اپنی بات2۔ مسعود ملت

اپنی بات۔2
امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی اور خدماتِ ماہرِ رضویات حضرت مسعودِ ملت
مدیر پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری کے قلم سے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی دہلوی ابن مفتی شاہ محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی دہلوی (المتوفی 14/شعبان المعظم 1386ھ/ 28/نومبر 1966ء) ابن مفتی شاہ محمد سعید نقشبندی دہلوی (المتوفی 1307ھ/ 19889ء) ابن مفتی شاہ محمد مسعود نقشبندی مجددی محدثِ دہلوی (المتوفی 1309ھ/ 1892ء) دہلی میں 1349ھ/ 1930ء میں پیدا ہوئے اور ایک طویل بامقصد زندگی گزار کر خدمت ِ دین کرتے ہوئے 22/ربیع الثانی 1429ھ/ 28/اپریل 2008ء بروز پیر (وصالِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن) نمازِ مغرب سے فارغ ہوکر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے جیساکہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یا ایتھا النفس المطمئنۃ O ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ O فادخلی فی عبادی O وادخلی جنتی O
(سورۃ الفجر: 27۔ 30)

”اے اطمینان والی جان (یہ مومن سے اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ موت کا ذائقہ چکھ کر دنیا سے سفرِ آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے) اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔“


پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ کا خاندان برصغیر پاک و ہند میں فروغِ شریعت و طریقت یعنی فروغِ مسلک حنفی اور فروغِ طریقہ نقشبندی میں ممتاز اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کے خاندان کے پردادا مفتی شاہ محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی محدثِ دہلوی نے دہلی میں دارالافتاء اور دارالحدیث قائم کرنے کے ساتھ ساتھ خانقاہ نقشبندیہ مجددیہ مسعودیہ کی بنیاد بھی ڈالی اور آپ نے 1858ء تا 1892ء دارالافتاء میں بحیثیت مفتی خدمت انجام دی جس کے باعث ”فتاویٰ مسعودی“ مرتب ہوا جو پاک و ہند سے کئی دفعہ شائع بھی ہوچکا ہے۔ آپ کے بعد آپ کے پوتے اور قبلہ ڈاکٹر صاحب کے والد محترم مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی دہلوی نے یہ خدمتِ افتاء 1906ء سے 1966ء تک انجام دی اور آپ کے تمام فتاویٰ ”فتاویٰ مظہریہ“ میں شائع ہوچکے ہیں۔ ان دونوں فتاویٰ کی حضرت مسعود احمد علیہ الرحمہ نے تدوین فرمائی ہے۔

حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ خود تو مفتی نہ تھے مگر آپ کے کئی بھائیوں نے اپنے اپنے مقام پر رہتے ہوئے خدمت ِ افتاء انجام دی اور حضرت مفتی شاہ محمد مظہر اللہ نقشبندی دہلوی کے بعد ان کے صاحبزادگان مفتی محمد مشرف احمد دہلوی (المتوفی 1981ء)،مفتی محمد مظفر احمد دہلوی (المتوفی 1971ء)، مفتی حافظ محمد احمد دہلوی (المتوفی 1970ء)، مولانا مفتی منور احمد دہلوی (المتوفی 1945ء)، مولانا محمد منظور احمد دہلوی (المتوفی 1949ء) اور مولانا ڈاکٹر محمد سعید احمد دہلوی (المتوفی 1992ء) نے دارالافتاء کی خوب خدمت انجام دی اور ان دنوں مولانا مفتی ڈاکٹر مکرم احمد دہلوی اپنے دادا کے دادا کی دہلی کی جامع مسجد شاہی فتح پوری میں قائم کردہ دارالافتاء میں پانچویں پشت میں خدمت ِ افتاء انجام دے رہے ہیں ساتھ ہی سلسلہٴ نقشبندیہ مجددیہ مظہریہ کے جانشین کی حیثیت سے بھی ملت ِ اسلامیہ کی اصلاح میں مصروف ہیں۔

حضرت قبلہ ڈاکٹر محمد مسعود احمد دہلوی علیہ الرحمہ 1949ء میں ہجرت کرکے پاکستان تشریف لے آئے تھے اور ہجرت سے قبل اپنے والد کے مدرسہ عالیہ میں درسِ نظامی کی کتابیں پڑھتے رہے جبکہ 1947ء میں علومِ شرقیہ کی سند اورنٹیل کالج، دہلی سے حاصل کی۔ پاکستان آنے کے بعد 1956ء میں پنجاب یونیورسٹی سے بی۔اے اور پھر 1958ء میں جامعہ سندھ سے اردو میں ایم۔اے کی سند حاصل کی۔ 1971ء میں جامعہ سندھ سے پی۔ایچ۔ڈی کی اعلیٰ سند ”اردو میں قرآنی تراجم و تفاسیر“ کے عنوان پر مقالہ لکھ کر حاصل کی۔ مقالہ کی تیاری کے دوران آپ کے استاد اور پی۔ایچ۔ڈی کے نگران پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں نے آپ کو امام احمد رضا محدثِ بریلوی علیہ الرحمہ کے ترجمہٴ قرآن ”کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن“ کے مطالعہ کی طرف رغبت دلائی جس کے باعث حضرت مسعودِ ملت امام احمد رضا کے علمی جوہر سے پہلی مرتبہ روشناس ہوئے۔ چنانچہ آپ خود اس حقیقت کا اظہار فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
”استاد محترم نے 36سال قبل خود راقم کو ہدایت فرمائی کہ امام احمد رضا کا ترجمہٴ قرآن کنز الایمان مطالعہ کیا جائے کہ قرآنی ترجم میں بہترین ترجمہ ہے۔“
(تقدیم برکتاب اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خاں کی نعتیہ از پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں، ص:2، مطبوعہ 1994ء)

حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ کو امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کے علمی خزانہ کی طرف کام کرنے کے لیے جن حضرات نے رہنمائی فرمائی اس میں مجلسِ رضا، لاہور (قائم کردہ 1970ء) کے اراکین کا اہم کردار ہے خاص کر محترم جناب حکیم محمد موسیٰ امرتسری، حضرت علامہ مولانا عبد الحکیم اختر شاہجہاں پوری، محترم جناب محمد عارف رضوی ضیائی مدظلہ العالی، محترم جناب مقبول احمد ضیائی (المتوفی ربیع الثانی 1429ھ) کے اسماء گرامی قابلِ ذکر ہیں۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمۃ نے اپنا پہلا مقالہ ”فاضلِ بریلوی اور ترکِ موالات“ کے عنوان پر لکھا جسے مرکزی مجلسِ رضا، لاہور نے 1971ء میں شائع کیا۔ جلد ہی دوسرا اہم مقالہ بعنوان ”فاضلِ بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں“ 1973ء میں مرکزی مجلس رضا، لاہور نے شائع کیا اور یوں حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ، امام احمد رضا کی شخصیت اور علمی کارناموں کو عوام الناس کے سامنے قلمی شاہکار کی صورت میں پیش کرنے میں مصروف ہوگئے۔ کسے خبر تھی کہ آپ 35سال اس شخصیت پر کام کریں گے اور دنیا میں امام احمد رضا کو متعارف کرائیں گے اور ان کی علمی حیثیت کو منوائیں گے۔ مگر اللہ تعالیٰ کو حضرت پروفیسر مسعود صاحب علیہ الرحمہ سے یہ کام لینا تھا چنانچہ وہ اپنے مشن میں کامیاب رہے۔

راقم یہاں ڈاکٹر صاحب کی علمی خدمات کا جائزہ نہیں لے رہا ہے۔ یہاں صرف ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے حوالہ سے ان کی خدمات کا جائزہ لیا جائے گا جس کے باعث امام احمد رضا 25سالوں میں دنیا کی بڑی بڑی جامعات میں اور وسیع علمی حلقے میں متعارف ہوئے۔

حضرت مولانا سید ریاست علی قادری نوری علیہ الرحمہ (المتوفی 1992ء) پاکستان کے ٹیلیفون کے محکمہ میں ملازم تھے اور مولوداً بریلوی ہونے کے باعث امام احمد رضا سے والہانہ محبت رکھتے تھے۔ ان کے سامنے 1970ء تا 1979ء مجلسِ رضا، لاہور کی کارکردگی بھی تھی۔ آپ نے یہ خیال کرتے ہوئے کہ دس سالوں میں امام احمد رضا کے تعارف میں زیادہ تر ان کی نعتیہ شاعری پر زیادہ تحقیق ہوئی جبکہ دوسری جہتوں میں بہت کم مقالات لکھے گئے ہیں۔ سوائے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے مقالات کے اکثر لکھنے والے پرانی باتوں کو ہی پیش کردیتے ہیں چنانچہ انہوں نے اسی جذبہ کے تحت 1979ء میں بریلی شریف کا دورہ کیا اور وہاں موجود علماء و مشائخ بالخصوص خانوادہٴ رضا سے تعلق رکھنے واے حضرات سے ملاقاتیں کیں خاص کر مفتیٴ اعظم ہند حضرت علامہ مولانا مفتی محمد مصطفی خاں قادری برکاتی نوری رضوی (المتوفی 1982ء) علیہ الرحمہ سے ملاقات کرکے امام احمد رضا کے قلمی خزانے سے 100 سے زیادہ قلمی مسودات کی نقول حاصل کرکے پاکستان لائے اور سب سے پہلے پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب سے رابطہ کرکے ان سے ملاقات کا وقت لیا اور یہ سب علمی خزانہ ان کے پاس لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب تو علمی خزانے کو دیکھ کر دنگ رہ گئے اور فرمایا کہ اب اس کام کو سمیٹنے کے لیے ایک ادارہ کی ضرورت ہے اور ایک ٹیم کی ضرورت ہے جو اس علمی خزانے کو عوام الناس کے سامنے پیش کرسکے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کے حکم اور مشورہ پر سید ریاست علی قادری علیہ الرحمہ نے اپنے حلقہٴ احباب پر نظر ڈالی اور چند افراد کو ان میں سے منتخب کرکے وہ لسٹ ڈاکٹر صاحب کے پاس لے گئے۔ ان میں سے جن افراد کو ٹیم میں شامل رکھا گیا، ان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
1۔ مفتی تقدس علی خاں قادری رضوی حامدی بریلوی (المتوفی 1987ء)
2۔ حضرت علامہ شمس الحسن شمس بریلوی صدیقی (المتوفی 1992ء)
3۔ حضرت مولانا شفیع محمد قادری حامدی (المتوفی 2005ء)
4۔ سید وجاہت رسول قادری (موجودہ صدر ادارہ)
5۔ حضرت مولانا مفتی محمد اطہر نعیمی مدظلہ العالی
6۔ حاجی عبد اللطیف قادری نوری زید مجدہ

ان تمام حضرات کی پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد اور سید ریاست علی قادری صاحب کے ساتھ میٹنگ ہوئی اور پندرہویں صدی ہجری کے اوائل ہی میں 1980ء میں ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا قائم کیا گیا جس میں چند اہم نکات طے کئے گئے:
1۔ ہر سال اعلیٰ پیمانہ پر کسی اچھے ہوٹل میں امام احمد رضا کانفرنس منعقد کی جائے جس میں اساتذہ کرام، اسکالرز اور دیگر شعبہٴ جات سے تعلق رکھتے والے امام احمد رضا پر مقالات پیش کریں۔
2۔ ادارہ ہر سال ”معارفِ رضا“ کے نام سے سالنامہ شائع کرے جس میں کانفرنس میں پیش کئے گئے مقالات کو شائع کیا جائے۔
3۔ پاک و ہند کے اہلِ قلم کا تعاون حاصل کیا جائے تاکہ معیاری مقالات حاصل ہوسکیں۔
4۔ امام احمد رضا کو جامعات، کالج اور اسکول کے اساتذہ کرام کے درمیان متعارف کرایا جائے۔

