عصمتِ انبیاء علیہم السلام

عصمتِ انبیاء علیہم السلام اور مرسل امام زہری کا علمی جائزہ
علامہ مولانا افتخار احمد قادری
(شیخ الحدیث، دارالعلوم قادریہ، غریب نواز، ساؤتھ افریقہ)

سند حدیث:
علامہ قاضی عیاض جو علم اصول حدیث کے عظیم امام جن کی کتاب ”الماع“ اس فن کی کتب اوائل میں شمار ہوتی ہے، وہ فرماتے ہیں:

”امام زھری کا یہ بلاغ ہے، اس کی سند انہوں نے ذکر نہیں کی، درمیان کے دو تین راویوں کا ذکر تک موجود نہیں، ان سے کس نے یہ روایت بیان کی اس کا بھی ذکر نہیں اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے ایسا فرمایا اور یہ تو ایسی بڑی بات ہے جس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور سے جانا بھی نہیں جاسکتا اس لئے یہ اعتبار کے قابل نہیں۔“ (الشفاء، ص104 ج2)

شارح بخاری علامہ عینی تحریر فرماتے ہیں:
”وھذا مِن بلاغاتِ مَعمر ولم یسندہُ ولا ذَکَر راویہِ ولا انَّہ علیہِ السّلام قالَہ ولا یعرف ھذا لا من النبیِّ“ (عمدۃ القاری، ص55 ج1)۔

”یہ امام زھری کے شاگرد معمر کے بلاغات میں سے ہے انہوں نے نہ تو اس کی سند بتائی اور نہ اس کے راوی کا ذکر کیا اور نہ ہی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا فرمایا اور یہ بات تو اتنی بڑی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور سے جانی نہیں جاسکتی۔“

علامہ محمد صادق عرجون تبصرہ فرماتے ہیں: امام زھری ثقہ ہیں لیکن ثقہ کبھی غیر ثقہ سے بھی روایت کرتا ہے (امام زھری غیر ثقہ سلیمان بن ارقم سے بھی روایت کرتے ہیں جیسا کہ آگے آرہا ہے)۔

”قد یروِی الثقۃُ عَن غیرِ الثقۃِ لانَّہ فی نظرِہِ وتقدیرِہِ ثقۃٌ وَھو عندَ غیرِہِ ضعیفٌ لا تُقبلُ رِوایتہُ“ (محمد رسول اللہ ص386، 387 ج1)۔
”کبھی ثقہ راوی غیر ثقہ سے روایت کرتا ہے کیونکہ وہ اس کی نظر میں ثقہ ہوتا ہے اور دوسروں کے یہاں وہ ضعیف ہوتا ہے اور اس کی روایت ناقابل قبول ہوتی ہے۔“

بخاری کے دوسرے شارح حافظ ابن حجر عسقلانی بھی روایت کے اس حصہ کو بلاغ زھری یا بلاغ معمر سے ہی تعبیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
”اس حدیث میں اضافہ شدہ حصہ صرف معمر کا تفرد ہے، عقیل اور یونس کی روایت میں یہ اضافہ نہیں ہے اور امام بخاری نے جس طرح اس اضافہ کا ذکر کیا ہے اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ یہ اضافی الفاظ عقیل کی روایت میں بھی ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے، امام بخاری نے معمر عن زھری روایت والی ہے کہ وحی رک گئی اور آپ غمگین ہوگئے یہ حدیث آخر تک بیان کی اور میرے نزدیک یہ اضافی الفاظ (جن میں خودکشی کا ذکر ) صرف معمر کی روایت میں ہیں کیونکہ ابونعیم (استاذ امام بخاری) نے اپنی مستخرج میں اس حدیث کو حافظ ابو زرعہ (استاذ امام بخاری) سے جو روایت کی ہے اس میں یہ اضافی الفاظ نہیں ہیں، امام احمد، امام مسلم اور دیگر محدثین نے اس روایت کو اس اضافہ کے بغیر حضرت لیث سے روایت کیا ہے، اس روایت کے الفاظ ”فیما بلغنا“ کے قائل زھری ہیں اور یہ زھری کا بلاغ ہے اس کا سلسلہ حضور تک نہیں پہنچتا۔
(فتح الباری، ص376 ج12)

