معارف‌ِ قرآن۔ سورۃ البقرۃ

مرتبہ: مولانا محمد حنیف خاں رضوی بریلوی

( 129 ) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْ لًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃ وَیُزَکِّیْھِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمِ۔
اے رب ہما رے! اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فر ما ئے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فر ما دے؛ بے شک تو ہی ہے غالب حکمت وا لا ۔“

(21) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
یہ ہما رے نبی حضور سید عا لم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہو ئے کہ انا دعوۃ ابی ابرا ھیم میں اپنے با پ حضرت ابرا ہیم کی دعا ہوں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم( الا من والعلی ص 81 )
4135۔ عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : انا دعوۃ ابراہیم، و کان اخر من بشرنی عیسی ابن مریم علیہم الصلوۃ و السلام۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے باپ حضرت ابراہیم کی دعا ہوں ، اور سب میں پچھلے میری بشارت دینے والے حضرت عیسیٰ بن مریم تھے ، علیہم الصلوٰۃ و السلام ۔ “
فتاویٰ رضویہ 12/37

( 144 ) قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِج فََلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃ تَرْ ضٰہَاص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتٰبَ لِیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقَّ مِنْ رَّبِّھِمْ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ۔

”ہم دیکھ رہے ہیں با ر با ر تمہا را آسما ن کی طرف منہ کر نا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہا ری خو شی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف؛ اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جا نتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے کو تکو ں (اعما ل)سے بے خبر نہیں۔“

(23) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”حکم الٰہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا ،حضور تابع فرمان تھے ، یہ حضور کی طرف سے رضا جو ئی الٰہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھا ، مولیٰ عزوجل نے مر ضی مبارک کے لئے اپنا وہ حکم منسوخ فرما دیا اور حضور جو چاہتے تھے قیامت تک کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فرما دیا ۔ یہ اللہ عزوجل کی طرف سے رضا جوئی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے ۔ان میں سے جس کا انکار ہو قرآن عظیم کا انکار ہے۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
مَآاَرٰ ی رَبَّکَ اِلَّایُسَارِعُ فِیْ ہَوَاکَ۔ رواہ البخاری

”میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضو ر کی خواہش میں شتابی فرماتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کی۔

یہ وہ کلمہ ہے کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انکا رنہ فرمایا ،تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں در اصل بات یہ ہے الخ ۔یہ بتا رہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلاف اصل بات کہی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر رکھی ، حدیث میں ہے روز محشر میں جب رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمائے گا :
کلہم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یامحمد
”یہ سب میری رضا چاہتے ہیں اور اے محبوب! میں تمہاری رضاچاہتا ہوں۔

خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)“
(فتاویٰ رضویہ جدید 14/ 275 ۔276 )

(154) وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔
”اور جو خدا کی را ہ میں ما رے جائیں انہیں مر دہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہا ں تمہیں خبر نہیں۔ “

(24) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”جو شخص شہید و ں کو محض مٹی کہتا ہے قر آ ن عظیم کا منکر ہے، ا س پرلا ز م ہے کہ نئے سر ے سے ایما ن لا ئے اور عور ت رکھتا ہو تو نئے سرے سے اس سے نکا ح کر ے ۔ اور اس کا وہ کہنا کہ خوا ہ دفن کر یں خوا ہ ویسا ہی کہیں ڈا ل دیں یہ بھی شہدا ئے کرا م کی صریح تو ہین ہے اور کلمہٴ کفر ہے ۔ غر ض بو جو ہ اس پر تجد ید اسلا م لا زم ۔ اور پہلے شخص کا یہ کہنا کہ با عتبا ر مو ت ظا ہر ی مر د ہ کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بھی محض فضو ل اور نا منا سب ہے ۔ جب قر آ ن عظیم نے صرا حۃ انہیں مر دہ کہنے مر دہ سمجھنے کی مما نعت فر ما ئی تو ان با تو ں کی کیا حا جت ہے ۔ واللہ تعا لیٰ اعلم ۔ “
(فتاویٰ رضویہ، قد یم 11/ 22 )

( 158) اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِج فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَاط وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا لا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔
”بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبردار ہے۔“

(25) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”طواف لغۃ وعرفاً وشرعاً پھیرے کرنے کو کہتے ہیں۔عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایک پھیرے کے مبداد منتہی متغائر ہو ں گے یا ایک ہی چیز کے گرد ،جس میں دائرہ طرح مبدا و منتھٰی ایک ہو گا دونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف ما نا۔ صورت اولی صفا ومروہ کے درمیان سعی ”قال تعالی فلا جنا ح علیہ ان یطوف بہما“ اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھر نا ”قال تعالی وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ “ (اور اس آزاد گھر کا طواف کریں۔ سورۃ الحج: 29) حقیقت طواف اس قدر ہے نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغیر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شئے نہیں ،آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نما ز قرار دیا نہ رکن نما ز، اور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے ،غرض پھیرے کر نا جہا ں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔ پھرفعل اختیار ی کو تصور بوجہ ما وتصدیق بفائدہ ما سے چارہ نہیں، مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تک آپ موٴ دی ہو تا ہے ،کبھی دوسرے فعل مو دی الی الغاۃ کا وسیلہ۔ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں ،جیسے نماز ۔ اور دوم کو وسیلہ مقصود لغیر ہ جیسے وضو ۔ طواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں ،مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم روائح طیبہ وچستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھر نا خواہ وہ خطوط مستقیم پر لغیرہ ہے ۔ پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اسکے غیر کے لئے بھی ہو تا ہے ،جیسے امثلہٴ مذکو رہ، بلکہ تو ہین بلکہ تغدیب کیلئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمد وشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہ ہے ،اورنا ر سے حمیم حمیم سے نار کی طرف کفار کے پھر ے ،کہ یہ طواف مقصود لغیر ہ ہے اور دونوں تغدیب کے لئے ہیں ۔ قال اللہ تعالی یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ“ (پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے ہوئے پانی میں) لاجرم طواف چار قسم ہے ۔

حوالہ جات
4135۔ الجامع الصغیر للسیوطی، 1/161

(جاری ہے۔۔۔)

جون 2008 | تبصرہ کریں »

نعت۔ عارضِ شمس و قمر سے

کلام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جابجا پرتوفگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید، شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہی
بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جس کی خاطر مرگئے مُنْعَمْ رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجہٴ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیئے
بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی
کرچکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

اے رضا طوفانِ محشر کے طلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو، ہیں کشتیٴ امت کو لنگر ایڑیاں

جون 2008 | تبصرہ کریں »