حضرت قبلہ ڈاکٹر صاحب کی ان تمام سفارشات کو سید ریاست علی قادری علیہ الرحمہ نے پورا کرنے کے عزم کیا اور ادارہ کی تشکیل کے بعد ان احباب کے ساتھ مل کر کام کا آغاز کیا اور اپنی زندگی کی آخری سانس تک اس مشن کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ قارئین کی معلومات کے لیے اتنا عرض کرتا چلوں کہ ادارہ کا نام اور سالنامے کا نام حضرت علامہ شمس الحسن شمس بریلوی کا تجویز کردہ ہے جبکہ اس ادارہ کا آفس سید صاحب کا گھر قرار پایا۔

حضرت پروفیسر ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ نے سب سے پہلے ان قلمی ذخیرہ میں سے امام احمد رضا کے ایک حاشیہ کا انتخاب فرمایا جو امام احمد رضا نے ایک لوگارثم کے رسالہ پر قلمبند کیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس حواشی پر تقدیم بھی لکھی۔ ادارہ کے قیام کے فوراً بعد قبلہ ڈاکٹر محمد مسعود احمد کی پہلی تحریر اس لوگارثم پر تقدیم ہے جس میں امام احمد رضا کا مختصر مگر بہت ہی جامع علمی تعارف کرایا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ تقدیم 9دسمبر 1979ء کو لکھی تھی اور دنوں آپ سکرنڈ ضلع نواب شاہ کے گورنمنٹ سائنس کالج کے پرنسپل تھے۔

ادارہ کے قیام کے بعد 1981ء میں پہلا شمارہ ”معارفِ رضا)‘ کے نام سے شائع کیا جس میں برصغیر پاک و ہند کے ممتاز علماء اور اسکالرز حضرات نے مقالات لکھے تھے اس میں ڈاکٹر صاحب کا مقالہ بعنوان ”جدید و قدیم سائنسی افکار و نظریات اور امام احمد رضا“ بالکل منفرد اور علمی طور پر انتہائی مدلل اور پُرمغز تھا۔ اس مقالے سے ایک انتہائی مختصر اقتباس ملاحظہ کیجئے:
”امام احمد رضا نے جدید و قدیم نظریات کے مقابلے میں اپنے نظریات پیش کیے ہیں جن میں بعض جدید نظریات سے بھی ہم آہنگ ہیں۔ گو نصف صدی قبل وہ نامعقول نظر آتے ہوں کیونکہ وہ زمانہ جدید سائنس سے مغلوبیت اور مرعوبیت کا زمانہ تھا۔ علومِ جدیدہ کے رعب نے دماغ کو ماؤف اور فکر کو مسلوب کردیا تھا اور ناقص کو کامل پر فوقیت دی جارہی تھی۔“
(معارفِ رضا، شمارہ اول، ص: 25، 26) مطبوعہ 1401ھ/ 1980ء، کراچی)

اس مقالہ کے آخر میں یاس و حسرت کا اظہار کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”جدید و قدیم سائنس کے متعلق امام احمد رضا نے جو کچھ لکھا، وہ بیشتر فارسی اور عربی میں ہے ۔ اردو میں بہت کم ہے چنانچہ علمی دشواری یہ ہے کہ اہلِ علم و فن عربی اور فارسی سے واقف نہیں اور جو لوگ یہ زبانیں جانتے ہیں وہ علومِ جدیدہ پرحاوی نہیں۔“
(معارفِ رضا، جلد اول، ص:29، مطبوعہ 1980ء، کراچی)

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ نے 1982ء میں ایک انتہائی اہم مونوگراف ”دائرہ معارفِ رضا“ کے نام سے مرتب کیا جس میں امام احمد رضا کے حیات و افکار پر 15ضخیم جلدوں پر مشتمل ایک جامعہ منصوبہ کا خاکہ پیش کیا جس کو ادارہ نے شائع کیا ۔ اس خاکہ کے آغاز میں اس منصوبہ کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے رقمطراز ہیں:

”پندرہ مجلدات کو مرتب کرنے کے لیے ایک زمانہ چاہئے۔ یہ کام فرد کا نہیں بلکہ ادارہ ہی کرسکتا ہے۔ سرکاری اور غیرسرکاری مصروفیات کی وجہ سے اس منصوبے کی تکمیل راقم کے لیے ممکن نہیں۔ اس لیے اس وقت یہ ہی مناسب خیال کیا کہ اس منصوبے کا خاکہ محققین کے لیے شائع کردیا جائے۔ راقم نے حیاتِ امام احمد رضا ارتقائی صورت میں پیش کیا ہے۔ پہلے پہل ایک مختصر سوانح حیاتِ فاضل بریلوی کے عنوان سے شائع ہوئی اور ایک متوسط سوانح حیاتِ مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے عنوان سے شائع ہونے والی ہے اس کے بعد بسیط سوانح پیش کی جائے گی جو تقریبا ہزار صفحات پر مشتمل ہوگی ان شاء اللہ۔“ (حرفِ آغاز بر کتاب ”دائرہ معارفِ رضا“، ص:11، مطبوعہ 1982ء، کراچی)

