حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب۔ سب سے پہلے ماہر رضویات
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد دہلوی
(شاہی امام جامع مسجد فتح پوری دہلی، انڈیا۔)
احقر کے عم محترم حضرت پیر طریقت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے 21/ ربیع الثانی 1429ھ مطابق 28/اپریل 2007ء کو وصال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا خاص فضل و کرم تھا اور اس کے حبیب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار رحمتیں تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی تقویٰ، طہارت اور اتباع سنت میں گزاری، اعمال صالحہ کی پابندی کی، ہزاروں کتابیں اور مقالات شائع کراکے دین مبین کی خدمت فرمائی جو آج ان کے لئے صدقہٴ جاریہ ہے۔ ان کے جانشین صاحبزادہ علامہ ابو السرور محمد مسرور احمد صاحب مدظلہ نہایت خلیق، عابد و زاہد فاضل ہیں۔ بلاشبہ پروفیسر صاحب کی رحلت، جماعت اہل سنت کا عظیم نقصان ہے۔ وہ اہل سنت کے لئے ڈھارس تھے وہ سرمایہٴ اہل سنت تھے، وہ نادر و انمول شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی وفات سے ہونے والے نقصان کی تلافی بہت مشکل ہے۔
اے اہل زمانہ قدر کرو ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈھو گے ہمیں ملکوں ملکوں نایاب نہیں کم یاب ہیں ہم
مکمل تحریر پڑھیں »
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
مسعودِ ملت۔ دنیائے علم و ادب کی انقلاب آفرین شخصیت
مولانا محمد عبد المبین نعمانی
(المجمع الاسلامی، ملت نگر، مبارکپور، اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا)
سعادتِ لوح و قلم، محققِ رضویات، صاحبِ تصانیف کثیرہ عالی جناب پروفیسر محمد مسعود احمد نقشبندی صاحبزادہ مفتیٴ اعظم دہلی حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ مجددی سابق امام جامع مسجد فتح پوری، دہلی کا سانحہٴ ارتحال پوری جماعت ِ اہلِ سنت کے لیے ایک بڑا المیہ اور جہانِ علم و ادب کا زبردست نقصان ہے۔ اچانک آپ کی خبر وفات نے پورے عالمِ اہلِ سنت کو مغموم کردیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
مکمل تحریر پڑھیں »
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
مقالہ نگار:
ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
(صدر، مرکز ِ تحقیق، فیصل آباد)
تحقیق اپنے لغوی مفہوم کے حوالے سے اس چھان بین کو کہتے ہیں جس سے کھرے کو کھوٹے سے، مغز کو چھلکے سے اور حق کو باطل سے الگ کیا جاتا ہے، اصطلاح میں تحقیق وہ علمی و سائنسی طریقِ کار ہے جو کسی تعلق کی صداقت، تصدیق یا تردید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ تحقیق کسی امر کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے۔ یہ دراصل نئے حقائق کی تلاش اور معلوم حقائق کی توسیع ہے۔ یہ ایسا اندازِ فکر بھی ہے جو محقق کو حق کی طلب، سچائی کی تلاش اور کھوج لگانے پر آمادہ کرتا ہے۔
حاصل یہ کہ تحقیق دریافت ہے تخلیق نہیں، حقائق کی تلاش ہے، حقائق کی افزائش نہیں۔ ایک محقق جب تحقیق کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اُسے سفر کی ابتداء ہی میں درج ذیل امور کو تسلیم کرنا ہے، یعنی اسے ماننا ہوگا کہ
۔۔۔ حق موجود ہے، اگرچہ معلوم نہ ہو
۔۔۔ حق ایک وحدت ہے اگرچہ فریبِ نظری کی کثرت میں گم ہو
۔۔۔ حق دریافت کیا جاسکتا ہے اگرچہ بظاہر ناممکن الحصوص محسوس ہو
۔۔۔ حق کی طلب لازم ہے اگرچہ کسی سطح پر ہو
۔۔۔ حق کی تلاش مقصودِ زندگی ہے، یہ کوئی لمحاتی تحریک یا وقتی تقاضا نہیں
۔۔۔ اور یہ کہ محقق کو اپنی ذات پر اعتماد ہو کہ وہ حق دریافت کرسکتا ہے۔
مکمل تحریر پڑھیں »
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
علامہ یٰس اختر مصباحی
(دارالقلم، قادری مسجد روڈ، اوکھلا، نئی دہلی، انڈیا)
سعادتِ لوح و قلم، نقیبِ افکارِ مجددِ الف ثانی و مجددِ قرنِ رابع عشر حضرت پروفیسر محمد مسعود احمد مجددی مظہری علیہ الرحمۃ والرضوان (وصال بروز دو شنبہ بتاریخ 21/ربیع الآخر 1429ھ مطابق 28/اپریل 2008ء بمقام کراچی) کے سانحہٴ ارتحال نے برصغیر پاک و ہند کے دینی و علمی حلقوں بالخصوص خواجہ تاشانِ سلسلہٴ مجددیہ و رضویہ کو غم زدہ اور نڈھال کردیا۔ ان کی روحِ پاکیزہ کے ایصالِ ثواب کی مجالس اور تعزیتی جلسوں کا سیکڑوں مقامات پر انعقاد ہوا جس میں ان کے تحریری کارناموں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کی دل آویز شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی۔ یہ سلسلہٴ ذکر و فکر جاری ہے اور مدتوں بعد بھی اسی طرح جاری رہے گا۔
مکمل تحریر پڑھیں »
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعوداحمد رحمہ اللہ تعالیٰ سب سے پہلے ماہر رضویات
از: ڈاکٹر مفتی منظور احمد سعیدی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العٰلمین والصلوٰ ۃ والسلام علی سیدالانبیاء و المرسلین والعاقبۃ للصدّیقین و الشہداء و الصّٰلحین وعلینا معہم یا ارحم الرحمین ۔
اما بعد
فقد قال اللہ تعالیٰ
وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ الرَّسُوْلَ فَاولئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَاءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولئِکَ رَفِیْقًا # (1)
ترجمہ : ”اور جو اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم مانیں گے انہیں ان کا ساتھ ملے گا جن پر اللہ تعالی نے فضل کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور نیک لوگ، یہ کیا ہی اچھے ساتھی ہیں ۔“
مکمل تحریر پڑھیں »
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
« اگلا صفحہ - پچھلا صفحہ »