مادہ ہائے تاریخ وصال۔ مسعودِ ملت
مادہ ہائے تاریخ سال وصال۔ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ
از: محمد عبد القیوم طارق سلطانپوری
قرآنی مادہٴ تاریخ (سالِ وصال)
”رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَھَّرُوْا ط وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُطَھِّرِیْنَ“ (التوبۃ)
9 2 4 1 ھ
دیگر مادہ ہائے تاریخ
1429ھ
2008ء
”فروغِ محفلِ عبدہ“
”شمعِ منزلِ عظمتِ نبی“
”کمالِ ذوقِ عشقِ نبی“
”آنِ فیضانِ اہلِ شریعت“
”مملکتِ معرفتِ مدینہ“
”لازوال حسن و جمالِ شہرستانِ طریقت“
”عظیم، مسعود دیدہ ور“
”فروغِ علم و تصوف“
”شمعِ رشادت و حق“
”تنویرِ فیضانِ عرفان“
”منہاجِ گلشنِ رُشد و ہدایت“
”پاکی، خوبی و خَیر و سعادت“
”تجلیاتِ گداز و علم و عرفان“
”اکمال، شرف، اَوج و فضیلت“
”ادراک، اخلاص و للہیت“
”سلسبیلِ تذکیر و دعوت“
”خیر، سعادت، مَجد، آگاہی“
”مظہرِ آنِ اخیار“
”عزیزِ خلقِ خدا“
”نفیس، باوقار، دلنواز شخصیت“
قطعاتِ تاریخ (سالِ وصال)
ماہرِ رضویات حضرت علامہ ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی مظہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ
کراچی۔ تاریخ وصال: 28/اپریل 2008ء/ 22/ربیع الثانی 1429ھ
صَفا، علم و ہُدیٰ کا گاہوارہ
معظم، محترم اس کا گھرانہ
اُسی کو اُس نے اپنایا بہ اخلاص
جو تھا اُس کے بزرگوں کا طریقہ
جو اسلافِ مکرم کی ہے پہچان
وہی تھا اُس کا بھی معمول و شیوہ
اُسی کو اختیار اُس نے کیا تھا
جو نامی اُس کے آبا کا ہے رستہ
جو کام اُس کے اکابر نے کئے ہیں
وہی پیشِ نظر رکھے ہمیشہ
فروغِ علم و فقر و معرفت میں
بلند اُس بندہٴ حق کا ہے رُتبہ
زباں اُس کی گُل افشانِ حقائق
گہر بارِ معارف اُس کا خامہ
پئے اوج و کمال و فرِّ اسلام
گزارا زندگی کا لمحہ لمحہ
جدوجہد اوجِ حق کی عمر بھر کی
عزیمت استقامت کا نمونہ
طریقت کے ادب کے ارتقاء میں
ہے اُس کا قابلِ تحسیں حصہ
وہ پیری میں بھی تھا فَعّال و پُرجوش
عمل محکم توانا اس کا جذبہ
تہی دستانِ علم و معرفت کو
وجود اُس کا تھا قدرت کا عطِیّہ
ہمارے اوجِ پارینہ کا طالب
سراپا آرزوئے شانِ رفتہ
وہ سرافرازِ دوراں، اُس کے سر پر
رضا کا تھا، مجدد کا تھا سایہ
زعیمِ فقر کے فیضِ نظر سے
زمانے نے کیا خوب استفادہ
لیا دستِ اجل نے چھین ہم سے
متاعِ علم، دانش کا خزینہ
ہمارے درمیاں سے اُٹھ گیا آہ
خدائے پاک کا مقبول بندہ
سپردِ خاک ہم نے کردیا ہے
وہ علم و معرفت کا ماہ پارہ
شکسۃ دِل ہے ہجرِ باغباں میں
چمن کا بُوٹا بُوٹا، پتّہ پتّہ
نواز اُس کو الٰہی مغفرت سے
بحقِّ جانِ رحمت، ماہِ طیبہ
تِرے لطف و کرم کا مستحق ہے
وہ تیرا مخلص و محبوب بندہ
کہا طارق نے اس کے وصل کا سال
”یگانہ، حُسنِ وَجہِ مظہر اللہ“
9 2 4 1 ھ
(2)
وقیع و معتبر خوب و ثمرور
بہ دینِ مصطفی خدمت کہ اُو کرد
بہ ورع و اتّقا، بے ہمتا بود
در علم و آگہی لاریب اُو فرد
وجودش حسنِ بزمِ حکمتِ دین
ریاضِ معرفت را خوشنما ورد
بہ باغِ دانشِ احمد رضا خان
جہادِ او بہارِ تازہ آورد
علیل و پیر بُد، درخدمتِ دین
نہ پروا آں محبِّ مصطفی کرد
چہ گویم از کُجا الفاظ آرم
دماغم غم زدہ و قلب پُردرد
فسُردہ خاطرِ تحقیق و تحریر
رُخِ تعلیم و فقر و معرفت زرد
بگفتم سالِ وصلش از ”جہاد“ آہ (13)
”حق آگاہ و سعادت یافتہ مرد“
13 + 1416 = 1429ھ
(3)
وہ دیدہ زیب پیکر خوبیوں کا