ڈاکٹر صاحب نے معارفِ رضا شمارہ دوم کے لیے بھی ایک جامع مقالہ بعنوان ”عالمی جامعات اور امام احمد رضا“ لکھا جس کے باعث پاک و ہند کی جامعات میں بالخصوص امام احمد رضا پر تحقیق کے لیے تحریک پیدا ہوئی اور یکے بعد دیگرے پاک و ہند کی جامعات میں PhD کے Synopsis امام احمد رضا کے حوالہ سے جمع کئے جانے لگے اور ان سب کی حقیقی نگرانی پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب ہی فرمارہے تھے۔

ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کے ابتدائی سالوں میں کئی علمی و قلمی شخصیات شامل رہیں مگر الگ الگ مصروفیات کے باعث کئی حضرات اس ادارہ کو خیرباد کہہ گئے مگر سید ریاست علی قادری اور ان کے ساتھ مولانا شفیع محمد قادری اور حاجی عبد اللطیف قادری ہراول دستے کی مانند ساتھ ساتھ رہے اور علمی دنیا میں ڈاکٹر محمد مسعود احمد اور شمس بریلوی صاحب ان کو ڈھارس دیتے رہے۔ راقم بھی 1982ء کے آخر میں ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے شامل ہوگیا جبکہ والد ماجد شیخ حمید اللہ قادری حشمتی مالی تعاون کے ساتھ 1982ء سے تادمِ آخر 1989ء تک شامل رہے۔

1983ء تا 1985ء ادارہ کے لیے سب سے مشکل سال تھے۔ راقم چشمِ دید گواہ ہے کہ سید ریاست علی قادری صاحب کو کتنی دشواریاں پیش آتی تھیں۔ اہلِ ثروت حضرات اگرچہ رضویت کا دم بھرتے تھکتے نہ تھے مگر جب ادارہ کے مالی تعاون کے لیے کہا جاتا تو ہزار بہانے اور عذر پیش کردیتے مگر ڈاکٹر صاحب اور شمس بریلوی صاحبان نے ہمیشہ ہمت بندھوائی جس کے باعث ادارہ سفر طے کرتا رہا۔ گو کہ ان تین سالوں کا سفر بہت سست تھا مگر اعلیٰ حضرت کے فیض نے ہمت نہ ٹوٹنے دی۔

1982ء 1985ء تک ڈاکٹر صاحب کے مندرجہ ذیل مقالات معارف میں شائع ہوئے:
1۔ امام احمد رضا کے ماہ و سال۔ معارفِ رضا شمارہ:3، 1983ء، ص:81، 85
2۔ پیش گفتار بر کتاب فوزِ مبین۔ معارفِ رضا شمارہ:3، 1983ء، ص: 164۔ 172
3۔ سرتاج الفقہاء۔ معارفِ رضا شمارہ:4، 1984ء، ص:162۔ 176
4۔ امام احمد رضا اہلِ علم و دانش کی نظر میں۔ معارفِ رضا شمارہ:5، 1985ء، ص:112۔ 117

مقالات کے علاوہ دیگر کتب جو ادارہ نے شائع کیں:
1۔ امام احمد رضا اور عالمِ اسلام۔ 1983ء۔ امام احمد رضا کی علمی حیثیت عرب علماء و مشائخ کی تصدیقات و تقریظات کی روشنی میں۔
2۔ گناہِ بے گناہی۔ 1983ء۔ امام احمد رضا پر کئے گئے اعتراضات کا جواب۔یہ کتاب اول مجلسِ رضا، لاہور نے شائع کی تھی، اس کی افادیت کی خاطر ادارہ نے بھی اس کو شائع کیا۔
3۔ اجالا۔ 1984ء۔ امام احمد رضا پر قلم برداشتہ سوانحی مقالہ۔
4۔ نور اور نار۔ 1984ء۔ اسمٰعیل دہلوی کی کتاب ”تقویۃ الایمان“ کا مدلل رد، امام احمد رضا کی تعلیمات کی روشنی میں۔

ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کی جانب سے سالانہ امام احمد رضا کانفرنس کا انعقاد ڈاکٹر صاحب کے مشورے سے 1982ء سے شروع ہوا جس میں اہلِ علم و دانش حضرات کو بالخصوص جامعات اور کالج کے اساتذہ کرام کو مقالات پڑھنے اور پیش کرنے کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ پہلی امام احمد رضا کانفرنس 18/دسمبر 1982ء میں تھیوس فیکل ہال محمد علی جناح روڈ (سابقہ بندر روڈ) منعقد کی گئی جس کی صدارت ریٹائرڈ ایڈمرل ایم۔آئی ارشد صاحب نے کی جبکہ مہمان خصوصی ریٹائر جسٹس جناب قدیر الدین احمد تھے۔ اس میں کراچی کے ممتاز اسکالرز اور دانشوروں نے شرکت کی جن میں سید الطاف بریلوی، پروفیسر ڈاکٹر سید ابوالخیر کشفی، پروفیسر ڈاکٹر محمد ایوب قادری، پروفیسر ڈاکٹر ابواللیث صدیقی کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر صاحب اسٹیج پر نہ بیٹھے اگرچہ وہ اس کانفرنس کا انعقاد کرنے کے بانیوں میں سے تھے مگر اپنی طبیعت کی سادگی اور عاجزی کے باعث انہوں نے دوسروں کو آگے کیا اور زندگی بھر وہ کبھی اسٹیج پر رونق افروز نہ ہوئے یہاں تک کی ان کی زندگی کی آخری کانفرنس جس میں انہوں نے اپنی طبیعت کی ناسازی کے باوجود شرکت کی، 23/فروری 2008ء میں سرسید انجینئرنگ یونیورسٹی، کراچی میں منعقد ہوئی۔ اس میں بھی پہلی صف میں کچھ دیر کے لیے آکر بیٹھے اور چلے گئے۔

احقر اس آخری کانفرنس میں ان کی شرکت کی تھوڑی تفصیل بتانا پسند کرے گا جس سے ڈاکٹر صاحب کے اخلاقِ عالیہ اور ایفائے عہد کی عکاسی ہوگی۔ کانفرنس کا وقت 5بجے شام دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر صاحب اپنے وعدے اور عادت کے مطابق لگ بھگ پانچ بجے سرسید یونیورسٹی کے ہال میں پہنچ گئے۔ احقر نے آپ کی آمد پر استقبال کیا۔ اس وقت ہال میں صرف 3مہمان موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی طبیعت کمزوری کے باعث نقاہت ظاہر کررہی تھی۔ لیکن ڈاکٹر صاحب آدھ گھنٹہ بیٹھ کر چلے گئے اور فرمایا کہ قریب ایک محب کے گھر آرام کررہا ہوں، جب پروگرام شروع ہو تو مجھے فون کردیجئے گا۔ قارئین کرام یقین کریں کہ ڈاکٹر صاحب کے چہرے پر ناراضگی کے آثار تک نہ تھے، ماتھے پر کوئی شکن نہ تھی، برہمی دور دور تک نہ تھی گوکہ ادارہ کے سرپرست ِ اعلیٰ تھے لیکن قربان جایئے اس بُردباری اور حسن سلوک کے، فرمایا مجید اللہ کیا کریں لوگوں کو دیر سے آنے کی عادت پڑگئی ہے۔ آپ مجھے فون کردیجئے گا۔ میں کچھ دیر کے لیے دوبارہ حاضر ہوجاؤں گا۔ ساڑھے چھ بجے پروگرام شروع ہوا۔ احقر نے آپ کو فون کیا، آپ 15منٹ میں دوبارہ تشریف لے آئے بغیر کسی شکوہ شکایت کے۔ مغرب کی نماز کے بعد احقر کا امام احمد رضا کی سائنسی تخلیقات پر Presentation تھا جس کا دورانیہ ایک گھنٹہ تھا۔ ڈاکٹر صاحب باوجود نقاہت کے احقر کے پریزنٹیشن کو دیکھتے رہے۔ جب وہ ختم ہوا تو مجھے اشارہ کیا کہ میں جانا چاہتا ہوں۔ احقر جب قریب گیا تو فرمایا، ڈاکٹر مجید اللہ! آپ نے آج طبیعت خوش کردی، بہت اچھا مقالہ اور بہت اچھے انداز میں پیش کیا، خوب دعائیں دیں اور پھر ہال سے باہر تشریف لے گئے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی قبر کو منور فرمائے اور ہم سب کو آپ کے اخلاقِ عالیہ اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔

ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کا دوسرا سفر 1986ء سے شروع ہوتا ہے کیونکہ 1985ء کی کانفرنس کے بعد سید ریاست علی قادری تقریباً ہمت ہار چکے تھے کہ پھر ڈاکٹر صاحب اور شمس بریلوی صاحب کے ہمت دلانے کے باعث ایک دفعہ پھر کمربستہ ہوئے۔ مگر اس دفعہ ڈاکٹر صاحب نے ادارہ کی مکمل مجلس قائم کرنے کا مشورہ دیا کہ ادارہ فرد سے نہیں، افراد سے چلتا ہے چنانچہ 1986ء میں اس ادارہ کی باقاعدہ مجلس قائم کی گئی، ادارہ رجسٹرڈ کرایا گیا اور ادارہ کے لیے ایک آفس خریدا گیا اور الحمدللہ یہ کام بہت تیزی سے ہوا اور بہت آسانی سے یہ مراحل طے ہوگئے۔ وہ پہلی مجلسِ عاملہ جو تشکیل پائی، مندرجہ ذیل افراد پر مشتمل تھی: مفتی تقدس علی خاں، حضرت شمس بریلوی، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد، الحاج شیخ حمید اللہ قادری (احقر کے والد)، حاجی حبیب احمد (یونین بسکٹ والے)، ادارہ کے سرپرست قرار پائے جبکہ سید ریاست علی قادری ادارہ کے بانی اور تاحیات صدر منتخب ہوئے۔ محترم منظور احمد جیلانی کو فنانس سیکریٹری اور جنرل سیکریٹری کے لیے احقر کو چنا گیا اور الحمدللہ آج بھی احقر اس خدمت پر مامور ہے جبکہ سید وجاہت رسول قادری اور الحاج شفیع محمد قادری صاحبان کو رکن کی حیثیت سے منتخب کیا اور اس طرح ادارہ نے 1986ء میں تازہ دم ٹیم کے ساتھ دوبارہ سفر کا آغاز کیا جو خدا کے فضل و کرم سے آج بھی جاری و ساری ہے۔ مجلسِ عاملہ کے قیام کے بعد اس کے سال میں دو سے تین اجلاس ہوتے تھے جو بعد میں دو اور پھر سال میں ایک اجلاس ہونے لگا۔ حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے سرپرست کی حیثیت سے تمام ہی اجلاسوں میں شرکت فرمائی اور مجھے یاد ہے کہ کسی اجلاس میں ڈاکٹر صاحب متعین وقت سے کبھی دیر سے نہ پہنچے۔ اکثر اجلاس ادارہ کے آفس میں ہوتے تھے یا احقر کے گھر مگر ڈاکٹر صاحب ہمیشہ وقت سے پہنچے جبکہ بعض اراکین عموماً ڈاکٹر صاحب کی آمد کے بعد پہنچتے مگر ڈاکٹر صاحب نے کبھی شکوہ نہ کیا کہ آپ لوگ میرا وقت ضائع کرتے ہیں اور میرا خیال نہیں کرتے وغیرہ وغیرہ۔

حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمہ میٹنگ کے دوران ہمیشہ اپنے پاس میٹنگ کے ایجنڈے کے مطابق کچھ نہ کچھ سفارشات لکھ کر لاتے جبکہ ہم تمام حضرات اس میٹنگ کے اندر زبانی اپنی اپنی رائے ایجنڈے کے مطابق پیش کرتے۔ یہ ان کی تربیت کا انداز تھا کہ جب ایجنڈا پہلے سے دے دیا گیا تو پھر اس پر سوچ بچار کرکے اور سفارشات لکھ کر لانا چاہئے۔ چنانچہ ڈاکٹر صاحب کی ہی سفارشات پر ادارہ آگے بڑھتا رہا اور خدا نے چاہا تو آگے بڑھتا رہے گا۔ ادارہ نے جس جہت میں بھی کام کیا ہے اس میں ڈاکٹر صاحب کا مشورہ اور رائے ضرور رہی چاہے وہ پی ایچ ڈی کرانے کا معاملہ ہو یا ادارہ کو عالمی سطح پر متعارف کروانے کا سلسلہ۔ ٹی وی پر اعلیٰ حضرت کی حیات پیش کی جانے کی سفارش ہو یا امام احمد رضا کے وصال کے موقع پر اخبارات میں امام احمد رضا ایڈیشن کا سلسلہٴ اشاعت کے وقت کتب کے تزئین ہو یا کسی کتاب کو بہتر انداز میں شائع کرنے کا سلسلہ، ہر ہر پہلو میں ڈاکٹر صاحب نے رہنمائی فرمائی۔ اس لیے ادارہ کی کل ترقی ڈاکٹر صاحب کے مشوروں کی مرہونِ منت ہے۔ ہر ادارہ میں جہاں کئی افراد ہوتے ہیں، اس میں رنجشیں بھی ہوتی ہیں جس کے باعث ادارے ٹوٹتے اور بٹتے ہیں۔ ہمارا ادارہ بھی افراد پر مشتمل تھا۔ یہاں بھی کئی دفعہ اس قسم کی صورتحال پیش آئی مگر ڈاکٹر صاحب کی فہم و فراست نے ہمیشہ بہترین کردار ادا کیا اور ادارہ اور ادارہ والوں کو آپس میں بٹنے نہ دیا اور ہمیشہ سب کو جوڑ کر رکھا اور آپس کی رنجشوں کو دلوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کرادیا۔ اس لیے الحمدللہ تسلسل کے ساتھ ادارہ کی سالانہ کانفرنس، سالانہ معارف اور ماہنامہ معارفِ رضا کا سلسلہ آج بھی جاری و ساری ہے اگرچہ اس وقت ادارہ کے پاس افرادی قوت انتہائی قلیل ہے مگر فیضِ رضا اور نظرِ مسعودِ ملت جاری و ساری ہے۔

حضرت پروفیسر ڈاکٹرمحمد مسعود احمد علیہ الرحمہ کی رفاقت اور سرپرستی ادارہ کو 28سال حاصل رہی۔ ادارہ کی مجلسِ عاملہ میں نئے لوگ شامل ہوتے رہے اور نہ جانے کتنے حضرات اپنی مصروفیات کے باعث ادارہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ سب کے اپنے اپنے مزاج مگر میٹنگ کے دوران یا میٹنگ کے علاوہ ڈاکٹر صاحب کی کسی بھی ایک فرد کے ساتھ کبھی بھی ناراضگی نہ ہوئی۔ اگرچہ نئے حضرات ڈاکٹر صاحب سے مختلف معاملات میں تحفظات رکھتے تھے۔ قارئین کرام! یہ حقیقت ہے کہ 28سال میں احقر نے کبھی ڈاکٹر صاحب کو غصے مین نہ دیکھا اور نہ ہی کسی فرد کو ڈانٹتے ہوئے پایا۔ اس کے برعکس متعدد بار آپ نے غلطیوں کا اعتراف کرنے والوں کو اس طرح معاف کیا کہ جیسا ان سے وہ غلطی سرزد ہی نہ ہوئی۔ یقینا اس کردار کے اعلیٰ حسنِ سلوک کے باعث ادارہ مسلسل اپنی ترقی کے منازل طے کرتا رہا۔ خداوند کریم ڈاکٹر صاحب کے فیضِ نظر کو ادارہ پر ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔

آخر میں ڈاکٹر صاحب کے مقالات جو معارفِ رضا سالانہ اور معارفِ رضا ماہانہ میں شائع ہوئے، اس کی فہرست پیش کررہا ہوں اور مقالات کے علاوہ جو ان کی کتب ادارہ نے شائع کیں اس کی فہرست بھی درج کررہا ہوں تاکہ قاری کو حضرت کی خدمات جو ادارہ کے حوالے سے امام احمد رضا پر ہیں، ان کے آگاہی حاصل ہوسکے۔ خیال رہے کہ ادارہ کے علاوہ بھی ڈاکٹر صاحب کی امام احمد رضا پر متعدد کتب دوسرے پبلشرز نے شائع کی ہیں، ان کی تفصیل کے لیے تذکارِ مسعودِ ملت، منزل بہ منزل محترم عبد الستار طاہر کی ملاحظہ کی جاسکتی ہیں:
1۔ امام احمد رضا اور علومِ جدیدہ۔ شمارہ ششم 1986ء۔ ص:57۔82
2۔ حیاتِ امام احمد رضا ایک نظر میں۔ شمارہ ہفتم 1987ء۔ ص:9۔14
3۔ امام احمد رضا کا ایک نادر فتویٰ۔ شمارہ ہشتم 1988ء۔ ص:98۔106
4۔ امام احمد رضا بریلوی اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی۔ شمارہ نہم 1989ء۔ ص: 155۔192
5۔ امام احمد رضا غریبوں کے غم خوار۔ شمارہ دہم 1990ء۔ ص:49۔57
6۔ اہلِ دانش کے تاثرات۔ شمارہ:11۔ 1991ء۔ ص:296۔ 304
7۔ کنز الایمان کی ادبی جھلکیاں۔ شمارہ:12۔ 1992ء۔ ص:28۔40
8۔ علمی نوادرات۔ شمارہ:12۔ 1992ء۔ ص: 235۔ 236
9۔ نغمہٴ رضا لم یات نظیرک فی نظر کا ترجمہ و حواشی۔ شمارہ:14۔ 1994ء۔ ص:12۔14
10۔ محدثِ بریلوی کے اہم مشاغل اور نظریات۔ شمارہ:16۔ 1996ء۔ص:61۔ 70
11۔ حضرت بریلوی کی شاعری اپنے آئینے میں۔ شمارہ: 17۔ 1997ء۔ ص:109۔ 112
12۔ امام احمد رضا اور دنیائے عرب۔ شمارہ: 20۔ 2000ء۔ ص:15۔19
13۔ امام احمد رضا اور دارالعلوم منظر اسلام بریلی۔ شمارہ:21۔ 2001ء۔ ص:68۔ 72
14۔ امام المحدثین احمد رضا خاں بریلوی۔ شمارہ: 23۔ 2003ء۔ ص:23۔31
15۔ چشم و چراغِ خاندانہ برکاتیہ۔ شمارہ: 24۔ 2004ء۔ ص:83۔91

ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا نے جب ماہنامہ ”معارفِ رضا“ کا اول شمارہ شائع کیا، حسنِ اتفاق سے وہ سال ہجری 1401ھ کا پہلا سال تھا اور جب سن عیسوی 2000ء شروع ہوا یعنی 21ویں صدی عیسوی شروع ہوئی تو ادارہ نے معارفِ رضا کے ماہانہ جریدہ کا سلسلہ شروع کیا اور پہلا ماہانہ شمارہ جنوری 2000ء میں شائع ہوا اور الحمدللہ تسلسل کے ساتھ ماہانہ سلسلہ جاری و ساری ہے اور کانفرنس کے موقع پر ہم سالنامہ بھی شائع کرتے ہیں۔ ادارہ نے معارفِ رضا سالنامہ میں بھی 2000ء سے ایک اضافہ یہ کیا کہ 2003ء سے انگریزی اور عربی میں علیحدہ علیحدہ سالنامہ شائع کرنا شروع کردیئے اور الحمدللہ اس کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

اب ملاحظہ کیجئے اردو معارفِ رضا ماہنامہ میں شائع ہونے والے ڈاکٹر صاحب کے مقالات:
1۔ فاضلِ بریلوی کا امتیازِ فکر۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ جنوری 2000ء، ص:15۔17
2۔ وقت کی پکار۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ مارچ 2000ء۔ ص:12۔17
3۔ تحریکِ پاکستان۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ اگست 2000ء۔ ص:12۔15
4۔ تصور پاکستان۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ نومبر 2000ء۔ ص:5۔12
5۔ فاضلِ بریلوی کی تعلیمی نظریات۔ ماہانہ معارفِ رضا۔ شمارہ اپریل 2001ء۔ ص:9۔10
6۔ امام احمد رضا پر کام کی رفتار۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ جون 2001ء، ص:5۔9
7۔ القادیانیہ پر ایک نظر۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ دسمبر 2001ء۔ ص:9۔ 12
8۔ خطبہٴ صدارت (امام احمد رضا کانفرنس، کوئٹہ)۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔ شمارہ مارچ 2002ء۔ ص:9۔11
9۔ مفتی اعظم مصطفی رضا خاں۔ ماہنامہ معارفِ رضا۔اپریل 2002ء۔ ص:5۔6
10۔ علامہ مفتی عبد القیوم ہزاروی۔ فروری 2004ء۔ ص:19۔21
11۔ آل انڈیا سنی کانفرنس۔ اگست 2004ء۔ ص:20۔22
12۔ علامہ تحسین رضا خاں علیہ الرحمہ۔ اگست 2007ء۔ ص:49۔50

ادارہ نے موقع بہ موقع پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود علیہ الرحمۃ کی متعدد کتب انگریزی اور عربی میں شائع کی ہیں جن کی لسٹ قارئین کی معلومات کے لیے یہاں درج کی جارہی ہے۔ یہ تمام کتب ادارے سے دستیاب ہوسکتی ہیں:
1۔ سوجھرو۔ (ڈاکٹر صاحب کی کتاب ”اجالا“ کا سندھی ترجمہ)۔ 1986ء
2۔ رہبر و رہنما (طلبہ کی معلومات کے لیے خاص کر لکھا گیا)۔ 1986ء
3۔ آئینہٴ رضویات (ڈاکٹر صاحب کے امام احمد رضا پر لکھی گئی کتابوں پر تقدیم اور پیش لفظ)۔ جلد اول۔ 1989ء
4۔ Baseless Blame (”گناہِ بے گناہی“ کا ترجمہ)۔ 1991ء
5۔ Neglected Geniouse of the East (”عبقری شخصیت“ کا ترجمہ“)۔ 1991ء
6۔ The Savior (”رہبر و رہنما“ کا ترجمہ)۔ 1991ء
7۔ آئینہ رضویات۔ جلد دوم۔ 1993ء
8۔ محدثِ بریلوی۔ 1993ء
9۔ فقیہ العصر۔ عربی۔ 1993ء
10۔ عشق ہی عشق۔ امام احمد رضا کے والد کی کتاب تفسیر الم نشرح میں نبی کریمﷺ کے لیے لکھے گئے القابات کی تشریح۔ 1993ء۔
11۔ ارمغانِ رضا (امام احمد رضا کا منتخب فارسی کلام)۔ 1994ء
12۔ The Reformer of Muslim World۔ 1995ء
13۔ دور الشیخ احمد رضا (عربی)۔ 1995ء
14۔ حیاتِ مولانا احمد رضا۔ جدید ایڈیشن۔ 1999ء
15۔ The Light۔ اجالا کا انگریزی ترجمہ۔ 2000ء
16۔ دارالعلوم منظرِ اسلام۔ 2001ء
17۔ خلفائے محدثِ بریلوی۔ 2005ء
18۔ الشیخ احمد رضا بریلوی (عربی)۔ 2005ء

