حضرت مسعود ملت رحمہ اللہ تعالیٰ کی چند یادیں
از: خلیل احمد رانا
تقریباً 30 سال پہلے کی بات ہے کہ احقر مرکزی مجلس رضا (لاہور) کا خادم تھا ، حضرت حکیم محمد موسیٰ امرتسری علیہ الرحمہ(م۔1999ء)، مجلس کی مطبوعات کے مسوّدے کتابت کے لئے احقر کے پاس بھیج دیتے تھے ، یہ ناکارہ مسودات کی کتابت حضرت حاجی محمد صدیق فانی خوش نویس مرحوم (خانیوال)سے کراکے اور پروف ریڈنگ کرکے لاہور بھیج دیتا، حضرت حکیم صاحب نے احقر کو فرمایا کہ آئندہ حضرت پروفیسر محمد مسعود احمد قبلہ کے مسودات کتابت کراکے اُنہیں بھیج دیا کریں ،میں نے حکم کی تعمیل کی ، اس طرح حضرت انیس المساکین پروفیسر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمہ سے قربت نصیب ہوئی ، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ نے تقریباً ڈیڑھ سو خطوط احقر کے نام لکھے، جن میں سے کچھ خطوط ”مکتوبات مسعودی“ مطبوعہ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل(کراچی) 2005ء کے صفحہ 103 تا 126 پر شائع ہو کر محفوظ ہو چکے ہیں۔
انہی دنوں حضرت نے خط کے ذریعے احقر کو اطلاع دی کہ میں فلاں تاریخ کو حکیم سیّد شوکت علی دہلوی، اندرون بوہڑ دروازہ (ملتان)آرہاہوں ، ہوسکے تو ملاقات کرلیں، آپ غالباً اپنی بچی کے رشتہ کے سلسلے میں تشریف لائے تھے، احقر اُس بتائی ہوئی تاریخ کو ملتان میں حکیم سید شوکت علی دہلوی صاحب قبلہ کے مطب پر حاضر ہوا، مطب سے مجھے حکیم صاحب کا ایک ملازم گھر لے گیا، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمت بہت محبت سے ملے، بہت ہی شفقت فرمائی، چائے سے تواضع فرمائی اور اس ناکارہ کو بھائی کہہ کر بلایا، مسودات کی کتابت سے متعلق کچھ ہدایات فرمائیں، احقر نے کچھ دیر آپ کی صحبت بابرکت میں بیٹھ کر اجازت لی اور گھر چلا آیا۔
آپ کے اخلاق کریمانہ یاد رہیں گے، احقر کے والد ماجد فوت ہوئے تو حضرت مسعود ملت کی خدمت میں اطلاعاً خط لکھا، حضرت نے جواباً خط میں لکھا!
”یہ فراق عارضی ہے، اس فراق کا انجام وصال ہے ، کیونکہ قیامت کے دن صالح اولاد کو والدین سے ملا دیا جائے گا“
احقر نے جواب میں لکھا کہ حضرت میں تو صالح نہیں ہوں ، میں تو کلین شیو اور گنہگار انسان ہوں، حضرت مسعود ملت علیہ الرحمت نے پھر جواب میں فرمایا!
”والدین کو ایصال ثواب کرنا صالحیت(نیکی) ہی ہے “
اسی طرح جب احقر نے حضرت شیخ العرب والعجم مولانا ضیاء الدین احمدقادری مہاجرمدنی قدس سرہ العزیز خلیفہ مجاز امام احمد رضا خاں قادری بریلوی قدس سرہ کے حالات زندگی پر مشتمل کتاب”انوارِ قطبِ مدینہ“مرتب کررہا تھا(تقریباً 500 صفحات کی یہ کتاب مرکزی مجلس رضا، لاہور نے شائع کی تھی)، تو مجھے ایک رات خواب آیا کہ جیسے حج کا موسم ہے اور میں مدینہ منورہ میں حاضر ہوں ، حجاج اور زائرین کا بہت ہجوم ہے، پھر دیکھتا ہوں کہ ایک پندرہ ضرب پندرہ فٹ کا چبوترہ ہے، جس پر تین قبریں بنی ہیں ، میں بھی زائرین کی بھیڑ میں سلام عرض کرکے قبر انور کے پاس بیٹھ جاتا ہوں ، مزار مبارک کی مٹی عطر میں خوب بھیگی ہوئی ہے، میں دائیں ہاتھ کے انگوٹھا سے مٹی مبارک کو کھرچ کر ایک کاغذ میں پڑیا بنا کر رکھ لیتا ہوں ، اتنے میں آنکھ کھلی جاتی ہے، دل بہت مسرور ہوا کہ چلو ظاہری طور پر تو مدینہ طیبہ کی زیارت نہ کرسکا ، خواب میں ہی دیکھنانصیب تھا، صبح اُٹھ کر حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کو خط لکھا کہ میں نے ایسے خواب دیکھا ہے ، آپ نے جواب میں اس کی تعبیر یہ فرمائی کہ آپ کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فیض عطا ہوگا۔ اللہ کریم اپنا فضل فرمائے۔
جب کتاب شائع ہوگئی تو آپ کو ارسال کی، آپ نے جواب میں فرمایا !
” تحفہٴ مرغوب ”انوار قطب مدینہ“ نظر نواز ہوا، آپ کی کاوش قابل تحسین وآفریں ہے، مولیٰ تعالیٰ آپ کو اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین! آپ نے بہت مفید اور اہم مواد جمع کردیا ہے، اس سے آنے والا مورخ استفادہ کرسکے گا، ان شاء اللہ، اس نفیس تالیف پر احقر کی طرف سے دلی مبارک باد قبول فرمائیں“۔ (مکتوب محررہ 5/ فروری 1988ء ، از ٹھٹھہ۔ سندھ)
غالباً 29/ اپریل کو احقر اپنے گاؤں میں گندم کی کٹائی میں مصروف تھاکہ بزرگوارحضرت قبلہ سید وجاہت رسول قادری صاحب مدظلہ نے فون پرحضرت مسعود ملت علیہ الرحمت کے وصال کی خبر دی، انا للپ وانا الیہ راجعون ، احقر حضرت صاحب زادہ محمد مسرور احمد مسعودی دامت برکاتہم سے تعزیت کرتا ہے ، حضرت صاحبزادہ مسرور احمد صاحب اپنی نسبی شرافت وبزرگی میں اپنے خاندان کے امین ہیں ماشاء اللہ ، اللہ کریم سے دعا ہے کہ تمام اہل خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے ۔آمین
جون 2008 | تبصرہ کریں »