منقبت۔ مسعود ملت

ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی رحلت پر
نتیجہٴ فکر
پروفیسر ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم

ہوگیا ہے حضرتِ مسعود احمد کا وصال
ملت ِ اسلامیہ غم سے ہوئی ان کے نڈھال

دفعتاً مجھ کو ملی جب ان کی رحلت کی خبر
اشک آنکھوں سے بہے دل کو ہوا صدہا ملال

عقل کو تشویش ہے کہ حادثہ کیونکر ہوا
دل ہے لیکن مطمئن کہ حکمِ رب ہے لایزال

موت ہے ہر اِک نَفَس کو اس میں کوئی شک نہیں
بس وہی باقی رہے گا اور ہے سب کو زوال

بس گئے جاکر جوارِ رحمت ِ باری میں وہ
ہم ابھی تک پیکرِ رنج و الم، شوریدہ حال

دہلی کے اُس خانوادے کے تھے وہ چشم و چراغ
اہلِ ہند و پاک میں جس کا رہا علمی جلال

فقہ و تفسیر و حدیث و نحو و صرف و فلسفہ
سیرت و عرفان سب میں ان کو حاصل تھا کمال

اعلیٰ حضرت کون تھے، دنیا کو وہ بتلا گئے
مُلکِ رضویات کے تھے حکمراں ہے یہ خیال

وہ حقیقت میں محقق ان کی ہر شے پر نظر
ان کی ہر تحقیق عمدہ، ان کی باتیں بے مثال

نقشبندی سلسلہ کا فیض حاصل تھا انہیں
بزرگانِ دین سے ان کی محبت اِک مثال

عاشقِ صادق وہ حضرت شیخ سرہندی کے تھے
پندرہ جلدوں میں سوانح جس کی ہے واضح مثال

وہ محب ِ مصطفی تھے، خلد ان کا مستقر
شک نہیں اس میں ذرا بھی، ہے اگر، دل سے نکال

تابعِ فرمانِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اہلِ سنت کے نقیب
حامیٴ اہلِ محبت، ماحیٴ کفر و ضلال

عاملِ قرآن و سنت، عابدِ شب زندہ دار
مرکزِ رشد و ہدایت، خوش عقیدہ، خوش خصال

صاحبِ طرزِ نگارش، واقفِ رازِ سخن
مالکِ خُلق حسن، جادو رقم، شیریں مقال

مسلکِ احمد رضا خاں کی اشاعت تھا مشن
وقف تھے جس کے لیے سب زندگی کے ماہ و سال

ایک عرصہ تک ملازم تھے حکومت پاک کے
شعبہٴ تعلیم میں تھی ان کی خدمت بے مثال

”مرکزِ تحقیق امام احمد رضا“ کو مل گئی
ان کی تنہا ذات سے شہرت جہاں میں لازوال

اہلِ دانش، اہلِ فن ان سے رجوع کرتے رہے
علم میں آنکھیں ملائے کوئی ان سے کیا مجال

وہ شریعت وہ طریقت دونوں کے سنگم حسیں
صاحبانِ دین و دانش معترف بے قیل و قال

وہ تھے پابندِ شریعت اپنے قول و فعل میں
دیکھتے وہ غور سے کیا ہے حرام و کیا حلال

سادگی، سادہ مزاجی، انکساری تھی بہت
نہ تھی ان میں تمکنت نہ ان میں تھا جاہ و جلال

ظاہر و باطن تھا یکساں، سب کو تھی اس کی خبر
سیرت و صورت میں دونوں پیکرِ حسن و جمال

وہ وحیدِ عصر تھے، ان کا کوئی ثانی کہاں
اس سے کہہ دو یہ جواباً گر کرے کوئی سوال

شمعِ علم و فن کے بجھتے ہی اندھیرا چھاگیا
پھر جہاں میں کس طرح علمی فضا ہوگی بحال

ان کے جاتے ہی جہاں سے علم جیسے اٹھ گیا
صاحبانِ علم ان جیسے جہاں میں خال خال

ان کے اوصاف و محامد یہ قلم کیا کیا لکھے
وہ سمندر تھے یہ قطرہ ہے لکھا جو خدّ و خال

