہ اُسے تعزیہ کہیں گے نہ اُس شخص کو تعزیہ دار، حالانکہ اُتنا امر قطعاً موجود ہے اور یہ ہر سال نئی نئی تراش و خراش کی کھپچی   پنّیاں، کسی میں بُراق، کسی میں پریاں، جو گلی کوچے گشت کرائی جاتی ہیں ہرگز تمثال روضۂ مبارک حضرت سید الشہاء نہیں کہ تمثال ہوتی توایک طرح کی نہ کہ صدہا مختلف، انھیں ضرور تعزیہ اور ان کے مرتکب کو تعزیہ دار کہا جاتا ہے تو بداہۃً ظاہر کہ حقیقت تعزیہ داری انھیں امورِ نامشروعہ کا نام ٹھہرا ہے نہ کہ نفس حقیقت عرفیہ وہی امر جائز ہو اور یہ نامشروعات امور زوائد و عوارض مفارقہ سمجھے جاتے ہوں، ولہٰذا فقیر نے  اپنے فتاوے میں قدر مباح  کو ذکر کرکے کہا کہ جہال بیخرد نے اس اصل جائز کو بالکل نیست و نابود کرکے الخ، اور آخر میں کہا اب کہ تعزیہ داری اس طریقۂ نامرضیہ کا نام ہے قطعاً بدعت و ناجائز و حرام ہے۔ یہ اُسی فرق جلیل و نفیس کی طرف اشارہ تھا جو اس مقدمہ ممہدہ میں گزرا۔</p>
<p>بالجملہ شہادت نامے کی حقیقت ہنوز  وہی امرِ مباح و محمود ہے اور شنائع زوائد و عوارض اگر اُن سے خالی اور نبت نا محمود سے پاک ہو ضرور مباح ہے اور تعزیہ داری کی حقیقت ہی یہ امورِ ناجائزہ ہیں، ’’اس قدر جائز ہے‘‘ سے کوئی تعلق نہ رہا، نہ اس کے وجود  سے موجود ہوتی ہے نہ اس کے عدم سے معدوم، تو یہ فی نفسہٖ ناجائز و حرام ہے۔ اس کی نظیر اممِ سابقہ میں آغازِ اصنام ہے، وَد و سواع ویغوث ویعوق ونسر صالحین تھے ان کے انتقال پر اُن کی یاد کے لیے اُن کی صورتیں تراشیں، بعد مرورِ زماں پچھلی نسلوں نے اُنھیں کو معبود سمجھ لیا تو کوئی نہیں کہہ سکتا کہ ان بتوں کی حالت اپنی انھیں ابتدائی حقیقت پر باقی تھی یہ شنائع زوائد عوارض خارجہ تھے، ولہٰذا شرائع الٰہیہ مطلقاً ان کے رَدّو انکار پر نازل ہوئیں، بخاری وغیرہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے راوی:</p>
<p>کانوا اسماء رجال  صالحین من قوم نوح فلما ھلکوا اوحی الشیطٰن الیٰ قومھم ان انصبوا الٰی مجالسیھم التی کانوا یجلسون انصابا وسمّوھا باسمائھم ففعلوا فلم تعبد حتی اذا ھلک اولٰئک  ونسخ العلم عبدت۔[8]<br />
وَد، سواع وغیرہ قومِ  نوح علیہ السلام کے نیک لوگوں کے نام تھے جب وہ وفات پاگئے تو شیطان نے اُن  کی قوم کے دلوں میں یہ وسوسہ ڈالا کہ ان کی مجلسوں میں جہاں وہ بیٹھا کرتے تھے ان کے مجسّمے بناکر کھڑے کر دو اور ان کے اسماء کا ذکر کرو (یعنی انھیں یاد کرو) چنانچہ لوگوں نے ایسا ہی کیا مگر وہ ان کی عبادت میں مشغول نہیں ہوئے تاآنکہ وہ لوگ دنیا سے رخصت ہوگئے اور علم مٹ گیا اور پچھلے لوگ یعنی بعد میں آنے والی نسل حقیقت سے نا آشنا ہوتے ہوئے ان کی پوجا کرنے لگی۔ (ت)</p>
<p>فاکہی عبید اللہ بن عبید بن عمیر سے راوی:<br />
قال اول ما حدثت الاصنام علی عھد نوح وکانت الابناء تبر الآباء فمات رجل منھم فجزع علیہ ابنہ فجعل لا یصبر عنہ فاتخذ مثالا علیٰ  صورتہ فکلما اشتاق الیہ نظرہ ثم مات ففعل بہ کما فعل ثم تتابعوا علیٰ ذٰلک فمات الآباء فقال الابناء ما اتخذ اٰباؤنا ھٰذہ الا انھا اٰلھتھم فعبدوھا۔[9]<br />
عبداللہ ابن عبید نے کہا سب سے پہلے بت پرستی کا ظہور  زمانۂ  نوح میں ہوا، اور بیٹے اپنے آباء سے حسنِ سلوک  کیا کرتے تھے، پھر ان میں سے کوئی شخص مرجاتا تو اس کا بیٹا اس کے لیے بیقرار اور بے چین ہوجاتا اور صبر نہ کرسکتا اور اپنی تسکین کے لیے اس کی مُورتی بنالیتا اور جب اصل کو دیکھنے کا شوق ہوتا تو اس شبیہ کو دیکھ کر  دل  کو تسلّی دے لیتا اور جب وہ مرجاتا تو اس کے ساتھ بھی وہی برتاؤ کیا جاتا، عرصہ دراز تک لگاتار اور مسلسل یہ کام ہوتا رہا، اور جب پہلے باپ دادا مرگئے تو آنے والی اولاد کہنے لگی کہ یہ تو ہمارے پہلے باپ دادوں کے معبود تھے پھر یہ ان کی عبادت کرنے لگے (پس اس طرح بت پرستی کا آغاز ہوا)۔ (ت)</p>
<p>یہ فرق نفیس خوب یاد رکھنے کا ہے کہ اسی سے غفلت کرکے وہابیہ اصل حقیقت پر حکم عوارض لگاتےا ور تعزیہ دار تبدیل حقیقت کو اختلافِ عوارض ٹھہراتے اور دونوں سخت خطائے فاحش میں پڑ جاتے ہیں وباللہ العصمۃ واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم (اور اللہ تعالیٰ ہی کی توفیق سے بچاؤ ممکن ہے اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ بڑا عالم ہے۔ت)</p>
<p> سوال چہارم<br />
از دھام پور ضلع بجنور مرسلہ حافظ سید بنیاد علی صاحب ۸ محرم الحرام ۱۳۱۳ھ<br />
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یومِ عشرہ میں سبیل لگانا اور کھانا کھلانے اور لنگر لٹانے کے بارے میں دیوبند کے علماء ممانعت کرتے ہیں و نیز کتبِ شہادت کو بھی، جو امر صحیح ہو عند الشرع ارقام فرمائیے ، اور مجلسِ محرم میں ذکرِ شہادت اور مرثیہ سُننا کیسا ہے؟ بیّنوا توجروا (بیان فرماؤ تاکہ اجر پاؤ۔ت)</p>
<p>الجواب<br />
پانی یا شربت کی سبیل لگانا جبکہ بہ نیت محمود اور خالصتاً لوجہ اللہ ثواب رسانی ارواحِ طیبہ ائمۂ اطہار مقصود ہو بلا شبہہ بہتر و مستحب و کارِ ثواب ہے، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:</p>
<p>اذا کثرت ذنوبک فاسق الماء علی الماء تتنا ثرکما یتنا ثرا لورق من الشجر فی الریح العاصف۔ رواہ الخطیب [10]عن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔<br />
جب تیرے گناہ  زیادہ ہوجائیں تو پانی  پر پانی پلا گناہ جھڑ جائیں گے جیسے آندھی میں پیڑ کے پتے۔ (اس کو خطیب نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا۔ت)</p>
<p>اسی طرح کھانا کھلانا لنگر بانٹنا بھی مندوب و باعث اجر ہے، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:<br />
ان اللہ عزوجل یباھی ملٰئکۃ بالذین یطعمون الطعام من عبیدہ۔ رواہ ابو الشیخ فی الثواب[11] عن الحسن مرسلا۔<br />
اللہ تعالیٰ اپنے اُن بندوں سے جو لوگوں کو کھانا کھلاتے ہیں فرشتوں کے ساتھ مباہات فرماتا ہے کہ دیکھو یہ کیسا اچھا کام کر رہے ہیں (اس کو ابو الشیخ نے ثواب میں حسن سے مرسلاً روایت کیا ۔ت)</p>
<p>مگر لنگر لٹانا جسے کہتے ہیں کہ لوگ چھتوں پر بیٹھ کر روٹیاں پھینکتے ہیں، کچھ ہاتھوں میں جاتی ہیں کچھ زمین پر گرتی ہیں، کچھ پاؤں کے نیچے ہیں، یہ منع ہے کہ اس میں رزقِ الٰہی کی بے تعظیمی ہے، بہت علماء نے تو روپوں پیسوں کا لٹانا جس طرح دُلھن دُولھا کی نچھاور میں معمول ہے منع فرمایا کہ روپے پیسے کو اللہ عزوجل نے خلق کی حاجت روائی کے لیے بنایا ہے تو اُسے پھینکنا نہ چاہیے، روٹی کا پھینکنا تو سخت بیہودہ ہے، بزازیہ، کتاب الکراہیۃ، النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث میں ہے:</p>
<p>ھل یباح نثر  الدراھم قیل لا وقیل لا باس بہ وعلی ھذا الدنا نیر و الفلوس وقد یستدل من کرہ  بقولہ صلی اللہ علیہ وسلم الدراھم والدنا نیر خاتمان من خواتیم اللہ تعالیٰ فمن ذھب بخاتم من خواتیم اللہ تعالیٰ قضیت حاجتہ۔[12]<br />
کیا دراہم  لٹانا مباح ہے، بعض نے کہا مباح نہیں اور بعض نے کہا  کوئی حرج نہیں ہے، اسی حکم میں دنا نیر اور پیسے ہیں، نا پسند کہنے والوں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشاد کہ ’’دراھم و دنا نیر اللہ تعالیٰ کی مہروں سے مُہریں ہیں تو جس نے کوئی مُہر  پائی اس نے اللہ تعالیٰ کی مہر سے حاجت پائی‘‘ سے استدلال کیا۔ (ت)</p>
<p>کتبِ شہادت جو آج کل رائج ہیں اکثر حکایاتِ موضوعہ و روایاتِ باطلہ پر مشتمل ہیں، یو ہیں مرثیے ایسی چیزوں  کا پڑھنا سُننا سب گناہ و حرام ہے۔ حدیث میں ہے:</p>
<p>نھٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن المراثی۔ رواہ  ابو داؤد[13]والحاکم عن عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔<br />
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا (اسے ابوداؤد اور حاکم نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ت)</p>
<p>ایسے ہی ذکر شہادت کو امام حجۃ الاسلام وغیرہ علمائے کرام منع فرماتے ہیں کما ذکرہ امام ابن حجر المکی فی الصواعق المحرقۃ (جیسا کہ امام ابن حجر مکی نے صواعق محرقہ میں اسے روایت کیا ہے۔ت) ہاں اگر صحیح روایات بیان کی جائیں اور کوئی کلمہ کسی نبی یا ملک یا اہلبیت یا صحابی کی توہین شان کا مبالغہ مدح وغیرہ میں مذکور نہ ہو، نہ وہاں بَین یا نوحہ یا سینہ کوبی یا گریبان دری یا ماتم یا تصنع یا تجدیدِ غم وغیرہ ممنوعاتِ شرعیہ نہ ہوں تو ذکر شریف فضائل و مناقب حضرت سیدنا امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بلاشبہہ موجبِ ثواب و نزولِ رحمت ہے عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ[14] (صالحین کے ذکر پر رحمتِ الٰہیہ نازل ہوتی ہے۔ت) ولہٰذا امام ابن حجر مکی بعد بیان مذکور کے فرماتے ہیں:</p>
<p>ما ذکر من حرمۃ روایۃ قتل الحسین وما بعدہ لا ینافی ما ذکرتہ فی ھذا الکتاب لان ھذا البیان الحق الذی یحب اعتقادہ من جلالۃ الصحابۃ وبراءتھم من کل نقص، بخلاف ما یفعلہ الوعاظ الجہلۃ، فانھم یاٴتون بالاخبار الکاذبۃ الموضوعۃ ونحوھا ولا یبینون المحامل والحق الذی یجب اعتقادہ[15] واللہ سبحنہ وتعالیٰ اعلم۔</p>
<p>شہادت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیان کی حُرمت اور اس کے بعد جو کچھ ذکر کیا وہ میری اس کتاب میں ذکر کردہ روایات کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ صحابہ کرام کی جلالت اور ہر نقص سے ان کی براءت پر مشتمل حق کا بیان ہے بخلاف جاہل واعظین کے کہ وہ جھوٹ اور موضوع قسم کی خبریں سناتے ہیں اور صحیح محمل اور قابلِ اعتقاد کو بیان نہیں کرتے۔ واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم (ت)</p>
<p>سوال پنجم<br />
از مفتی گنج ضلع پٹنہ ڈاک خانہ ایکنگر سرائے مرسلہ محمد نواب صاحب قادری و دیگر سُکّانِ مفتی گنج ۲۷؍رمضان شریف ۱۳۱۸ھ<br />
یہاں عشرہٴ محرم میں مجلس مرثیہ خوانی کی ہوتی ہے، اور مرثیے صوفیہ کرام کے پڑھے جاتے ہیں، اور سینہ کوبی وبَین نہیں ہوتا، اور میرِ مجلس سُنی المذہب ہے، ایسی مجلس میں شرکت یا اس میں مرثیہ خوانی کا کیا حکم ہے؟ بیّنوا توجروا۔</p>
<p>الجواب<br />
جو مجلس ذکر شریف حضرت سیدنا امام حسین و اہلبیت کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ہو جس میں روایاتِ صحیحہ معتبرہ سے اُن کے فضائل و مناقب و مدارج بیان کیے جائیں اور ماتم و تجدیدِ غم وغیرہ امور مخالفۂ شرع سے یکسر پاک ہو فی نفسہٖ حسن و محمود ہے خواہ اس میں نثر پڑھیں یا نظم، اگرچہ وہ نظم بوجہ ایک مسدّس ہونے کے جس میں ذکر حضرت سید الشہداء ہے عرف حال میں بنام مرثیہ موسوم ہو کہ اب یہ وہ مرثیہ نہیں جس کی نسبت ہے:</p>
<p>نھٰی رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم عن المراثی۔[16] واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم۔<br />
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا۔ واللہ سبحٰنہ وتعالیٰ اعلم (ت)</p>
<p>سوال ششم<br />
از نواب گنج ۲۰محرم الحرام ۱۳۲۱ھ<br />
 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اِن صورتوں میں:</p>
<p>﴿۱۔ ایک شخص کہتا ہے کہ میں تعزیہ کا چڑھا ہوا نہیں کھاتا ہوں حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی نیاز کا کھاتا ہوں۔<br />
﴿۲۔  ایک شخص کہتا ہے تعزیہ پر کیا منحصر ہے چڑھونا کوئی ہو میں نہیں کھاتا ہوں نیاز کھاتا ہوں۔<br />
﴿۳۔  ایک شخص کہتا ہے کہ عشرہٴ محرم الحرام میں جو کچھ کھانے پینے وغیرہ میں ہوتا ہے دس روز تک تعزیہ کا چڑھا ہوتا ہے۔<br />
﴿۴۔  ایک شخص کہتا ہے تعزیہ بُت ہے بہ سبب لگانے صورت کے۔<br />
﴿۵۔ ایک شخص کہتا ہے کہ یہ صورت وہ ہے جو بُراق اور حُورِ جنّت میں ہیں۔<br />
﴿۶۔ ایک شخص کہتا ہے کہ تعزیہ اور مسجد میں کچھ فرق نہیں بلکہ کہتا ہے کہ مسجد میں کیا ہے وہ اینٹ گارا ہی تو  ہے جو وہاں سجدے کرتے ہو اور تعزیہ میں ابرق کا کاغذ وغیرہ ہیں۔<br />
﴿۷۔ ایک شخص نے کہا کہ بھائی یہ باتیں شرع کی ہیں لکھ کر شرع کے سپرد کرو، آپس میں جھگڑا مت کرو۔<br />
﴿۸۔  ایک شخص کہتا ہے کہ تم شرع نہیں سمجھتے۔<br />
﴿۹۔  ایک شخص نے کہا کہ جس حالت میں تم شرع کو نہیں سمجھتے ہو تو میں تعزیہ کے چڑھونے کو حرام سمجھتا ہوں۔</p>
<p>الجواب<br />
﴿۱۔  پہلا شخص اچھی بات کہتا ہے واقعی حضرت امام کے نام کی نیاز کھانی چاہیے اور تعزیہ کا چڑھا ہوا کھانا نہ چاہیے، اگر اُس کے قول کا یہ مطلب ہے کہ وہ تعزیہ کا چڑھا ہوا اس نیت سے نہیں کھاتا کہ وہ تعزیہ کا چڑھا ہوا ہے بلکہ اس نیت سے کھاتا ہے کہ وہ امام کی نیاز ہے تو یہ قول غلط اور بیہودہ ہے، تعزیہ پر چڑھانے سے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نیاز نہیں ہوجاتی، اور اگر نیاز دے کر چڑھائیں یا چڑھا کر نیاز دلائیں تو اس کے کھانے سے احتراز چاہیے اور وہ نیت کاتفرقہ اس کے مفسدہ کو دفع نہ کرے گا، مفسدہ اس میں ہے کہ اس کے کھانے سے جاہلوں کی نظر میں ایک امر ناجائز کی وقعت بڑھانی یا کم از کم اپنے آپ کو اس کے اعتقاد سے مُتَّہَم کرتا ہے، اور دونوں باتیں شنیع و مذموم  ہیں لہٰذا اس کے کھانے پینے سے احتراز چاہیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔</p>
<p>﴿۲۔  دوسرے شخص کی بات میں ذرا زیادتی ہے اولیائے کرام کے مزارات پر جو شیرینی، کھانا بہ نیت تصدّق  لے جاتے ہیں اُسے بھی بعض لوگ چڑھونا کہتے ہیں اس کے کھانے میں فقیر کو اصلاً حرج نہیں۔</p>
<p>﴿۳۔  تیسرے شخص نے نیاز اور تعزیہ کے چڑھاوے میں فرق نہ کیا یہ غلط ہے چڑھونا وہی ہے جو تعزیہ پر یا اس کے پاس لے جا کر سب کے سامنے نذرِ تعزیہ کی نیّت سے رکھا جائے باقی سب کھانے شربت وغیرہ کہ عشرہٴ محرم میں بہ نیت ایصالِ ثواب ہوں وہ چڑھاوا نہیں ہوسکتے۔</p>
<p>﴿۴۔  مجسّم تصویر کو بت کہتے ہیں، اس معنیٰ پر وہ تصویریں کہ تعزیہ میں لگائی جاتی ہیں اور مجازاً کل کو بھی کہہ سکتے ہیں اور اگر بُت سے مراد معبود مطلق ہو تو یہ سخت زیادتی ہے انصاف یہ کوئی جاہل سا جاہل بھی تعزیہ کو معبود نہیں جانتا۔</p>
<p>﴿۵۔  اس شخص  کا یہ محض افتراء ہے کہاں حُور و براق اور کہاں یہ کاغذ پنّی کی مُورتیں جس سے کہیں زیادہ خوبصورت کسگروں کے یہاں روز بنتی ہیں، اور اگر ہو بھی تو براق کی تصویریں بنانی کب حلال ہیں۔</p>
