معراج نظم نذر گدا بحضور سلطانُ الانبیاء علیہ افضل الصلوٰۃ والثنا
در تہنیت شادی اسرا
از اعلیٰ حضرت مولانا امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی رحمہ اللہ تعالیٰ
وہ سرورِ کشورِ رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لیے تھے
وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھیں دھومیں
اُدھر سے انوار ہنستے آتے اِدھر سے نفحات اُٹھ رہے تھے
نمازِ اقصیٰ میں تھا یہی سرِ عیاں ہوں معنیِ اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کرگئے تھے
بڑھ اے محمد قریں ہو احمد قریب آ سرورِ ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے
تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوشِ لَنْ تَرانی، کہیں تقاضے وصال کے تھے
اٹھے جو قصرِ دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جاہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ بھی نہ تھے ارے تھے
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل و فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے
وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اُسی کے جلوے اُسی سے ملنے اُسی سے اُس کی طرف گئے تھے
نبیِ رحمت شفیعِ امت رضا پہ للہ ہو عنایت
اسے بھی ان خلعتوں سے حصہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے
ثنائے سرکار ہے وظیفہ، قبولِ سرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا، روی تھی کیا کیسے قافیے تھے
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
کتاب: احسن الوعاء لاٰداب الدعاء
تذییل
مصنف: رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمن
شارح: مجدد اعظم امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمن
محشی: مولانا مفتی محمد اسلم رضا قادری
پہلا فائدہ: ریاضتِ نفس۔ خواجہ شفیق بلخی کے ایک مرید خواجہ بایزید کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے پیر کا حال دریافت فرمایا۔ عرض کی، خلق سے فارغ اور خدا پر متوکل ہوکر بیٹھ گئے ہیں۔ فرمایا، میری طرف سے شفیق سے کہنا، دو روٹیوں کے واسطے خدا کو نہ آزماؤ۔ نامہ توکل کا طے کرکے بھوک کے وقت بھیک مانگ لیا کرو۔ کہیں اس فعل کی شامت سے وہ ملک زمین میں نہ دھنس جائے۔
قولِ رضا : اللہ عزوجل پر توکل فرضِ عین ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّوٴْمِنِیْنَO (464) ”اللہ ہی پر توکل کرو، اگر مسلمان ہو۔“ اور فرماتا ہے، اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَO (465) ”اگر تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو، اگر مسلمان ہو۔“ خصوصاً تصوف کہ انقطاع عن الغیر (466) بلکہ فنا عن الغیر (467) بلکہ نفی مطلقِ غیر ہے۔ اس میں نامہٴ توکل کیونکر طے کرنے کا حکم ہوسکتا ہے۔ ہاں! توکل قلب سے طرح اسباب ہے نہ کہ عمل میں ترکِ اسباب۔ (468) خود حکم فرماتا ہے: فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِO (469) ”زمین میں پھیل جاؤ اور اس کا فضل ڈھونڈو۔“ ولہٰذا جب ایک صحابی نے عرض کی: یارسول اللہ! اپنا ناقہ چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں۔ فرمایا، بلکہ قید و توکل۔ ”اس کا پاؤں باندھ دے اور توکل کر“ یعنی خدا پر بھروسہ کر۔
رواہ البیھقی فی الشعب بسند جید عن عمرو بن امیۃ الضمری والترمذی بلفظ اعقلھا وتوکل عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
بر توکل پائے اشتر را نبید
عالمِ اسباب میں رہ کر ترکِ اسباب گویا ابطالِ حکمتِ الٰہیہ ہے۔ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَ بِبَالِغِہ470) ”جیسے کوئی ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے ہوئے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں۔“
سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ نے اسی کو منع فرمایا۔ رہا اذنِ سوال۔
اقول: اللہ عزوجل کے جس طرح کچھ فرائض و محرمات (بدن پر) ہیں جیسے نماز و زناویسے ہی قلب پر بھی ہیں اور ان کی فرضیت و حرمت اسی طرح یقینی قطعی ضروریاتِ دین سے ہے جیسے صبر و شکر و تواضع و اخلاص کی فرضیت، جزع (471) و کفران و تکبر و ریا کی حرمت۔
عوام اگر بہت متوجہ تقویٰ و طاعت ہوئے، انہیں فرائض و محرماتِ بدنیہ پر قناعت کرتے اور فرائض و محرمات قلبیہ سے اصلاً کام نہیں رکھتے۔ پڑھیں نماز اور کریں تکبر اور رب عزوجل فرمائے:
اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَO (472)۔
”کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں متکبروں کا۔“
اربابِ قلب بشدت متوجہ بقلب ہوتے ہیں۔ ظاہری، باطنی دونوں فرائض بجالاتے اور دونوں کے تمام محرمات سے احتراز فرماتے ہیں۔ پھر ظاہری صلاح سہل ہے (473) اور باطنی اس سے بہت مشکل کہ جوارِح (474) کو نیک کام میں لگانا، بد سے بچانا ایک ہمت کا کام ہے اور قلب سے رذائل کو دھودینا، فضائل سے آراستہ کرلینا کارے دارد۔ یہ منہ کا نوالہ نہیں بلکہ بدن بھی تابعِ قلب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذ فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب۔ ”بیشک بدن میں ایک گوشت پارہ ہے۔ وہ سنور جائے تو پورا بدن سنور جائے اور بگڑ جائے تو سب بدن خراب ہوجائے۔ سنتے ہو! وہ دل ہے۔“
خلق کی کثرتِ مخالطت (475) اعمالِ ظاہر میں بھی بہت مخل ہوتی ہے۔ ہزاروں گناہ جسمانی تو وہ ہیں کہ تنہائی میں ہو ہی نہیں سکتے اور جو ہوسکتے ہیں وہ بھی بحالِ مخالطت زائد ہوتے ہیں اور صحبتِ عوام قلب کے لیے تو بہت ہی خطرناک ہے۔ مگر بضرورت شرعیہ جیسے مفتیٴ شرع و قاضیٴ حق مدرسِ دین و واعظِ ہدیٰ اور غیر مالدار کے طُرُقِ کسب، (476) تجارت، زراعت، نوکری، مزدوری ہیں اور ان سب میں مخالطتِ ناس کی حاجت اور اصلاحِ نفس کے لیے عدم فراغت ہے اور تصحیح فرائض و اجتناب محرمات اہم ضروریاتِ دینیہ سے ہے اور ضرورتِ دینی کے وقت سوال حلال۔ یہ معنی ہیں ان کے اذن اور حضرت مصنف علام قدس سرہ کے ارشاد، ریاضتِ نفس کے، نہ وہ جو آج کل کے مڑچرے جوگیوں نے اختیار کیا ہے کہ اچھے خاصے جوان تندرست اور بھیک مانگنے کا پیشہ اور اصلاحِ قلب درکار، اصلاحِ ظاہر سے برکنار اور منع کیجئے تو شرعِ مطہر سے معارضے کو تیار کہ بھیک مانگنا بھی ریاض ہے۔ وَالْکَاسِبُ حَبِیْبُ اللَّہِ (477) یہ حرامِ قطعی ہے اور شرع کا مقابلہ اور سخت تر۔
ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
دوسرا فائدہ: اپنی قدر و قیمت پر متنبہ ہونا۔ جب شبلی مرید ہوئے، خواجہ جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تو ملک شام کا امیر الامراء تھا۔ جب تک بازار میں بھیک نہ مانگے گا، دماغ تیرا نخوت سے خالی نہ ہوگا (478) اور اپنی قدر و قیمت نہ جانے گا۔“ ابتداء ابتداء میں تو لوگوں نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا۔ آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار ان کا سست ہوتا جاتا۔ ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے، کوئی کچھ نہ دیتا۔ پیر سے حال عرض کیا۔ فرمایا، ”قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں پوچھتا“۔
حوالہ جات و حواشی
(464)سورۃ المائدہ، آیت: 23۔
(465)سورۃ یونس، آیت: 84۔
(466)یعنی غیر خدا سے لاتعلق ہوجانا۔
(467)یعنی غیر خدا کی نفی کردینا۔
(468)یعنی توکل کے معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کرکے بیٹھ رہے اور ہاتھ ہر پاتھ دھرے کہے، اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش کے بھی روزی وغیرہ دے گا۔
