شفق چھوڑ جاؤں گا

از: محترمہ شبنم خاتون
(ریسرچ اسکالر، ڈپارٹمنٹ آف عربک،بنارس ہندو یونیورسٹی، وارانسی، یوپی، انڈیا)

دنیا میں بہت کم ایسی شخصیتیں ہوتی ہیں جو مرکر بھی زندگی کی انمٹ چھاپ چھوڑ جاتی ہیں۔ مسعود صاحب کو پہلی بار دیکھنے اور ان سے ملنے کا موقع 25وویں امام احمد رضا انٹرنیشنل سلور جوبلی کانفرنس 2005ء، کراچی، پاکستان میں ملا۔ نیچی نظریں لیکن دور تک دیکھنے کی صلاحیت، سادہ لباس لیکن چمک دمک والے لوگ بھی آپ کے قرب کو اپنی خوش بختی سمجھتے۔ ایک ایسی شخصیت جس کی زبان تو خاموش رہتی لیکن قلم ہمیشہ چلتا رہتا اور ایسا چلتا کہ بولنے والوں کو خاموش کردیتا۔ 25ویں سلور جوبلی کانفرنس (کراچی) کے موقع پر سید وجاہت رسول قادری (صدر، ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل، کراچی، پاکستان) کو گولڈ میڈل دیا جارہا تھا تو وجاہت صاحب نے یہ خواہش ظاہر کی کہ میں پروفیسر مسعود صاحب کے ہاتھ سے گولڈ میڈل لوں گا۔ مسعود صاحب گولڈ میڈل دینے کے لیے نہ ہی اسٹیج پر آئے اور نہ ہی کیمرے کا سامنا کیا بلکہ سامعین کی صف میں بیٹھے ہوئے وہیں سے دے دیا۔ اس وقت میں نے یہ سوچا کہ کون سی ایسی قدآور شخصیت ہے جن سے وجاہت رسول صاحب نے گولڈ میڈل لینے کی خواہش ظاہر کی۔ مجھے ایسی بلند و بالا شخصیت کو دیکھنے کا تجسس پیدا ہوا اور پھر میری آنکھیں اس کانفرنس کے جمِ غفیر میں ایسی بلند و بالا شخصیت کو تلاش کرنے لگیں۔ بالآخر میں مسعود صاحب کے پاس گئی، وجاہت رسول قادری صاحب نے کہا، آپ ان سے دعائیں لے لیجئے۔ پھر کیا تھا، میں ان کے پاس گئی۔ انہوں نے نیچی نظروں سے میرا تعارف سنا اور دعائیں دیں۔ میں نے اپنی چھوٹی سی ڈائری نکالی اور حضرت کو بغرض آٹوگراف دیا۔ مرحوم مسعود صاحب نے اس پر خوبصورت سا دستخط اس انداز سے ثبت کیا جس میں بسم اللہ کی شباہت نظر آتی ہے جسے میں حرزِ جاں بنائے ہوئے ہوں۔ جب میں کراچی سے ہندوستان واپس آئی تو مسعود صاحب کی کتابوں کا مطالعہ کرنا شروع کیا تو اس بات کا اندازہ ہوا کہ واقعی یہ شخصیت بحر العلوم ہے۔ عربی، اردو اور انگریزی، تینوں زبانوں میں آپ کی بیشتر تصانیف ہیں۔ آپ کا شمار ماہرینِ رضویات میں ہوتا ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آپ اس سلسلے کی مضبوط کڑی تھی۔ مسعود صاحب کی وہ علمی شخصیت جن پر خود ان کے استاد پروفیسر غلام مصطفی خاں (سندھ یونیورسٹی) کو بھی فخر تھا۔ وہ لکھتے ہیں:
”میری پوری مدتِ ملازمت میں وہ میرے سب سے بہتر شاگرد رہے ہیں۔ میں ان پر بجا طور پر فخر کرسکتا ہوں۔ ان جیسے باوقار، باکردار اور باصلاحیت طلباء موجودہ حالات میں خال خال ہی نظر آتے ہیں۔ وہ ان محققین میں سے ہیں جن پر فضلاء اعتماد کرسکتے ہیں اور جن پر کسی یونیورسٹی کو فخر ہوسکتا ہے۔“
(امام احمد رضا اور مسعودِ ملت، ص:11)