<p>﴿۶۔  یہ شخص صریح گمراہ و بدعقل و بدزبان ہے، مسجد کو کوئی سجدہ نہیں کرتا، نہ اس کی حقیقت اینٹ گارا ہے بلکہ وہ زمین کہ نماز و عبادتِ الٰہی بجالانے کے لیے تمام حقوق عباد سے جُدا کرکے اللہ عزوجل کے حکم سے اس کی طرف تقرب کے واسطے خاص ملک الٰہی پر چھوڑی گئی اب وہ شعائر اللہ سے ہوگئی اور شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم ہے قال اللہ تعالیٰ:<br />
وَمَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللہِ فَاِنَّھَا مِنْ تَقْوَی الْقُلُوْبِ۔[17]<br />
اور جو اللہ کے نشانوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیز گاری سے ہے (ت)</p>
<p>اس مجموعۂ بدعات کو اس سے کیا نسبت، مگر جہلِ مرکب سخت مرض ہے، والعیاذ باللہ۔</p>
<p>﴿۷۔  اس شخص نے اچھا کیا مسلمانوں کو یہی حکم ہے کہ جو بات نہ جانے خود اس پر کوئی حکم نہ لگائے بلکہ اہلِ شرع سے دریافت کرے، قال اللہ تعالیٰ:<br />
فَاسْئَلُوْآ اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۔[18]<br />
اے لوگو! علم والوں سے پوچھو اگر تمھیں علم نہیں۔ (ت)</p>
<p>﴿۸۔  اس کے قول کا اگر یہی مطلب ہے کہ تم لوگ بے علم ہو آپس میں بحث نہ کرو اہلِ شرع سے پوچھو تو اچھا کیا، اور اگر یہ مراد ہے کہ تعزیہ شرعاً اچھی چیز ہے تم شرع نہیں سمجھتے تو یہ بہت بُرا کہا اور شرع پر افتراء کیا اور اگر یہ مقصود ہو کہ شرع سے تو مذمت صاف ظاہر ہے مگر تم لوگ نہیں سمجھتے تو یہ بھی اچھا کیا۔</p>
<p>﴿۹۔ اس کا قول حد سے گزرا ہوا ہے تعزیہ کا چڑھاوا کھانا اُن وجوہ سے جو ہم نے ذکر کیں مکروہ  و ناپسند ضرور ہے مگر حرام کہنا غلط ہے، فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:<br />
’’اس بکری کو جو ہندو نے اپنے بُت کے نام پر مسلمان سے ذبح کرایا اور مسلمانوں نے اللہ عزوجل کی تکبیر کہہ کر ذبح کردی تصریح فرمائی کہ حلال ہے ویکرہ للمسلم مسلمان کے لیے مکروہ ہے۔‘‘[19]<br />
جب وہاں صرف کراہت کا حکم ہے تو یہاں تحریم کیونکر۔ واللہ تعالیٰ اعلم</p>
<p>سوال ہفتم<br />
از اتر ولی ضلع علی گڑھ محلہ مُغلاں مرسلہ اکرام عظیم صاحب ۱۸؍ جمادی الاولیٰ ۱۳۲۱ھ<br />
مجلس مرثیہ خوانی اہل شیعہ میں اہلِ سنت و جماعت کو شریک و شامل ہونا جائز ہے یا نہیں؟ بیّنوا توجروا۔</p>
<p>الجواب<br />
حرام ہے، حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:<br />
من کثر سواد قوم فھو منھم۔[20]<br />
جس نے کسی قوم کا تشخص کثیر بنایا وہ ان میں کا ہے۔ (ت)</p>
<p>وہ بد زمان نا پاک لوگ اکثر تبرّا بَک جاتے ہیں اس طرح کہ جاہل سُننے والوں کو خبر بھی نہیں ہوتی اور متواتر سُناگیا ہے کہ سُنّیوں کو جو شربت دیتے ہیں اس میں نجاست ملاتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو اپنے یہاں کے ناپاک قلتین کا پانی ملاتے ہیں اور کچھ نہ ہو تو وہ روایاتِ موضوعہ و کلماتِ شنیعہ و ماتم حرام سے خالی نہیں ہوتی اور یہ دیکھیں سُنیں گے، اور منع نہ کرسکیں گے ایسی جگہ جانا حرام ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:</p>
<p>فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۔[21]  واللہ تعالیٰ اعلم۔<br />
تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (ت)</p>
<p>سوال ہشتم<br />