نہ ایسے لوگ پیدا ہوں گے ہر روز
بِتائی عمر اس نے درسِ حق میں
زباں سے بھی قلم سے بھی حق آموز
سعادت مند داعی خَیر کا تھا
فروغِ دین کا ساعی شب و روز
صفا کا معرفت کا بزم آرا
وہ علم و آگہی کا محفل افروز
نہیں ہے کل طبیعت کو کسی پل
خبر جب سے سُنی میں نے یہ دل سوز
سرِ ”بے مثل“ سے تاریخِ رحلت (2)
”وقوعہ ہے قیامت خیز و دل دوز“
2 + 7 2 4 1 = 1429ھ
(4)
افتخارِ بزمِ علم و آگہی
محفلِ تحقیق و دانش کا وقار
بے بہا گوہر وہ کانِ فقر کا
معدنِ عرفاں کا دُرِّ شاہوار
اُس کے علمی کارناموں کو مِلا
اہلِ دل، اہلِ نظر میں اعتبار
لایا دانش ور وہ مردِ شہ دماغ
رضویت کے باغ میں تازہ بہار
شیخ احمد کا نقیبِ فقر و فکر
وہ مجدد کے چمن کا آبیار
ا
ُس کی رحلت سے ہوئے خدامِ دیں
دل فگار و اشکبار و بے قرار
وصل کا طارق نکل آیا ہے سال
”صاحبِ عرفاں“ کہا جب چار بار
2 0 5
502 * 4 = 2008ء
(5)
وہ ممتاز و موٴقّر عالمِ دین
وہ اِک شیخِ طریقت شہرہ آفاق
وہ دیدہ ور قلم کا نادرہ کار
وہ غور و فکر میں ریسرچ میں طاق
نگارش دل پذیر و پُر معانی
غرابت جس میں تھی کوئی نہ اغلاق
بہ طرزِ نَو دیے ترتیب اُس نے
کتابِ فقر و آگاہی کے اوراق
اثر انگیز تھا اندازِ تحریر
ِیا اُس نے مبرہن حق کا احقاق
کڑی تھا معرفت کے سلسلے کی
جنودِ خیر سے تھا اس کا الحاق
غمیں اُس کی جدائی سے ہوئے ہیں
جو ہیں دینِ مَہ طیبہ کے عشاق
یہ صدمہ حق پرستوں کے دلوں پر
حقیقت یہ ہے، گزارا ہے بہت شاق
سعیدِ عصر کی تاریخِ رحلت
کہی، ”وہ خوبیٴ ایوانِ اخلاق“
9 2 4 1 ھ
(6)
مستعدی، انتہائی عمدگی کے ساتھ وہ
عمر بھر کرتا رہا تقسیمِ شہدِ رضویات
مدتوں بزمِ وفا میں یاد رکھی جائے گی
قابلِ تحسین اُس کی جدوجہدِ رضویات
والہ ٴ احمد رضا، تصویرِ صدق و علم و فقر
اُس کی رحلت کی کہی تاریخ ”جَہدِ رضویات“
9 2 4 1 ھ
(7)
علم و حکمت کی محافل میں رکھا جائے گا یاد
صدرِ بزمِ فقر وہ مسند نشینِ معرفت
تھا وجود اُس بندہٴ مسعود کا اِس دور میں
حُسنِ روئے اہتدا، نورِ جبینِ معرفت
ہم بظاہر ہوگئے محروم اُس کی دِید سے
خاک میں پنہاں ہوا دُرِّ ثمینِ معرفت
اب طریقت کے چمن میں دِیدہ ور ایسا کہاں
پھول ایسا کب کھلائے گی زمینِ معرفت
کی رقم ”آگاہی“ کے ساتھ اُس کی تاریخِ وصال (37)
باسعادت وہ ”گلِ باغِ حسینِ معرفت“
37 + 1971ء = 2008ء
(8)
مکرم ڈاکٹر مسعود احمد
غلامانِ رسولِ حق کا غم خوار
وہ عالی مرتبت شیخِ زمانہ
وہ خَیلِ دانش و عرفاں کا سالار
وہ تھا باغِ شریعت کا محافظ
طریقت کے گلستاں کا نگہدار
وہ اِک بیدار مغز انسان جس نے
کیا سوئے ہوئے بندوں کو بیدار
عمل خوب، حق نما کردار اس کا
دِل آویز اس کا تھا اندازِ گفتار
خُوشا اُس کی زباں کی گُل فشانی
قلم تھا عمر بھر اُس کا گُہَربار
پَئے اَوج و فروغِ دینِ حق، کام
کِیا مسعود احمد نے لگاتار
کِیا واضح مقام احمد رضا کا
مجدد کی سنواری بزمِ افکار
کِیا کام اُس نے تعمیر حرم کا
حَرم کا خاندانی تھا وہ معمار
بڑا انسان تھا لیکن کبھی بھی
کِیا اس نے بڑائی کا نہ اظہار
یہ ہے میری سعادت، میں نے اس کو
سُنا ہے اور دیکھا ہے کئی بار
معنبر ہو الٰہی اُس کا مرقد
ہو یارب قبر اُس کی شرقِ انوار
وہ تیرے دین کا بے لوث خادم
وہ تیری مہربانی کا ہے حق دار
وصالِ بندہٴ حق آشنا کی
رقم تاریخ کی ”منظورِ اخیار“
2008ء
محمد عبد القیوم طارق سلطانپوری
جون 2008 | تبصرہ کریں »