اپنی بات1۔ مسعود ملت کے بعد
اپنی بات۔ 1
مسعودِ ملت کے بعد۔۔۔
اگر رفیق شفیقی درست پیماں باش!
مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے
قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
معارفِ رضا کے ”ماہر رضویات“ نمبر کا دوسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ آج جبکہ زیر نظر شمارہ پریس میں جارہا ہے، ماہر رضویات، مسعودِ ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمہ اللہ کو دنیا سے رخصت ہو ئے تقریباً 3ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ غم و اندوہ کی جو کیفیت تھی اس میں افاقہ ہوا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تمام افراد اور ادارے جنہوں نے مسعودِ ملت مرحوم و مغفور کی زیرِ نگرانی و سرپرستی علمی، تصنیفی و تحقیقی سفر کا آغاز کیا تھا، بالخصوص ”رضویات“ کے حوالے سے 1968ء سے اپریل 2008ء تک ایک طویل فاصلہ کامیابی و کامرانی سے طے کیا،ا پنی اپنی کارکردگی کا از سرِ نَو جائزہ لیں اور ان کے بتائے ہوئے رہنما اصول کے تحت مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ ایک نئے جذبے سے سرشار تحقیقی و تصنیفی کام کو آگے بڑھائیں۔ یاد رہے کہ زندگی جہد ِ مسلسل کا نام ہے۔ تلاش و جستجو، غور و فکر اور تحقیق و تدقیق کا سفرِ مسلسل ارتقائے فکر و علم، احقاق و انکشافِ حق کے لیے ضروری ہے۔ معلمِ کائنات، پیغمبر اعظم، سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔ صحابہٴ کرام، ائمہ کرامانِ امت اور اولیاء و علماءِ ملت بالخصوص امام الاولیاء سیدنا و مولانا شیخ عبد القادر محی الدین جیلانی غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی طریقہ رہا ہے، دورِ ماضی قریب میں سیدنا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں حنفی قادری برکاتی قدس اللہ سرہ السامی (1856ء۔ 1921ء) نے اسی کا عملی نمونہ پیش کیا اور ہمارے ممدوح، ماہرِ رضویات، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمۃ نے انہی کے نورِ علم سے کسبِ فیض کرتے ہوئے علم و تحقیق کے دریا بہائے اور اقبال کے ان اشعار کی زندہ تفسیر بن گئے:
نہیں مقام کی خوگر طبیعتِ آزاد
ہوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر
ہزار چشمہ تِرے سنگ راہ سے پھوٹے
خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیدا کر
اور آج مسعودِ ملت کے چشمہٴ علم و عرفاں سے ہزارہا جویانِ حق سیراب و مستفیض ہورہے ہیں اور ان شاء اللہ ہوتے رہیں گے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔
امام احمد رضا محدثِ بریلی علیہ الرحمۃ والرضوان کی تعلیمات و تحقیقات، احوال و آثار اور حیات و خدمات پر تحقیق کا پاکستان میں باقاعدہ طور پر کام حکیم الامت حضرت حکیم موسیٰ امرتسری رحمہ اللہ کی زیرِ قیادت 1968ء میں شروع ہوا ، مسعودِ ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نقشبندی رحمہ اللہ کی نگرانی میں پروان چڑھا اور بحمد اللہ، تاحال نہ صرف جاری ہے بلکہ روز افزوں ہے، ترقی پذیر ہے۔ آج اگر امام احمد رضا کی تعلیمات و تصنیفات، آثار و تحقیقات اور فکر و احوال کی متنوع جہتوں کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیا جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ ”رضویات“ کا مطالعہ فی نفسہ علم کے ایک الگ شعبہ کے طور پر ابھر چکا ہے اور بلاشبہ اس منزل تک پہنچنے میں پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد مرحوم و مغفور کی اپنی علمی و تحقیقی کاوشوں اور حقیقت اشعار، علم دوست اور حق طلب حضرات کی سرپرستی و رہنمائی کا بے حد دخل ہے۔
علم و تحقیق کی اس اعلیٰ منزل تک پہنچنے میں انہیں تقریباً چالیس سال لگے۔ اس عرصے میں انہوں نے رضویات، مجددیات، سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، اصلاح معاشرہ، تصوف اسلامی اور صالح خانقاہی روایات کے فروغ میں قابل و رشک کام کیا ہے، خود ایک پی۔ایچ۔ڈی کے تحقیقی مقالہ کا متقاضی ہے۔ ان درج بالا کام کی ہر جہت اہلِ علم و تحقیق کو دعوتِ فکر و قلم دے رہی ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ
1۔ ان تمام مذکورہ جہتوں سے ان کے علمی آثار کو از سرِ نو منظم اور منضبط کیا جائے۔
2۔ صاحبانِ علم و تحقیق سے ان پر تحقیقی مقالات لکھوائے جائیں۔
3۔ مسعودِ ملت کی شخصیت اور ان کے علمی کارناموں پر سیمینار منعقد کئے جائیں۔
اب یہ کام مسعودِ ملت کے ورثاء اور مریدانِ باصفا کا ہے کہ آئندہ وہ کس حیثیت سے دنیاءِ علم و تحقیق میں ان کو متعارف کراتے ہیں۔ بلاشبہ وہ ایک پیرِ طریقت بھی تھے لیکن اگر ان کے عقیدتمندوں نے ان کو محض اس حیثیت سے متعارف کرانے کی کوشش کی اور کرامات و خرقِ عادات کا سہارا لیا اور اپنی محبت و خوش عقیدگی کے اظہار کے لیے کسی ایسے منصب (مثلاً ”مجددیت“) کو ان سے منسوب کرنے کی سعی لاحاصل کی جس کا علماءِ زمانہ انہیں اہل نہ سمجھتے ہوں تو یہ بڑی نادانی ہوگی جس سے ڈاکٹر صاحب مرحوم مغفور کے مقام و مرتبہ کو نقصان پہنچے گا جس سے نہ صرف یہ کہ ان کی شخصیت مریدوں اور عقیدتمندوں کے محدود حلقے میں محصور ہوکر رہ جائے گی بلکہ ان کا جو علمی ورثہ اور تحقیق و تصنیف کی دنیا میں اعلیٰ مقام ہے وہ بھی پسِ منظر میں چلا جائے گا۔ لہٰذا ہمارا مخلصانہ مشور ہے اور مسعودِ ملت کی حیات میں بھی ہم یہ مخلصانہ مشورہ دیتے رہے ہیں کہ اپنے اندر کے نادان دوستوں اور مسعودِ ملت کے مخلصین میں امتیاز کریں اور ہمیں امید ہے کہ ان شاء اللہ مسعودِ ملت کی اولاد صوروی و معنوی، اسم بامسمہ ان کے جانشین، جن کے چہرہ مہرہ سے سعادت کے آثار نظر آرہے ہیں، محبی و عزیزی فاضل نوجوان جناب محمد مسعود احمد حفظہ اللہ الاحد معاملات کو پرکھنے اور سمجھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ یقینا اپنے والد ماجد کے اعلیٰ مقام کے عارف ہیں، وہ ذمہ دارانہ رویہ اور صدق مقال کا مظاہرہ کرتے ہوئے وسیع و عریض علمی دنیا میں مسعودِ ملت کے محبین کو ہرگز مایوس نہیں کریں گے اور خود اپنی نیک نامی کا بھی باعث بنیں گے۔
اِک صدقِ مقال ہے کہ جس سے
میں چشمِ جہاں میں ہوں گرامی
اللہ کی دین ہے جسے دے
میراث نہیں بلند نامی
اپنے نورِ نظر سے کیا خوب فرماتے ہیں حضرتِ نظامی
”جائے کہ بزرگ بایدت بود
فرزندیِ من ندارت سود“
(اقبال۔ ضربِ کلیم)
اگست 2008