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں  کہ تعزیہ بنانا اور اس پر نذر نیاز کرنا عرائض با مید حاجت براری لٹکانا اور بہ نیت بدعتِ حسنہ اس کو داخلِ حسنات جاننا اور موافق شریعت ان امور کو اور جو کچھ اس سے پیدا اور یا متعلق ہوں کتنا گناہ ہے، اور زید اگر ان باتوں کو جو فی زماننا متعلق تعزیہ داری و الم داری کے ہیں موافق مذہب اہلِ سنت کے تصوّر کرے تو وہ کس قسم کا مرتکب ہوا اور اُس پر شرع کی تعزیر کیا لازم آتی ہے، اور ان امور کے ارتکاب سے وہ شرکِ خفی یا جلی میں مبتلا ہے یا نہیں، اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے باہر ہوئی یا نہیں، در صورتیکہ وہ امور متذکرہ بالا کو داخل عقیدت اہلِ سنّت و جماعت بنظرِ ثواب عمل میں لاتا ہو۔ بیّنوا توجروا۔</p>
<p>الجواب<br />
افعالِ مذکورہ جس طرح عوامِ زمانہ میں رائج ہیں بدعتِ سیئہ و ممنوع و ناجائز ہیں انھیں داخل ثواب جاننا اور موافقِ شریعت مذہب اہلِ سنت ماننا اس سے سخت تر و خطائے عقیدہ و جہلِ اشد ہے، شرعی تعزیر حاکم شرع سلطان کی رائے پر مفوض ہے باایں ہمہ وہ شرک و کفر ہرگز نہیں، نہ اس بناء پر عورت نکاح سے باہر ہو، عرائض بامید حاجت براری لٹکانا محض  بہ نیت  توسل ہے جو اس کا جہل ہے کہ امورِ ممنوعہ لائق توسل نہیں ہوتے باقی حاجت روا بالذات کوئی کلمہ گو حضرت امام عالی مقام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی نہیں جانتا کہ معاذ اللہ تعالیٰ شرک ہو، یہ وہابیہ کا جہل و ضلال ہے، واللہ تعالیٰ اعلم، فقط۔</p>
<p><strong> <em>حوالہ جات و حواشی</em></strong></p>
<p>* ۔ ہمارا رسالہ شفاء الوالہ فی صور الحبیب و مزارہ ونعالہ دیکھیے صلی اللہ تعالیٰ علی الحبیب وآلہٖ وبارک وسلم ۱۲ منہ۔<br />
[1] ۔ کشف الخفاء حدیث ۸۸ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۱/ ۳۷<br />
اتحاف السادۃ کتاب عجائب القلب بیان تفصیل مداخل الشیطان الی القلب، دارالفکر بیروت ۷/ ۲۸۳<br />
[2] ۔ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ باب ادراک الفریقۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی۔ ص ۲۴۹۔<br />
[3] ۔ الصواعق المحرقۃ الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۳۔<br />
[4] ۔ الصواعق المحرقۃ، الخاتمۃ فی بیان اعتقاد اہل السنۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۴۔<br />
[5] ۔ الصواعق المحرقۃ، الباب الحادی عشر الفصل الاول مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۱۸۳۔<br />
[6] ۔ مجمع بحار الانوار خاتمہ الکتاب دارالایمان المدینۃ المنوّرۃ ۵/ ۳۰۷۔<br />
[7] ۔ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکر بیروت ۶/ ۳۵۰۔<br />
[8] ۔ صحیح البخاری کتاب التفسیر سورہ نوح ۷۱ باب ودًا ولا سواعاً الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲/ ۷۳۲۔<br />
[9] ۔فتح الباری بحوالہ فاکہی عن عبیداللہ بن عبید  سورۃ نوح مصطفےٰ البابی مصر ۱۰/ ۲۹۵۔<br />
الدر المنثور بحوالہ فاکہی عن عبید اللہ بن عبید سورۃ نوح منشورات مکتبہ آیۃ اللہ قم ایران ۶/ ۲۶۹۔<br />
[10] ۔ تاریخ بغداد  ترجمہ ۳۴۶۴، اسحٰق بن محمد دارالکتاب العربی بیروت ۶/ ۴۰۳ و ۴۰۴۔<br />
[11] ۔ الترغیب والترھیب بحوالہ ابی الشیخ فی الثواب الترغیب فی اطعام الطعام حدیث ۲۱ مصطفےٰ البابی مصر ۲/ ۶۸۔<br />
[12] ۔ فتاوٰی بزازیہ علیٰ ہامش فتاوٰی ہندیۃ کتاب الکراہیۃ النوع الرابع فی الہدیۃ والمیراث نورانی کتب خانہ پشاور ۶/ ۳۴۶۔<br />