انگریزی زبان میں پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد کے مندرجہ ذیل مقالات معارفِ رضا سالنامے میں شائع ہوئے:
1. Chronicle of Imam Ahmad Raza. Vol.9, 1989. P: 8-12
2. Imam Ahmad Raza a Scholar of high prefections. V.15, 1995. P:18-28
3. Rebuttal of Innovations (Radd-i-Bida), V.17, 1997. P: 15-21
4. The Light. V.26, 2006. P: 84-112

قارئین کرام! آپ نے ملاحظہ کیا کہ فردِ واحد نے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود ادارہ تحقیقاتِ امام احمد رضا کو نہ صرف قائم کرانے میں اہم کردار ادا کیا اور سرپرستی فرمائی بلکہ قلمی حیثیت میں بھی تمام اراکینِ ادارہ سے زیادہ تنہا خدمات پیش فرمائیں کہ جن کو مندرجہ ذیل طور پر سمیٹا جاسکتا ہے:

مقالات جو معارفِ رضا سالنامہ اور ماہنامہ میں شائع ہوئے ان کی تعداد 19 اور 12 ہے جبکہ انگریزی معارفِ رضا میں 6مقالات شائع ہوئے اس کے علاوہ جو کتب اردو، انگریزی، فارسی، عربی اور سندھی میں شائع ہوئیں، ان کی تعداد 22 ہے۔ اس طرح آپ نے 28سال مسلسل ادارہ کے علمی، قلمی کاموں میں حصہ لیا اور سرپرستی کا حق ادا کردیا۔ ادارہ آپ کی یاد میں یہ خصوصی شمارہ شائع کررہا ہے جس میں برصغیر پاک و ہند کے ممتاز علماء و مشائخ، اسکالرز اور دانشور حضرات کے مقالات، تاثرات اور منظوم خراجِ عقیدت پیش کیے جارہے ہیں۔ اس سے قبل بھی پچھلے شمارہ میں پروفیسر ڈاکٹر صاحب کے متعلق ہی خصوصی شمارہ جولائی 2008ء ماہرِ رضویات کے نمبر کے طور پر شائع کیا گیا جس میں تاثرات اور تعزیتی پیغامات تھے اور ان شاء اللہ اگست کے آخر میں ادارہ ڈاکٹر صاحب کے لیے ایک تعزیتی ریفرنس کا اہتمام بھی کررہا ہے۔ ہم ایک دفعہ پھر ڈاکٹر صاحب کے تمام ہی تمام ۔۔۔ محبین، متوسلین، مریدین، سب کے لیے دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت کے وصال کے صدمے کو برداشت کرنے کے لیے صبرِ جمیل عطا فرمائے اور خصوصیت کے ساتھ دعا ہے کہ آپ کے جانشین صاحبزادہ ابو السرور محمد مسرور احمد زید مجدہ کو اللہ تعالیٰ عمر کے ساتھ ساتھ استقامت عطا فرمائے، ڈاکٹر صاحب کے علمی و قلمی مشن کے ساتھ ساتھ ان کے اصلاحی مشن کو بھی جاری اور ساری رکھیں جو ان کا ملتِ اسلامیہ کے لیے اہم اور اصل مشن تھا۔ اللہ تعالیٰ آپ کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
ادارہ ان تمام حضرات کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتا ہے جنہوں نے فون کے ذریعہ، فیکس کے ذریعہ، ای۔میل اور خطوط کے ذریعہ ڈاکٹر صاحب کے سلسلے میں جو ہمارے سرپرست ِ اعلیٰ تھے، ہم سے تعزیت کی اور کلماتِ خیر سے نوازا۔ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر صاحب کی قلمی خدمات کو بالخصوص جو آپ نے امام احمد رضا کے حوالے سے کی ہیں یا امام ربانی کے حوالہ سے اور جو ملت اسلامیہ کے اصلاح کے لیے قلمی کوششیں کی ہیں، سب کو قبول فرمائے اور ان کو اس کا بہترین اجر عظیم عطا فرمائے اور قیامت کے دن ان بزرگوں کا خصوصی ساتھ عطا فرمائے۔ آمین

اگست 2008

2 تبصرے برائے ”اپنی بات2۔ مسعود ملت“

  1. s m iftikhar بتاریخ 17 ستمبر 2008 بوقت 3:13 pm #

    ASLAM O ALEKUM JANAB EDITOR SB APP KO MERE TERF SE RAMZAN KE MUBARAK BAD QABOOL HO.ALLAH APP K HER SATHI KO APNE NABI AKRAM (SAW)K TUFAIL HIFZ O AMAN ME RAKHE AMMEEN APP KA SHUMARA MA ARIF _E_RAZA KO PERHNE KA MOQA MILTA HE ASHI KAWISH HE MAGHAR NET PE TAZA SHUMARA JALDI NAHI ATTA JESE ABB SEPTEMBER KA SHUMARAH . NACHEEZ NE APP KO ARICAL MAIL KIA THA MALOOM NAHI KIA SHIA HOSAKA K NAHI?

  2. معارف رضا بتاریخ 07 اکتوبر 2008 بوقت 9:40 am #

    ایس ایم افتخار صاحب!
    وعلیکم السلام۔
    جناب ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کہ معارفِ رضا بروقت آن۔لائن کرسکیں۔ ستمبر اور اکتوبر کا شمارہ اکٹھا شائع ہوگا اسی لیے اب تک انٹرنیٹ پر موجود نہیں۔ آپ کا مضمون بھی ان شاء اللہ اسی شمارے میں شامل کریں گے۔
    والسلام

ٹریک بیک | آر۔ایس۔ایس تبصرے

تبصرہ کریں