ڈاکٹر محمد مسعود احمد کا اسلوبِ تحریر و تحقیق

مقالہ نگار:
ڈاکٹر محمد اسحاق قریشی
(صدر، مرکز ِ تحقیق، فیصل آباد)

تحقیق اپنے لغوی مفہوم کے حوالے سے اس چھان بین کو کہتے ہیں جس سے کھرے کو کھوٹے سے، مغز کو چھلکے سے اور حق کو باطل سے الگ کیا جاتا ہے، اصطلاح میں تحقیق وہ علمی و سائنسی طریقِ کار ہے جو کسی تعلق کی صداقت، تصدیق یا تردید کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا کہ تحقیق کسی امر کو اس کی اصل شکل میں دیکھنے کی کوشش ہے۔ یہ دراصل نئے حقائق کی تلاش اور معلوم حقائق کی توسیع ہے۔ یہ ایسا اندازِ فکر بھی ہے جو محقق کو حق کی طلب، سچائی کی تلاش اور کھوج لگانے پر آمادہ کرتا ہے۔

حاصل یہ کہ تحقیق دریافت ہے تخلیق نہیں، حقائق کی تلاش ہے، حقائق کی افزائش نہیں۔ ایک محقق جب تحقیق کے سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اُسے سفر کی ابتداء ہی میں درج ذیل امور کو تسلیم کرنا ہے، یعنی اسے ماننا ہوگا کہ
۔۔۔ حق موجود ہے، اگرچہ معلوم نہ ہو
۔۔۔ حق ایک وحدت ہے اگرچہ فریبِ نظری کی کثرت میں گم ہو
۔۔۔ حق دریافت کیا جاسکتا ہے اگرچہ بظاہر ناممکن الحصوص محسوس ہو
۔۔۔ حق کی طلب لازم ہے اگرچہ کسی سطح پر ہو
۔۔۔ حق کی تلاش مقصودِ زندگی ہے، یہ کوئی لمحاتی تحریک یا وقتی تقاضا نہیں
۔۔۔ اور یہ کہ محقق کو اپنی ذات پر اعتماد ہو کہ وہ حق دریافت کرسکتا ہے۔
جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »

ماہرِ رضویات ڈاکٹر محمد مسعود احمد کا اسلوبِ تحریر و تحقیق

تحریر:
مولانا محمد صحبت خان کوہاٹی
(مدیر اعلیٰ، ماہنامہ ”کاروانِ قمر“ کراچی)

علم و ادب، تحقیق و تدقیق، تصنیف و تالیف اور ارادت و طریقت کی دنیا میں یہ خبر گہرے دُکھ اور رنج کے ساتھ سنی گئی کہ ملک کے ممتاز دانشور، عظیم محقق و مصنف، ماہرِ رضویات، مسعودِ ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد 28/اپریل 2008ء کو کراچی میں وصال فرماگئے۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

ڈاکٹر محمد مسعود احمد 1349ھ مطابق 1930ء فتح پور، دہلی میں پیدا ہوئے۔ پھر علمی منازل طے کرتے کرتے انہوں نے علم و ادب کے جہاں کو فتح کیا، ان کا قلم چلتا رہا، ان کا فیض بٹتا رہا، ان کی خدمات کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا رہا، ان کے مقالات اور ان کی تالیفات میں مسلسل اضافہ ہوتا رہا تاآنکہ ایک عالم انہیں محسنِ اہلسنّت اور ماہرِ رضویات کے القابات سے یاد کرتا ہے۔ وہ ملک کے مایہ ناز ماہر تعلیم اور نازش بصیرت محقق کے طور پر زندہ جاوید رہیں گے۔ خود ان کی خدمات پر بہار یونیورسٹی، بھارت کے ڈاکٹر اعجاز انجم لطیفی مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کا اعزاز پاچکے ہیں۔ ڈاکٹر محمد مسعود احمد نے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ پر جس شان سے لکھا ہے، شاید ہی کوئی اس میدان میں ان کی ہمسری کرپائے۔
جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »