صدیوں تجھے گلشن کی فضا یاد کرے گی

از: ابو بلال محمد سیف علی سیالوی

21/ربیع الآخر 1429ھ۔ 28/اپریل 2008ء بروز پیر بعد نماز عشاء ”ترجمان السنۃ“ کے مطالعہ میں مصروف تھا کہ لائٹ چلی گئی۔ میں نے کتاب بند کی اور چارپائی پر لیٹ گیا۔ میری شاید آنکھ بھی نہ لگی ہوگی کہ فون کی گھنٹی بجی۔ گیارہ بج کر انچاس منٹ تھے کہ لاہور سے ادیب شہیر ملک محمد محبوب الرسول قادری صاحب مدظلہ الاقدس نے اطلاع دی کہ حضرت مسعودِ ملت ماہر رضویات ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب انتقال فرماگئے ہیں۔ اس خبر سے دل کی دنیا اُجڑ گئی، غموں کے دریا میں ڈوب گیا اور سنّیت یتیم سی محسوس ہونے لگی۔ میں فیصلہ نہ کرسکا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے۔ آخر ملک صاحب کو لاہور فون کیا اور ان سے پوچھا کہ ڈاکٹر صاحب کس وقت ہمیں بے سہارا چھوڑ کر اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے؟ تو ملک صاحب نے بتایا کہ عشاء کی نماز کے بعد کراچی میں آپ نے وصال فرمایا ہے۔

فوراً کراچی، مدیر اعلیٰ ”معارفِ رضا“ حضرت علامہ سید وجاہت رسول قادری صاحب کو فون کیا۔ آپ سے اظہارِ افسوس کیا۔ آپ بہت اُداس محسوس ہورہے تھے۔ میں نے عرض کی، حضور مجھے تو محسوس ہوتا ہے کہ سُنّیت آج یتیم ہوگئی ہے۔ شاہ صاحب فرمانے لگے، بالکل ایسا ہی ہے۔ آپ اس وقت ڈاکٹر صاحب کی رہائش گاہ پر ہی تھے۔ آپ نے میری بات ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے ڈاکٹر محمد مسرور احمد صاحب مدظلہ العالی سے کرائی۔ میں نے ان سے اظہارِ تعزیت کیا۔ لاہور، پیرزادہ اقبال احمد فاروقی صاحب مدیر اعلیٰ ماہنامہ ”جہانِ رضا“، گجرات حضرت مولانا مفتی اشرف القادری صاحب، لاہور حضرت مولانا محمد منشا تابش قصوری صاحب سے فون پر اظہارِ تعزیت کیا۔ یہ تمام حضرات ڈاکٹر صاحب کی جدائی کو ناقابلِ تلافی نقصان سمجھ کر خون کے آنسو رورہے تھے۔

ماہرِ رضویات مسعودِ ملت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی دہلوی علیہ رحمتہ 29/جمادی الآخر 1348ھ/ 24/اکتوبر 1930ء دہلی میں حضرت مولانا شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ مسلکاً سُنّی، مذہباً حنفی اور مشرباً نقشبندی مجددی اور مولوداً دہلوی تھے۔ قرآن حکیم کی تعلیم کے بعد 10 سال کی عمر میں اپنے جَدِّ امجد مفتی شاہ محمد مسعود دہلوی علیہ رحمۃ کے قائم کردہ مدرسہٴ عالیہ عربیہ فتح پوری میں دینی تعلیم 5سال تک حاصل کی۔ 1948ء میں مشرقی پنجاب یونیورسٹی سے فاضل فارسی کا امتحان پاس کیا۔ پاکستان ہجرت کے بعد آپ نے حیدرآباد میں رہتے ہوئے 1956ء میں بی۔اے اور 1958ء میں ایم۔اے اردو کی اسناد سندھ یونیورسٹی، جامشورو سے حاصل کیں جبکہ پی۔ایچ۔ڈی کی سند 1971ء میں جامعہ سندھ سے ہی حاصل کی۔ آپ کے مقالہ کا عنوان تھا: ”اردو میں قرآنی تراجم و تفاسیر“۔ اور آپ کے نگران تھے پروفیسر ڈاکٹر غلام مصطفی خاں نقشبندی مجددی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنی ملازمت کا آغاز 1958ء میں حیدرآباد کے ایک کالج میں لکچرار کی حیثیت سے کیا۔ آپ جلد ہی شعبہٴ اردو کے سربراہ بن گئے۔

1970ء تا 1991ء صوبہٴ سندھ کے مختلف کالجوں میں پرنسپل کی حیثیت سے خدمت انجام دیتے رہے۔ 1990ء میں کچھ عرصہ کے لیے سندھ گورنمنٹ کی وزارتِ تعلیم میں ایڈیشنل سیکریٹری کے اعلیٰ عہدے پر بھی فائز رہے۔ آخر میں سکھر کے گورنمنٹ ڈگری کالج و پوسٹ گریجویٹ سینٹر میں پرنسپل کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے 30/اپریل 1991ء میں ریٹائر ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ ملازمت کے اس طویل دور میں ہمیشہ اسلامی وضع قطع کے ساتھ رہے اور اپنے اسلاف کی تعلیمات کا آئینہ بنے رہے۔

ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ناچیز کو پہلی مرتبہ ٹیلی فون پر دھیمی دھیمی آواز سننے کا موقع دسمبر 2007ء کے آخری ایام میں ملا اور اس ٹیلیفونک ملاقات کا سبب تفسیر مظہر القرآن کا مقدمہ بنا۔ مظہر القرآن، جلد اول، صفحہ 13 (مطبوعہ ضیاء القرآن) پر ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے تسامح ہوا۔ میں نے ایک دو علماء سے مشورے کے بعد ڈاکٹر صاحب سے فون پر رابطہ کیا، ڈاکٹر صاحب کو متنازع عبارت پڑھ کر سنائی۔ آپ نے بڑی شفقت اور توجہ سے ناچیز کی گذارش کو سنا اور فوراً فرمایا، آپ صحیح کہتے ہیں، یہ عبارت ٹھیک نہیں ہے، میں اس کی اصلاح کروں گا۔ میں بہت حیران ہوا کہ اتنی بڑی شخصیت ہوکر اتنے چھوٹے آدمی کی بات کو سنا اور پھر رجوع فرمالینا فی زمانہ مخلص فی الدین ہونے کی بڑی اعلیٰ مثال ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ ابھی تک آپ یہ کام بھی نہ کرپائے تھے کہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوگئے۔

ڈاکٹر صاحب علیہ رحمۃ کا نکاحِ مسنونہ 23/ربیع الاول 1384ھ/ 12/اگست 1964ء کو کراچی میں سید مظہر علی شاہ صاحب کی دُختر نیک اختر سے ہوا جس میں والد ماجد کے علاوہ مفتی محمود الوری، حکیم مشتاق احمد حیدری اور سید آل احمد معینی، شاکر اجمیری بھی شریک ہوئے۔ ڈاکٹر صاحب کے صاحبزادے میاں محمد مسرور احمد ماشاء اللہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں، صاحبِ اولاد اور بقیدِ حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ عزوجل آپ کو صحت و عافیت کے ساتھ تادیر سلامت رکھے۔ آمین۔

ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پہلا حج 1412ھ/ 1991ء میں مع اہل و عیال ادا کیا اور اپنے صاحبزادے میاں مسرور احمد کو مکہ معظمہ میں بیت اللہ شریف کے سامنے بیعت کیا اور خلافت و اجازت اپنے سلسلہ کی عطا کی۔ ڈاکٹر صاحب علیہ رحمۃ نے اپنے سلسلہ میں بیعت کا آغاز 24/دسمبر 1974ء کو سندھ میں قیام کے دوران کیا اور مولانا محمد عطا صاحب آپ کے سب سے پہلے مرید ہیں۔

دینی و علمی خدمات:
ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے تصنیفی کام کا آغاز دورانِ تعلیم ہی شروع کردیا تھا۔ سب سے پہلا مقالہ حضور جانِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بعنوان ”نقطہٴ کمال“ 1957ء میں تحریر کیا جو لاہور سے شائع ہوا۔ پھر قلم قرطاس کا رشتہ ایسا مضبوط ہوا کہ آپ نے تقریباً 60سال مسلسل لکھا۔ ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی تصنیفات کی تعداد 150سے زیادہ ہے جس کی کچھ تفصیل آپ خود اس طرح بیان فرماتے ہیں:
”فقیر نے 1960ء سے 1970ء کے درمیان حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ پر کام کیا۔ پھر 1970ء سے 1992ء تک امام احمد رضا رضا محدثِ بریلوی رضی اللہ عنہ پر کام کیا جو ابھی تک جاری ہے۔ 1992ء سے 2002ء تک مسلکِ اہلِ سنت و جماعت پر کام کیا، یہ بھی ابھی تک جاری ہے۔
2002ء میں پھر امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوا۔ اس کی تقریب یہ ہوئی کہ ماہ مذکورہ میں محبی علامہ رضوان احمد نقشبندی نے فقیر کو حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رضی اللہ عنہ کے حالات و خدمات پر ایک یادگار مجموعہ مرتب کرنے کی طرف متوجہ کیا۔ بات دل کو لگی۔ جب خیال آیا تو ایک نقطہ تھا، پھیلتے پھیلتے جہانِ امام ربانی مجددِ الف ثانی بن گیا۔ ایک قطرہ تھا، پھیل کر سمندر بن گیا۔ ایک شگوفہ تھا، کھل کر گلشن بن گیا۔ ایک ستارہ تھا، چمک کر آفتاب بن گیا۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ عزوجل کے فضل و کرم اور اہلِ محبت کے تعاون سے ممکن ہوا۔“ (جہانِ امام ربانی، جلد اول، صفحہ: 69)

حضرت مسعودِ ملت میرے کتب خانہ میں:
اب میں حضرت ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ان کتب کا مختصر تعارف پیش کروں گا جو میرے کتب خانے میں تادمِ تحریر موجود ہیں:
1۔ فاضلِ بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں: صفحات: 263۔ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ اکتوبر 1973ء میں شائع ہوئی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ کتاب ایک سال میں دسمبر 1972ء میں مکمل کی تھی جس کے نہ جانے کتنے ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔
2۔تحریک آزادی ٴ ہند اور السواد الاعظم: صفحات:291۔ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے مارچ 1977ء میں تحریر فرمائی تھی۔ اپنے عنوان کے لحاظ سے حرفِ آخر کا درجہ رکھتی ہے۔
3۔ خلفائے محدث بریلوی علیہ الرحمۃ: صفحات: 156۔ مطبوعہ ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کراچی۔ یہ کتاب پہلی بار اکتوبر 1998ء میں رضا اکیڈمی، لاہور نے شائع کی۔ ناچیز کے پاس جو نسخہ ہے، وہ اضافہ شدہ اور ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا، کراچی کا شائع کردہ ہے۔
4۔ اُجالا: صفحات: 48۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔ ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ نے یہ مقالہ ذی الحجہ 1403ھ میں مکمل کیا۔ رضویت کے عنوان پر بڑا پُرمغز اور جامع مقالہ ہے۔
5۔ حیاتِ امام اہلسنّت: صفحات: 55۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔ یہ کتابچہ ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ نے اگست 1979ء میں مکمل فرمایا۔ اس کتابچے کا تعارف ”حرفِ آغاز“ کے عنوان سے ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ خود رقم فرماتے ہیں کہ پیشِ نظر مقالہ 1980ء میں حکومتِ پاکستان کے تحقیقی ادارے ادارہٴ تحقیقاتِ اسلامی، اسلام آباد نے اپنے ماہنامے ”فکر و نظر“ میں تین اقساط، اپریل، مئی، جون 1980ء میں شائع کیا۔ بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔
6۔رہبر و رہنما: صفحات: 24۔ مطبوعہ مرکزی مجلس امام اعظم رجسٹرڈ، لاہور۔
7۔دائرہٴ معارفِ امام احمد رضا: صفحات: 80۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔
8۔مشرق کا فراموش کردہ نابغہ: صفحات: 40۔ مطبوعہ بزمِ عاشقانِ مصطفیﷺ، لاہور۔ یہ مقالہ جولائی 1976ء میں لکھا گیا۔
9۔گناہِ بے گناہی: صفحات: 96۔ مطبوعہ ادارہٴ اصلاح فکر و نظر، لاہور۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے دسمبر 1980ء میں پایہٴ تکمیل تک پہنچائی۔
10۔گویا دبستان کھل گیا: صفحات: 47۔ مطبوعہ ادارہٴ مسعودیہ، کراچی۔ یہ کتاب ڈاکٹر صاحب نے جنوری 1989ء میں لکھی تھی۔
11۔محدثِ بریلوی: صفحات: 160۔ مطبوعہ ادارہٴ نعمانیہ، لاہور۔ یہ تصنیف آپ نے 7/مارچ 1986ء میں مکمل کی تھی اور 1990ء میں ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا نے کراچی سے شائع کی تھی۔
مذکورہ ایک درجن کے قریب کتابیں حضرت مسعود ملت علیہ رحمۃ نے امام عشق و محبت امام احمد رضا فاضلِ بریلوی کی شخصیت کو آشکار اور عالمی سطح پر آپ کو متعارف کرانے کے لیے لکھی تھیں۔
12۔ گلدستہٴ منظوم صفحات: 64۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔ مذکورہ گلدستہ آپ نے اگست 1969ء میں ترتیب دیا تھا جس میں مختلف شعراء کا نعتیہ کلام بڑے سلیقے سے یکجا کردیا گیا ہے۔
13۔علمِ غیب: صفحات: 16۔ مطبوعہ ادارہٴ مسعودیہ، کراچی۔ مذکورہ کتاب مسعود ملت نے 6/دسمبر 1993ء کو مکمل کی۔ علمِ غیبِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر بڑی انوکھی اور جاندار و مدلل تصنیف ہے۔
14۔قیامت: صفحات: 64۔ مطبوعہ مرکزی مجلس امام اعظم، لاہور۔ قیامت کا چونکہ وقت مقرر نہیں ہے کیونکہ اس کا معنی ہی یک لخت آنے والی ہے شاید اسی لیے ڈاکٹر صاحب نے بھی اس پر سنِ تصنیف درج نہیں فرمایا البتہ سنِ اشاعت 1995ء مرقوم ہے۔
15۔نئی نئی باتیں: صفحات: 32۔ مطبوعہ مرکزی مجلس امام اعظم، لاہور۔ اس کتاب کا سنِ تالیف 1994ء ہے۔ بدعت کی حقیقت اور شرعی حیثیت بڑے مدلل انداز میں واضح کی گئی ہے۔
16۔سلام و قیام: صفحات: 16۔ مطبوعہ مرکزی مجلس امام اعظم، لاہور۔ 17/دسمبر 1995ء کو ماہرِ رضویات علیہ رحمۃ نے یہ مختصر مگر نہایت ہی لطیف تصنیف مکمل فرمائی۔
17۔جانِ ایمان: صفحات: 56۔ مطبوعہ ادارہٴ مسعودیہ، کراچی۔ 7/مارچ 1975ء جمعۃ المبارک کو یہ تحفہ آپ نے حضورِ جان ایمان علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔
18۔عیدوں کی عید: صفحات: 32۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔ اردو، عربی، فارسی، سندھی، ہندی، انگلش۔ 6زبانوں میں یہ اچھوتی کتاب بڑی محنت سے آپ نے مرتب فرمائی۔
19۔نور و نار: صفحات:96۔ مطبوعہ تحریک تفہیم الاسلام، کراچی۔ دوسرا نسخہ بزمِ رضویہ، لاہور کا شائع کردہ ناچیز کے پاس موجود ہے۔ 13/جولائی 1984ء آپ نے یہ حقائق قوم کے سامنے پیش کئے۔
20۔نسبتوں کی بہاریں: صفحات:15۔ مطبوعہ رضا اکیڈمی، لاہور۔ عقیدے کی اصلاح کے لیے 13/جون 1994ء کو آپ نے کتابچہ مکمل فرمایا۔
21۔قبلہ: 30 صفحات کا یہ جامع اور دلچسپ رسالہ آپ نے 21/مئی 1995ء میں مکمل کیا۔
22۔تعظیم و توقیر: صفحات: 16۔ عزت و احترام نبوت کے موضوع پر یہ بڑا خوبصورت کتابچہ آپ نے 3/نومبر 1993ء میں لکھا تھا۔
23۔پیغام: 16صفحات پر مشتمل یہ پمفلٹ آپ نے اپریل 1994ء میں حوالہٴ قرطاس کیا تھا۔ ناظرین ذی احترام یہ صرف وہ کتب و رسائل ہیں جو بندہ ناچیز کی لائبریری کی زینت ہیں ورنہ آپ کی علمی خدمات کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔

جون 2008 | تبصرہ کریں »