ان پہ فضلِ خاص فرما اے خدائے ذوالمنن
نور سے تو قبر بھر دے، خیر کر ان کا ماٰل

شافعِ محشر کی تُو ان کو شفاعت کر نصیب
مالکِ روزِ قیامت تُو ہی ہے اے ذو الجلال

قبر جنت کی بنا کیاری خدایا فضل سے
مغفرت اور عفو سے ہو قبر ان کی مالامال

جنت الفردوس میں صحبت ملے سرکار کی
یہ دعا تجھ سے ہے میری اے خدائے ذوالجلال

اپنے فضلِ خاص سے تُو جس کو چاہے بخش دے
کچھ نہیں ہے غیر ممکن، کچھ نہیں امرِ محال

مجھ کو تھی ان سے عقیدت، وہ تھے میرے محترم
پھر نہ کیوں فرطِ عقیدت سے لکھا جائے یہ حال

پس روانِ حضرتِ مسعود کو صبرِ جمیل
دور کر ان کے دلوں سے خدا رنج و ملال

جب ہوئی یہ فکر دامن گیر کہ کیسے لکھوں
ان کی رحلت کب ہوئی ہے، کب ہوا ہے انتقال

ہاتفِ غیبی سے کانوں میں مِرے آئی صدا
دل کو اپنے تھام کر لکھ قطعہ تاریخِ وصال

وہ ”عزیز القدر“ (429) تھے اس کا عدد لے کر پڑھیں
”جانبِ خلدِ بریں ان کا ہوا شدِّ رحال“ (1579)
429 + 1579 = 2008ء

پیش انجم ہے تہِ دل سے محبت کا خراج
کر قبول یارب طفیلِ سیدی حضرت بلال

اگست 2008 | تبصرہ کریں »

اپنی بات1۔ مسعود ملت کے بعد

اپنی بات۔ 1
مسعودِ ملت کے بعد۔۔۔
اگر رفیق شفیقی درست پیماں باش!
مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے

قارئین کرام!
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

معارفِ رضا کے ”ماہر رضویات“ نمبر کا دوسرا شمارہ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ آج جبکہ زیر نظر شمارہ پریس میں جارہا ہے، ماہر رضویات، مسعودِ ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد رحمہ اللہ کو دنیا سے رخصت ہو ئے تقریباً 3ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ غم و اندوہ کی جو کیفیت تھی اس میں افاقہ ہوا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ تمام افراد اور ادارے جنہوں نے مسعودِ ملت مرحوم و مغفور کی زیرِ نگرانی و سرپرستی علمی، تصنیفی و تحقیقی سفر کا آغاز کیا تھا، بالخصوص ”رضویات“ کے حوالے سے 1968ء سے اپریل 2008ء تک ایک طویل فاصلہ کامیابی و کامرانی سے طے کیا،ا پنی اپنی کارکردگی کا از سرِ نَو جائزہ لیں اور ان کے بتائے ہوئے رہنما اصول کے تحت مستقبل کے لیے منصوبہ بندی کے ساتھ ایک نئے جذبے سے سرشار تحقیقی و تصنیفی کام کو آگے بڑھائیں۔ یاد رہے کہ زندگی جہد ِ مسلسل کا نام ہے۔ تلاش و جستجو، غور و فکر اور تحقیق و تدقیق کا سفرِ مسلسل ارتقائے فکر و علم، احقاق و انکشافِ حق کے لیے ضروری ہے۔ معلمِ کائنات، پیغمبر اعظم، سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہی تعلیم ہے۔ صحابہٴ کرام، ائمہ کرامانِ امت اور اولیاء و علماءِ ملت بالخصوص امام الاولیاء سیدنا و مولانا شیخ عبد القادر محی الدین جیلانی غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی طریقہ رہا ہے، دورِ ماضی قریب میں سیدنا اعلیٰ حضرت عظیم البرکت امام احمد رضا خاں حنفی قادری برکاتی قدس اللہ سرہ السامی (1856ء۔ 1921ء) نے اسی کا عملی نمونہ پیش کیا اور ہمارے ممدوح، ماہرِ رضویات، پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمۃ نے انہی کے نورِ علم سے کسبِ فیض کرتے ہوئے علم و تحقیق کے دریا بہائے اور اقبال کے ان اشعار کی زندہ تفسیر بن گئے:

نہیں مقام کی خوگر طبیعتِ آزاد
ہوائے سیر مثالِ نسیم پیدا کر
ہزار چشمہ تِرے سنگ راہ سے پھوٹے
خودی میں ڈوب کے ضربِ کلیم پیدا کر