بخاری کے تیسرے شارح علامہ کرمانی نے فرمایا یہی توضیح ظاہر ہے یعنی یہ زہری کا بلاغ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ اضافہ مدرج ہو لیکن معتمد پہلی تقریر ہے۔ (شرح الکرمانی ص97 ج24)

امام سیوطی رقم طراز ہیں:
”فیما بلغنا“ یہ زھری کا قول ہے۔ (التوشیح،ج9)

اگر یہ حصہ امام زھری کا ادراج ہے جیسا کہ علامہ کرمانی نے فرمایا تب تو بات بالکل واضح ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ روایت کا یہ ٹکڑا امام زھری کا اپنا خیال ہے اس سے زیادہ اس کی کوئی حیثیت نہیں ، جب کہ اس قسم کا ادراج بھی حرام ہے۔

علامہ نووی ادراج کی تعریف فرماتے ہیں:
”مُدرج فِی حدیثِ النبیّ صلی اللہ علیہ وسلم بانْ یذکرَ الراوی عقیبہ کلاماً لنفسہِ او لغَیْرہ من بَعدہِ مُتَّصلاً فیتوھَّم انَّہ منَ الحدیثِ“ (تقریب النووی، ص226 ج1)۔

”حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ”مدرج“ یہ ہے کہ راوی روایت سے متصل ہی اپنی یا کسی اور کی بات درج کرے اور اس سے وہم ہو کہ یہ حدیث کا ٹکڑا ہے۔“

اس کے بعد اس کے حرام ہونے کی تصریح فرماتے ہیں:
”وکلُّہ حرامٌ“ (تقریب النووی، ص231 ج1)۔
”ادراج کی ہر قسم حرام ہے۔“

علامہ سیوطی اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
”اَی الادراجُ باقسامِہِ حرامٌ باجماعِ اھلِ الحدیث وَالفقْہ“ (تدریب الراوی، ص231 ج1)۔
”ادراج اپنی تمام قسموں کے ساتھ حرام ہے اس پر تمام محدثین اور فقہاء کا اجماع ہے۔“

علامہ سیوطی صرف ایک قسم کو جائز بتاتے ہیں یعنی حدیث میں کوئی اجنبی لفظ آجائے تو اس کی تشریح کردینا جائز ہے۔
”وعِندی انَّ ما اٌدرج لِتفسیرِ غریبٍ لا یمنَع“ (تدریب الراوی، ص231 ج1)۔
”میرے نزدیک اجنبی لفظ کی تشریح میں اگر ادراج ہو تو حرج نہیں۔“

اس کے علاوہ روایت میں سارے ادراجات حرام ہیں خود زیر بحث روایت بخاری میں امام زھری کا ایک ادراج موجود ہے اور وہ ہے ”التحنث“ کی تشریح ”ھوالتعبد اللیالی ذوات العدد“ یہ امام زھری کے الفاظ ہیں۔

علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
”ھُو التعبُّد من کلام الزھری ادرجَ فی الحدیثِ مِنْ غیر تَمْییز کما اوضحتہ فی الشَّرح“ ’النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، ص287 ج2)۔
”ھُوالتَّعبّد زھری کا کلام ہے انہوں نے حدیث میں کسی وضاحت کے بغیر ادراج کردیا ہے میں نے اس کی تفصیل فتح الباری شرح بخاری میں کردی ہے۔“

امام ابن حجر عسقلانی نے امام زھری کے ادراجات کی متعدد مثالیں رقم فرمائیں ہیں، مزید وضاحت کے لئے ایک مثال اور درج کی جاتی ہے:

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جہری نماز کے بعد پوچھا: کیا تم میں سے کسی نے میرے ساتھ آواز کے ساتھ قرآن پڑھا ہے؟ ایک صحابی نے عرض کیا، ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نے پڑھا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں کہتا ہوں کیا بات ہے قرآن میں نزاع کروں؟
”فانْتھی النّّاس عنِ القراۃِ مع النَّبی صلی اللہ علیہ وسلم فیما جَھر فیہِ من الصَّلواتِ“
اس کے بعد لوگ حضور کے پیچھے جہری نماز میں قرآن پڑھنے سے باز آگئے۔

محمد بن یحییٰ ذھلی اور امام ترمذی حفاظ حدیث نے واضح فرمایا کہ فانتھی الناس سے۔۔۔آخر تک یہ پوراکلام زھری کا ادراج ہے۔
(النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، ص286 ج2)

امام عسقلانی مزید فرماتے ہیں:
زھری کی یہ عادت تھی کہ احادیث کی تفسیر میں اس طرح الفاظ بڑھادیتے کہ لفظ تفسیر بھی غائب کردیتے تھے جس کے باعث ان کے بعض معاصرین ان سے کہتے ”افصلْ کلامَک من کلامِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ ”آپ اپنی بات کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سے جدا کیجئے۔“ (النکت علی مقدمۃ ابن الصلاح، ص291 ج2)۔

جس طرح مذکورہ حدیث میں فانتھی الناس الخ کا پورا ٹکڑا امام زھری کا ادراج ہے زیر بحث روایت کا آخری ٹکڑا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ایسی بات منسوب کردی گئی ہے جو عصمت سید الانبیاء کے سراسرمنافی ہے اگر اس حصہ کو ادراج قرار دے دیا جائے جیسا کہ علامہ کرمانی شارح بخاری نے فرمایا ہے تو ساری بحث کا خاتمہ ہوجاتا ہے کہ یہ صرف اور صرف امام زھری کا کلام اور ان کا اپنا خیال ہے اس سے زیادہ علمی دنیا میں اس کی کوئی حیثیت نہیں اور واضح کردیا جائے کہ سید الانبیاء علیہم السلام و صلی اللہ علیہ وسلم کی پاکیزہ زندگی خودکشی کے عزم وارادہ کے بدنما دھبے سے پاک اور منزہ ہے۔

ہاں علماء کا ایک طبقہ اس روایت کو مرسل قرار دے رہا ہے، اس لئے اب ہم امام زھری کی مرسل روایتوں کا جائزہ اختصار کے ساتھ لے رہے ہیں۔

امام زھری کی مراسیل پرائمہ نے سخت تنقیدیں کی ہیں:
(ا) جرح وتعدیل کے بانی امام یحییٰ بن سعید قطان متوفی 198ھ امام ذہبی جیسے ناقد بصیر نے ان کو امیر الموٴمنین فی الحدیث لکھا ہے، یہ امام اعظم کے شاگرد ہیں اور حنفی ہیں، امام ذہبی فرماتے ہیں: ”کانَ فی الفروع علی مَذھبِ ابی حَنیفۃ“ (سیر اعلام النبلاء، ص111 ج8)۔ ”مسائل میں یہ حنفی تھے۔“

حدیث وفن رجال کے ائمہ کبار ان کے سامنے باادب کھڑے رہتے اورد رس حدیث لیتے ۔ علامہ جمال الدین مزی رقمطراز ہیں: اسحاق بن ابراہیم بیان کرتے ہیں کہ میں امام یحییٰ بن قطان کو دیکھتا کہ عصر کی نماز پڑھتے پھر اپنی مسجد کے منارہ کے نیچے ٹیک لگاکر بیٹھتے اور علی بن مدینی ، شاذکونی، عمرو بن علی، احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین وغیرہ ائمہ سعید قطان سے حدیثوں کے بارے میں پوچھتے اور یہ جواب دیتے اور یہ سب ائمہ دورانِ درس کھڑے رہتے۔
”الی ان تَحین صلاۃ المغرب لایقول لاحدٍ منھُم اجلسْ ولا یجلسونَ ھیبۃً لہ واعظاماً۔“
(تہذیب الکمال، ص339 ج31)۔

یہاں تک کہ نماز مغرب کا وقت آجاتا ، امام یحییٰ کسی سے نہ فرماتے کہ بیٹھ جا اور نہ ہی حضرات ائمہ رعب واحترام کے مارے بیٹھتے۔
ان ائمہ میں ابن معین اور علی بن مدینی وغیرہ امام بخاری کے مشائخ واساتذہ ہیں، امام بخاری اپنے شیخ علی بن مدینی کے بارے میں فرماتے ہیں: ”مااسْتصغرْتُ نفسی عندَ احدٍ الا عنْدَ علی بن المَدینی“
(سیر ا ٴعلام النبلاء ، ص342 ج9)۔

”میں نے کسی کے سامنے خود کو ہیچ اور کمتر نہ سمجھا مگر علی بن مدینی کے سامنے۔“
یہ علی مدینی اور یہ ابن معین اوریہ امام احمد بن حنبل امام یحییٰ قطان کے شاگرد ہیں۔ یہ امام یحییٰ قطان فرماتے ہیں:
مرسلُ الزَّھری شرٌّ مِن مرْسَلِ غیرِہِ لانَّہ حافظٌ وکلَّما قدَر انْ یسمیَ سَمَّی وانَّما یترُک من لا یحبُّ اْن یسمیہِ اوْیستحی“ (سیر اعلام النبلاء للذھبی، ص 144ج6 ومرویات الامام الزھری المعلۃ، ص48 ج1)۔

”زھری کی مرسل روایتیں دوسروں کی مرسل روایتوں سے بدتر ہیں اس لئے کہ وہ حافظ ہیں ان کو راوی کا نام لینے کی قدرت ہے اور جب چاہتے ہیں راویوں کا نام لیتے ہیں وہ تو اس لئے راویوں کا نام نہیں لیتے کہ ان کو پسند نہیں کرتے یا ان کا نام لیتے ہوئے ان کو حیاء آتی ہے۔“
امام ابن سعید قطان یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ زھری اپنی مرسل روایتوں میں درمیان کے راویوں کو اس لئے ظاہر نہیں کرنا چاہتے کہ ان کا نام لینا پسند نہیں یا ان کا نام لینے میں ان کو حیاء آتی ہے۔

(2) امام شافعی زھری کی مراسیل کے بارے میں فرماتے ہیں:
”ارسَال الزھرِی عندنَا لَیسَ بِشیءٍ وذلکَ انَّا نَجدُہُ یَروی عَن سلیمان بِن ارقم“
(مرویات الزھری ص48 ج1)۔

”زھری کی مرسل روایتیں ہمارے یہاں کچھ حیثیت نہیں رکھتیں اس لئے کہ ہم ایسا پاتے ہیں کہ زھری سلیمان بن ارقم (جو متفقہ طور پر ضعیف ہیں) سے روایت کرتے ہیں۔“
امام شافعی مراسیل زھری کو ناقابل اعتبار اس لئے قرار دے رہے ہیں کہ وہ ضعیف راوی سے روایت لیتے ہیں۔

(3) امام یحییٰ بن معین متوفی 233ھ حنفی تھے (سیر اعلام النبلاء، ص210 ج9) اور جرح وتعدیل کے دوسرے بڑے امام جن کو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے اپنے فتاوٰی میں امام اجل لکھا اور جو تمام مکاتب فکر میں یکساں مقبول اور معتمد اور امام بخاری کے استاذ ہیں، وہ فرماتے ہیں:
”مُرسلُ الزھری لَیس بشیء“ (مرویات الزھری، ص48 ج1)۔
”زھری کی مراسیل کچھ نہیں ہیں۔“

(4) امام بخاری کے دوسرے شیخ علی مدینی متوفی 234ھ جن کو اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے امام اجل فرمایا، ان سے حدیث ”لانَذَرَ فی معصیَۃِ اللّٰہ وکفَّارتُہُ کفارَۃ یَمینٍ“ (حاشیۃ مرویات الامام الزھری، ص48 ج1) کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا، اس روایت کو زھری نے سلیمان بن ارقم سے سنا ہے مزید فرمایا: اسی وجہ سے میں کہتا ہوں:
”ان مرسَلات الزھری ردیۃ“ (مرویات الامام الزھری، ص48 ج1)۔
کہ زھری کی مرسلات ردی ہیں۔

امام ذہبی جو نقد اور جرح وتعدیل کے ایسے ناقد وبصیر ہیں جن کی تحقیقات عصر قدیم اور عصر جدید دونوں میں نہایت وقیع سمجھی جاتی ہیں اور جن کی تصریحات کے سامنے چوٹی کے محققین بھی سر تسلیم خم کردیتے ہیں وہ مراسیل زھری کے بارے میں رقم طراز ہیں:
”مرَاسیلُ الزھری کالمُعضَلِ لانَّہ یکون قد سَقَط مِنہ اثنانِ ولا یسوغُ ان نَّظن بِہِ انّہ اَسقطَ الصحابی فَقَط ولو کان عِندہ صحابی لاوضحَہُ ولمَّا عجز وصلہ ولو انہ یقولُ عن بعضِ اصحابِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم“ (سیر اعلام النبلاء، ص44 ج6)۔

”زھری کی مرسلات ”معضل“ روایتوں کی طرح ہیں، اس لئے کہ اس کے دو راوی ساقط ہوتے ہیں اور یہ جائز نہیں کہ ہم یہ خیال قائم کریں انہوں نے صرف صحابی کو ساقط کیا ہے، اگر صرف صحابی کے ساقط کرنے کی بات ہوتی تو وہ یقینا صحابی کا ذکر کردیتے لیکن وہ ایسا کرنے سے عاجز ودرماندہ رہے تو وہ اگرچہ کہیں کہ یہ روایت بعض صحابہ سے مروی ہے مگر یہ مسموع نہ ہوگا۔“

امام ذہبی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ان کی مراسیل دیگر مرسل روایتوں سے بھی کم درجے معضل جیسی ہیں جن میں دو دو راوی ساقط ہیں۔
امام سیوطی بھی ”تدریب الراوی“میں مراسیل زھری کے بارے میں تین بڑے ائمہ یحییٰ بن سعید، ابن معین اور امام شافعی کی رائیں ان الفاظ میں نقل فرماتے ہیں:
”قال ابنُ معین ویَحیی بِن سعید القطان لَیس بِشَیءٍ وکذا قال الشافعی قال لانَّا نجدہ یَروی عن سلیمان بن ارقَم“ (تدریب الراوی، ص169 ج1)۔

”ابن معین اور یحییٰ بن سعید قطان نے فرمایا: زھری کی مرسل روایتیں کچھ نہیں ہیں، یہی امام شافعی کا بھی قول ہے، مزید فرمایا اس لئے کہ ہم ایسا پاتے ہیں کہ زھری سلیمان بن ارقم سے روایت کرتے ہیں۔“
امام بیہقی نے امام یحییٰ بن سعید قطان سے روایت کی ہے:
”مُرسلُ الزَّھری شَرٌّ من مُرسلِ غیرِہ“ (تدریب الراوی، ص169 ج1)۔

”زھری کی مرسلات دوسروں کی مرسلات سے بدتر ہیں۔“
یہ سارے ائمہ کبار متفق ہیں کہ امام زھری کی مرسل روایتیں مذکورہ اسباب وعلل کے باعث اعتبار کے لائق نہیں۔
علوم حدیث پر مصر سے شائع ہونے والے جدید انسا ئیکلو پیڈیا میں مرقوم ہے:
”وَلِلزھریِّ نحوٌ من تِسعینَ حدیثاً یرویہِ عنِ النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا یُشارکُہ فیہِ احد باسانیدَ جیاد“ (موسوعۃ علوم الحدیث، ص417)۔
”زھری کی تقریباًنوے (90) ایسی روایتیں ہیں جن کو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں اور ان حدیثوں کو کسی نے بھی اچھی سند سے روایت نہیں کیا ہے۔“

متن حدیث:
پچھلے صفحات میں مرسل امام زھری کے روایتی پہلو پر ہم تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں اب اجمالاً اس روایت کے متن اور الفاظ پر بھی روشنی ڈالیں گے۔ علماء ومحدثین اور ناقدین کے یہاں روایت قبول کرنے کے لئے اس کا متن اور الفاظ کا صحیح ہونا بھی ضروری ہے اور متن کے صحیح ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ دین کے اصولوں میں کسی اصول سے متصادم نہ ہو۔
علامہ محمد صادق عرجون نے بڑی دقت نظری سے اس پر اظہار خیال فرمایا ہے۔ وہ تحریر فرماتے ہیں:
”فصِحَّۃ المتنِ شرطٌ مع صحۃِ السندِ فی قَبول النَّص المسمُوعِ بمعنی انَّ الحدیث یجبُ ان یکونَ صَحیحَ السنَدِ مروِیّاً عنِ الثقاتِ الضَّابطینَ ویجبُ معَ ذلکَ ان یکونَ صحیح المتنِ، فلا یتعارضُ مع اصل من اصولِ الایمانِ المتَّفق علیہا بینَ ائمۃِ الدین والعلم ولا یتعارضُ مع الدلائلِ الظاہرۃِ التی تخالِف مدلول النصِّ المروی بالسند الصحیحِ“ (محمد رسول اللہ، ص387 ج1)۔

(جاری ہے۔۔۔)

جون 2008 | تبصرہ کریں »