[13] ۔ سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیّت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۱۱۵۔<br />
المستدرک للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیّت  دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳۔<br />
[14] ۔ اتحاف السادۃ المتقین کتاب آداب العزلۃ الباب الثانی دارالفکر بیروت ۶/ ۳۵۰۔<br />
[15] ۔ الصواعق المحرقۃ الخاتمہ فی بیان اعتقاد اھل السّنّۃ مکتبہ مجیدیہ ملتان ص ۲۲۴۔<br />
[16] ۔ المستدرک للحاکم کتاب الجنائز البکاء علی المیّت دارالفکر بیروت ۱/ ۳۸۳۔<br />
سنن ابن ماجہ ابواب ماجاء فی الجنائز باب ماجاء فی البکاء علی المیّت ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۱۵۔<br />
[17] ۔ القرآن الکریم ۲۲/ ۳۲۔<br />
[18] ۔ القرآن الکریم ۱۶/ ۴۳ و ۲۱/ ۷۔<br />
[19] ۔ فتاوٰی ہندیہ کتاب الذبائح الباب الاول نورانی کتب خانہ پشاور ۵/ ۲۸۶۔<br />
[20] ۔ المقاصد الحسنۃ حدیث ۱۱۷۰ دارالکتب العلمیۃ بیروت ص ۴۲۶۔<br />
[21] ۔ القرآن الکریم ۶/ ۶۸۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fikrealahazrat.net/hind-taziadari-bayan-shahadat/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فتوٰی. قمری اور ہندی مہینوں میں موسم کا فرق کیوں؟</title>
		<link>http://fikrealahazrat.net/fatwa-qamri-hindi-calander-mausam/</link>
		<comments>http://fikrealahazrat.net/fatwa-qamri-hindi-calander-mausam/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 13 Feb 2010 13:29:19 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Fatawa]]></category>
		<category><![CDATA[امام احمد رضا خاں]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fikrealahazrat.net/?p=3</guid>
		<description><![CDATA[مسئلہ:
قمری مہینے كبھی گرمی سردی كبھی برسات میں ہوتے ہیں اور ہندی مہینے كیوں ہمیشہ ایك ہی موسم میں ہوتے ہیں؟
جواب:
موسموں كی تبدیلی خالق﷯ نے گردشِ آفتاب پر ركھی ہے مثلاً تحویلِ برجِ حمل سے ختمِ جوزا تك فصلِ ربیع ہے۔ پھر تحویلِ سرطان سے ختم سنبلہ تك گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختم قوس [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>مسئلہ:<br />
قمری مہینے كبھی گرمی سردی كبھی برسات میں ہوتے ہیں اور ہندی مہینے كیوں ہمیشہ ایك ہی موسم میں ہوتے ہیں؟<br />
جواب:<br />
موسموں كی تبدیلی خالق﷯ نے گردشِ آفتاب پر ركھی ہے مثلاً تحویلِ برجِ حمل سے ختمِ جوزا تك فصلِ ربیع ہے۔ پھر تحویلِ سرطان سے ختم سنبلہ تك گرمی، پھر تحویلِ میزان سے ختم قوس تك خریف پھر تحویلِ جدّی سے ختمِ حوت تك جاڑا۔ یہ آفتاب كا ایك دورہ ہے كہ تقریبًا ۳۶۵دن اور پونے چھ گھنٹے میں كہ پاؤ كے قریب ہوا پورا ہوتا ہے۔ اور عربی شرعی مہینے قمری ہیں كہ ہلال سے شروع اور ۳۰ یا ۲۹دن میں ختم ہوتے ہیں اور یہ بارہ مہینے یعنی قمری سال ۳۵۴ یا ۳۵۵ دن كا ہوتا ہے تو شمسی سال سےدس یا گیارہ دن چھوٹا ہے۔ سمجھنے كے لیے كسرات چھوڑ كر شمسی سال ۳۶۵ قمری ۳۵۵ ہی ركھیے كہ دس دن كا فرق ہوا۔ اب فرض كیجیے كہ كسی سال یكم رمضان شریف یكم جنوری كو ہوئی تو آئندہ سال ۲۲؍دسمبر كو یكم رمضان ہوگی كہ قمری بارہ مہینے ۳۵۵دن میں ختم ہوجائیں گے اور شمسی سال پورا ہونے كو ابھی دس دن اور دركار ہیں۔ پھر تیسرے سال یكم رمضان ۱۲؍دسمبر كو ہوگی۔ چوتھے سال یكم دسمبر كو ہوگی۔ تین برس میں ایك مہینہ بدل گیا۔ پہلے یكم جنوری كو تھی، اب دسمبر كو ہوئی۔ پَو میں ہر تین برس میں ایك مہینہ بدلے گا اور رمضان المبارك ہر شمسی مہینے میں دورہ فرمائے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔<br />
بعینہٖ یہی حالت ہندی مہینوں كی ہوتی اگر وہ لوند نہ لیتے۔ انہوں نے سال ركھا شمسی اور مہینے لیے قمری تو ہر برس دس دن گھٹ گھٹ كر تین برس بعد ایك مہینہ گھٹ گیا۔ لہٰذا ہر تین سال پر وہ ایك مہینہ مقرر كرلیتے ہیں تاكہ شمسی سال سے مطابقت رہے ور نہ كبھی جیٹھ جاڑوں میں آتا اور پوس گرمیوں میں بلكہ نصارٰی جنہوں نے سال و ماہ سب شمسی لیے، اگر ہر چوتھے سال ایك دن بڑھا كر فروری ۲۹ دن كی نہ كرتے، اُن كو بھی یہی صورت پیش آتی كہ كبھی جون كا مہینہ جاڑوں میں ہوتا اور دسمبر گرمیوں میں۔ یوں كہ سال ۳۶۵دن كا لیا اور آفتاب كا دورہ ابھی چند گھنٹے بعد پورا ہوگا كہ جس كی مقدار تقریبًا ۶گھنٹے تو پہلے سال شمسی سال دورۂِ آفتاب سے ۶گھنٹے پہلے ختم ہوا، دوسرے سال ۱۲گھنٹے پہلے، تیسرے سال ۱۸گھنٹے پہلے، چوتھے سال  تقریبًا چوبیس گھنٹے اور چوبیس گھنٹے كا ایك دن رات ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر چوتھے سال ایك دن بڑھادیا كہ دورۂِ آفتاب سے مطابقت رہے لیكن دورۂِ آفتاب پورے ۶گھنٹے زائد نہ تھا بلكہ تقریبًا پونے چھ گھنٹے تو چوتھے سال پورے ۲۴گھنٹے كا فرق نہ پڑتا تھا بلكہ تقریبًا ۲۳گھنٹے كا ایك گھنٹہ اور بڑھالیا۔ ایك دن كے چوبیس گھنٹے ہیں۔ تو یوں ہر چار سال میں شمسی سال دورۂِ آفتاب سے كچھ كم ایك گھنٹہ بڑھے گا۔ سو برس بعد تقریبًا ایك دن بڑھ جائے گا۔ لہٰذا صدی پر ایك دن گھٹاكر پھر فروری ۲۸دن كا كرلیا۔ اس طرح اور كسرات كا حساب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔<br />
﴿عرفانِ شریعت كامل سہ حصص، ص:۱۷، سُنّی دارالاشاعت، لائل پور﴾</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fikrealahazrat.net/fatwa-qamri-hindi-calander-mausam/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>خوش آمدید</title>
		<link>http://fikrealahazrat.net/hello-world/</link>
		<comments>http://fikrealahazrat.net/hello-world/#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 13 Feb 2010 12:41:01 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Uncategorized]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://fikrealahazrat.net/?p=1</guid>
		<description><![CDATA[فکرِ اعلیٰ حضرت ڈاٹ نیٹ پر خوش آمدید۔ یہاں آپ اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت الشاہ احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے اہلِ سنت کی کتب کا مطالعہ کرسکیں گے۔ ساتھ ہی امام احمد رضا خاں پر مخالفین کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد اعتراضات کا بھی دلائل [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>فکرِ اعلیٰ حضرت ڈاٹ نیٹ پر خوش آمدید۔ یہاں آپ اعلیٰ حضرت مجددِ دین و ملت الشاہ احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ اور دیگر علمائے اہلِ سنت کی کتب کا مطالعہ کرسکیں گے۔ ساتھ ہی امام احمد رضا خاں پر مخالفین کی جانب سے لگائے جانے والے بے بنیاد اعتراضات کا بھی دلائل کے ساتھ جواب دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ عزوجل۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://fikrealahazrat.net/hello-world/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