اور آج مسعودِ ملت کے چشمہٴ علم و عرفاں سے ہزارہا جویانِ حق سیراب و مستفیض ہورہے ہیں اور ان شاء اللہ ہوتے رہیں گے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔

جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »

اپنی بات2۔ مسعود ملت

اپنی بات۔2
امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی اور خدماتِ ماہرِ رضویات حضرت مسعودِ ملت
مدیر پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری کے قلم سے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی دہلوی ابن مفتی شاہ محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی دہلوی (المتوفی 14/شعبان المعظم 1386ھ/ 28/نومبر 1966ء) ابن مفتی شاہ محمد سعید نقشبندی دہلوی (المتوفی 1307ھ/ 19889ء) ابن مفتی شاہ محمد مسعود نقشبندی مجددی محدثِ دہلوی (المتوفی 1309ھ/ 1892ء) دہلی میں 1349ھ/ 1930ء میں پیدا ہوئے اور ایک طویل بامقصد زندگی گزار کر خدمت ِ دین کرتے ہوئے 22/ربیع الثانی 1429ھ/ 28/اپریل 2008ء بروز پیر (وصالِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن) نمازِ مغرب سے فارغ ہوکر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے جیساکہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یا ایتھا النفس المطمئنۃ O ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ O فادخلی فی عبادی O وادخلی جنتی O
(سورۃ الفجر: 27۔ 30)

”اے اطمینان والی جان (یہ مومن سے اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ موت کا ذائقہ چکھ کر دنیا سے سفرِ آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے) اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔“

جاری رکھیں »

اگست 2008 | 2 تبصرے »

سب سے پہلے ماہر رضویات

حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب۔ سب سے پہلے ماہر رضویات
تحریر: ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد دہلوی
(شاہی امام جامع مسجد فتح پوری دہلی، انڈیا۔)

احقر کے عم محترم حضرت پیر طریقت علامہ پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب نقشبندی مجددی رحمۃ اللہ علیہ اس دار فانی سے 21/ ربیع الثانی 1429ھ مطابق 28/اپریل 2007ء کو وصال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اللہ تبارک و تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان پر اللہ تبارک و تعالیٰ کا خاص فضل و کرم تھا اور اس کے حبیب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار رحمتیں تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی تقویٰ، طہارت اور اتباع سنت میں گزاری، اعمال صالحہ کی پابندی کی، ہزاروں کتابیں اور مقالات شائع کراکے دین مبین کی خدمت فرمائی جو آج ان کے لئے صدقہٴ جاریہ ہے۔ ان کے جانشین صاحبزادہ علامہ ابو السرور محمد مسرور احمد صاحب مدظلہ نہایت خلیق، عابد و زاہد فاضل ہیں۔ بلاشبہ پروفیسر صاحب کی رحلت، جماعت اہل سنت کا عظیم نقصان ہے۔ وہ اہل سنت کے لئے ڈھارس تھے وہ سرمایہٴ اہل سنت تھے، وہ نادر و انمول شخصیت کے حامل تھے۔ ان کی وفات سے ہونے والے نقصان کی تلافی بہت مشکل ہے۔

اے اہل زمانہ قدر کرو ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
ڈھونڈھو گے ہمیں ملکوں ملکوں نایاب نہیں کم یاب ہیں ہم

جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »

دنیائے علم و ادب کی انقلاب آفرین شخصیت

مسعودِ ملت۔ دنیائے علم و ادب کی انقلاب آفرین شخصیت
مولانا محمد عبد المبین نعمانی
(المجمع الاسلامی، ملت نگر، مبارکپور، اعظم گڑھ، یوپی، انڈیا)

سعادتِ لوح و قلم، محققِ رضویات، صاحبِ تصانیف کثیرہ عالی جناب پروفیسر محمد مسعود احمد نقشبندی صاحبزادہ مفتیٴ اعظم دہلی حضرت علامہ مفتی محمد مظہر اللہ مجددی سابق امام جامع مسجد فتح پوری، دہلی کا سانحہٴ ارتحال پوری جماعت ِ اہلِ سنت کے لیے ایک بڑا المیہ اور جہانِ علم و ادب کا زبردست نقصان ہے۔ اچانک آپ کی خبر وفات نے پورے عالمِ اہلِ سنت کو مغموم کردیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »

پچھلا صفحہ »