بلاشبہ اللہ عزوجل قادرِ مطلق ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ مگر بندے کا مذکورہ سوچ کے پیشِ نظر کوشش نہ کرتے ہوئے بیٹھ جانا، اپنے ربِ کریم عزوجل کی مشیت کے خلاف ہے کہ عالمِ اسباب یعنی دنیا میں رہ کر ترکِ اسباب گویا حکمتِ الٰہیہ کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں توکل کے معنی یہ ہیں کہ ان اسباب کو اصل نہ سمجھے اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرے بلکہ اُسی پر بھروسہ کرے کہ جو ان اسباب کا پیدا کرنے والا اور مسببِ حقیقی ہے۔
(469)سورۃ الجمعۃ، آیت: 10۔
(470)سورۃ الرعد، آیت: 14۔
(471)بے صبری و واویلا پن۔
(472)سورۃ الزمر، آیت: 60۔
(473)یعنی اعمالِ ظاہری کو درست کرلینا، ان میں اصلاح کرلینا، آسان ہے۔
(474)بدن کے اعضائے ظاہری۔
(475)یعنی لوگوں سے زیادہ میل جول، ملنا ملانا وغیرہ۔
(476)یعنی غیر مالدار کا معاشی ضروریات کے لیے مختلف طریقے و ذرائع اپنانا
(477)کسبِ حلال کے لیے کوشش کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے
(478)یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ و غرور نہ جائے گا۔
(جاری ہے۔۔۔)
جون 2008 | تبصرہ کریں »
مرتبہ: مولانا محمد حنیف خاں رضوی بریلوی
( 129 ) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْ لًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃ وَیُزَکِّیْھِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمِ۔
اے رب ہما رے! اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیتیں تلاوت فر ما ئے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فر ما دے؛ بے شک تو ہی ہے غالب حکمت وا لا ۔“
(21) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
یہ ہما رے نبی حضور سید عا لم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہو ئے کہ انا دعوۃ ابی ابرا ھیم میں اپنے با پ حضرت ابرا ہیم کی دعا ہوں۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم( الا من والعلی ص 81 )
4135۔ عن عبادۃ بن الصامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : انا دعوۃ ابراہیم، و کان اخر من بشرنی عیسی ابن مریم علیہم الصلوۃ و السلام۔
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں اپنے باپ حضرت ابراہیم کی دعا ہوں ، اور سب میں پچھلے میری بشارت دینے والے حضرت عیسیٰ بن مریم تھے ، علیہم الصلوٰۃ و السلام ۔ “
فتاویٰ رضویہ 12/37
( 144 ) قَدْ نَرٰی تَقَلُّبَ وَجْھِکَ فِی السَّمَآئِج فََلَنُوَلِّیَنَّکَ قِبْلَۃ تَرْ ضٰہَاص فَوَلِّ وَجْھَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ ط وَحَیْثُ مَا کُنْتُمْ فَوَلُّوْا وُجُوْھَکُمْ شَطْرَہ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْتُو الْکِتٰبَ لِیَعْلَمُوْنَ اَنَّہُ الْحَقَّ مِنْ رَّبِّھِمْ وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ۔
”ہم دیکھ رہے ہیں با ر با ر تمہا را آسما ن کی طرف منہ کر نا تو ضرور ہم تمہیں پھیر دیں گے اس قبلہ کی طرف جس میں تمہا ری خو شی ہے ابھی اپنا منہ پھیر دو مسجد حرام کی طرف؛ اور اے مسلمانو! تم جہاں کہیں ہو اپنا منہ اسی کی طرف کرو اور وہ جنہیں کتاب ملی ہے ضرور جا نتے ہیں کہ یہ ان کے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ ان کے کو تکو ں (اعما ل)سے بے خبر نہیں۔“
(23) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”حکم الٰہی بیت المقدس کی طرف استقبال کا تھا ،حضور تابع فرمان تھے ، یہ حضور کی طرف سے رضا جو ئی الٰہی تھی مگر قلب اقدس کعبہ کی طرف استقبال چاہتا تھا ، مولیٰ عزوجل نے مر ضی مبارک کے لئے اپنا وہ حکم منسوخ فرما دیا اور حضور جو چاہتے تھے قیامت تک کے لئے وہ ہی قبلہ مقرر فرما دیا ۔ یہ اللہ عزوجل کی طرف سے رضا جوئی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے ۔ان میں سے جس کا انکار ہو قرآن عظیم کا انکار ہے۔
ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے عرض کرتی ہیں:
مَآاَرٰ ی رَبَّکَ اِلَّایُسَارِعُ فِیْ ہَوَاکَ۔ رواہ البخاری
”میں حضور کے رب کو دیکھتی ہوں کہ حضو ر کی خواہش میں شتابی فرماتا ہے۔“ اسے بخاری نے روایت کی۔
یہ وہ کلمہ ہے کہ بعض ازواج مطہرات نے عرض کیا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے انکا رنہ فرمایا ،تو قائل کا کہنا کہ ایسے خصائص دیکھ کر شاید بعض ازواج مطہرات یہ کہنے لگی تھیں در اصل بات یہ ہے الخ ۔یہ بتا رہا ہے کہ ان بعض ازواج مطہرات نے خلاف اصل بات کہی اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے مقرر رکھی ، حدیث میں ہے روز محشر میں جب رب عزوجل اولین وآخرین کو جمع کرکے حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے فرمائے گا :
کلہم یطلبون رضائی وانا اطلب رضاک یامحمد
”یہ سب میری رضا چاہتے ہیں اور اے محبوب! میں تمہاری رضاچاہتا ہوں۔
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم
خدا چاہتا ہے رضائے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم)“
(فتاویٰ رضویہ جدید 14/ 275 ۔276 )
(154) وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ یُّقْتَلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اَمْوَاتٌ ط بَلْ اَحْیَآءٌ وَّلٰکِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ۔
”اور جو خدا کی را ہ میں ما رے جائیں انہیں مر دہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں ہا ں تمہیں خبر نہیں۔ “
(24) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”جو شخص شہید و ں کو محض مٹی کہتا ہے قر آ ن عظیم کا منکر ہے، ا س پرلا ز م ہے کہ نئے سر ے سے ایما ن لا ئے اور عور ت رکھتا ہو تو نئے سرے سے اس سے نکا ح کر ے ۔ اور اس کا وہ کہنا کہ خوا ہ دفن کر یں خوا ہ ویسا ہی کہیں ڈا ل دیں یہ بھی شہدا ئے کرا م کی صریح تو ہین ہے اور کلمہٴ کفر ہے ۔ غر ض بو جو ہ اس پر تجد ید اسلا م لا زم ۔ اور پہلے شخص کا یہ کہنا کہ با عتبا ر مو ت ظا ہر ی مر د ہ کہہ سکتے ہیں ۔ یہ بھی محض فضو ل اور نا منا سب ہے ۔ جب قر آ ن عظیم نے صرا حۃ انہیں مر دہ کہنے مر دہ سمجھنے کی مما نعت فر ما ئی تو ان با تو ں کی کیا حا جت ہے ۔ واللہ تعا لیٰ اعلم ۔ “
(فتاویٰ رضویہ، قد یم 11/ 22 )
( 158) اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِج فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیہِ اَنْ یَّطَّوَّفَ بِھِمَاط وَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا لا فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔
”بیشک صفا اور مروہ اللہ کے نشانوں میں سے ہیں تو جو اس گھر کا حج یا عمرہ کرے اس پر کچھ گناہ نہیں کہ ان دونوں کے پھیرے کرے اور جو کوئی بھلی بات اپنی طرف سے کرے تو اللہ نیکی کا صلہ دینے والا خبردار ہے۔“
(25) امام احمد رضا محد ث بریلوی قدس سرہ فرماتے ہیں:
”طواف لغۃ وعرفاً وشرعاً پھیرے کرنے کو کہتے ہیں۔عام ازیں کہ دو چیزوں کے درمیان آمد ورفت ہو جس میں ایک پھیرے کے مبداد منتہی متغائر ہو ں گے یا ایک ہی چیز کے گرد ،جس میں دائرہ طرح مبدا و منتھٰی ایک ہو گا دونوں صورتوں کو لغت وعرف عرب نے طواف کہا اور دونوں کو شرع مطہر نے طواف ما نا۔ صورت اولی صفا ومروہ کے درمیان سعی ”قال تعالی فلا جنا ح علیہ ان یطوف بہما“ اور صورت ثانیہ کعبہ معظمہ کے گرد پھر نا ”قال تعالی وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ “ (اور اس آزاد گھر کا طواف کریں۔ سورۃ الحج: 29) حقیقت طواف اس قدر ہے نیت وغایت کا اختلاف حقیقت کی تغیر نہیں کرتا کہ نیت وغایت رکن شئے نہیں ،آخر نہ دیکھا کہ ائمہ کرام نے نیت کو شرط نما ز قرار دیا نہ رکن نما ز، اور غایت کا خروج تو غایت ظہور میں ہے ،غرض پھیرے کر نا جہا ں اور جس طرح اور جس نیت اور جس غرض سے ہو طواف ہی ہے۔ پھرفعل اختیار ی کو تصور بوجہ ما وتصدیق بفائدہ ما سے چارہ نہیں، مگر فعل کبھی غایت اصلیہ تک آپ موٴ دی ہو تا ہے ،کبھی دوسرے فعل مو دی الی الغاۃ کا وسیلہ۔ اول کو مقصود لذاتہ کہتے ہیں ،جیسے نماز ۔ اور دوم کو وسیلہ مقصود لغیر ہ جیسے وضو ۔ طواف میں یہ دونوں صورتیں ہیں ،مثلا گلگشت یعنی تفریح نفس وشم روائح طیبہ وچستی بدن وتنسم ہو اکے لئے چمن کی روشوں میں ٹہلنا پھر نا خواہ وہ خطوط مستقیم پر لغیرہ ہے ۔ پھر طواف کی غایت مقصودہ تعظیم ہی میں منحصر نہیں بلکہ اسکے غیر کے لئے بھی ہو تا ہے ،جیسے امثلہٴ مذکو رہ، بلکہ تو ہین بلکہ تغدیب کیلئے جیسے ڈرل کہ یہاں آمد وشد کہ طواف ہے مقصود لذاتہ ہے ،اورنا ر سے حمیم حمیم سے نار کی طرف کفار کے پھر ے ،کہ یہ طواف مقصود لغیر ہ ہے اور دونوں تغدیب کے لئے ہیں ۔ قال اللہ تعالی یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ“ (پھیرے کریں گے اس میں اور انتہا کے جلتے ہوئے پانی میں) لاجرم طواف چار قسم ہے ۔
حوالہ جات
4135۔ الجامع الصغیر للسیوطی، 1/161
(جاری ہے۔۔۔)
جون 2008 | تبصرہ کریں »
نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا
منقبتِ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی الشاہ احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمن
از جناب سید محمد ایوب صاحب رضوی بریلوی علیہ الرحمۃ
اہلِ سنت پہ ہے بار احساں تیرا
نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا
دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیا
کس نے تیرے سوا، شاہ احمد رضا
تیرے مشتاق نادیدہ ہیں سینکڑوں
محوِ حسنِ لقا، شاہ احمد رضا
دوست، دشمن کی تھی کچھ نہ ہم کو خبر
تُو نے ظاہر کیا، شاہ احمد رضا
ایک میں کیا، ہزاروں ہیں شیدا تیرے
بندگانِ خدا، شاہ احمد رضا
پوچھے اللہ والوں سے رتبہ تیرا
مرحبا مرحبا شاہ احمد رضا
سچ تو یہ ہے کسوٹی ہے ایمان کی
ہے کھرے سے کھرا، شاہ احمد رضا
کوئی منصور اعدا میں ہو کس طرح
شیرِ شیرِ خدا، شاہ احمد رضا
گل ہزاروں کھلے گلشنِ دہر میں
پھول اعلیٰ کھلا، شاہ احمد رضا
آستانہ تیرا چھوڑ جائیں کہاں
تیرے در کے گدا، شاہ احمد رضا
مجھ کو جو کچھ ملا، تیرے در سے ملا
واہ کیا ہے عطا، شاہ احمد رضا
خوفِ محشر اور ایوبِ رضوی تجھے
آپ لیں گے بچا، شاہ احمد رضا
جون 2008 | تبصرہ کریں »
کلام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ
عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں
جابجا پرتوفگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید، شب کو ماہ و اختر ایڑیاں
نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں
دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہی
بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں
ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جس کی خاطر مرگئے مُنْعَمْ رگڑ کر ایڑیاں
دو قمر دو پنجہٴ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں
ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیئے
بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں
تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں
ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں
چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی
کرچکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں
اے رضا طوفانِ محشر کے طلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو، ہیں کشتیٴ امت کو لنگر ایڑیاں
جون 2008 | تبصرہ کریں »