مرحوم مسعود صاحب نے 1970ء سے احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی پر لکھنا شروع کیا اور تادمِ مرگ لکھتے رہے۔ آپ 1970ء سے پہلے دوسرے موضوعات پر بھی لکھتے رہے، چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں:
”مرکزی مجلسِ رضا، لاہور کی تحریک اور اس کی مدد سے میں نے 1970ء میں اعلیٰ حضرت پر تحقیقی کام کا آغاز کیا۔“
(بحوالہ Neglected Genius of the East، ناشر: مرکزی مجلسِ رضا، لاہور)

حالانکہ ڈاکٹر مسعود صاحب کا قلمی سفر 1956ء سے شروع ہوچکا تھا۔ آپ نے اپنا پہلا مقالہ اردو شاعر ولی دکنی اور انگریزی شاعر چا ملر کے تقابلی جائزہ پر لکھ کر سندھ یونیورسٹی سے انعام حاصل کیا۔ ڈاکٹر صاحب کی بیشتر تصانیف احمد رضا فاضلِ بریلوی کے حوالے سے لکھتے رہے۔ انہوں نے بہت سی انگریزی کتب کے تراجم بھی کئے ہیں جو ادب، معاشیات اور اسلامیات سے متعلق ہیں۔ ان کے علاوہ انہوں نے مختلف علوم و فنون کی کتابوں پر مقدمے اور تبصرے بھی لکھے ہیں۔ ڈاکٹر مسعود صاحب نے مختلف موضوعات پر مختلف زبانوں میں تقریباً دو سو کتب و رسائل و مقالات تحریر کئے ہیں۔
(معارفِ رضا، کراچی، ص: 20، اگست 2000ء)

آج مسعود صاحب ابدی نیند سورہے ہیں لیکن ان کے قلم سے نکلا ہوا ایک ایک لفظ ان کی حیاتِ جاودانی کی گواہی دے رہا ہے۔ آپ نے دینی، علمی اور ادبی، ہر موضوعات پر لکھا اور خوب لکھا۔ ڈاکٹر مختار الدین احمد آرزو صاحب لکھتے ہیں:
”پروفیسر مسعود احمد کا شمارہ ان فضلاء میں ہوتا ہے جو اپنی قابل قدر تصانیف اور اپنی علمی کارناموں کی وجہ سے دور دور تک شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے قدر داں ان کے معتقدین، ہندوستان اور پاکستان میں ہی نہیں مشرق اوسط کے ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ جہاں مختلف موضوعات پر ان کی تصانیف شوق اور توجہ سے پڑھی جاتی ہیں۔ ان کی تصانیف کی تعداد سو (100) سے زائد ہیں، جن میں چالیس کتابوں کے ترجمے دوسری زبانوں میں شائع ہوکر مختلف ملکوں میں پھیل گئے ہیں۔“ (امام احمد رضا اور مسعودِ ملت، ص:13)

مسعود صاحب کی رحلت سے جہاں علم و ادب کی دنیا میں ایک خلا پیدا ہوگیا ہے اور احمد رضا خاں بریلوی کی تصانیف و تالیف پر مسلسل اور انتھک عملی نقطہٴ نظر سے کام کرنے والی ایک اہم علمی شخصیت کا فقدان ہوگیا ہے۔ وہاں وہ آنے والی نسلوں کو یہ پیغام دے گئے ہیں کہ انسان صورت سے نہیں بلکہ اپنی سیرت بالفاظ دیگر اپنے کارناموں کے سبب حیاتِ جاوید کا حق دار ہوتا ہے۔

سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاؤں گا
گر ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاؤں گا
پروفیسر مسعود صاحب کی شخصیت یقینا اس شعر کی مصداق ہے۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »