معارف القلوب۔ تذییل
کتاب: احسن الوعاء لاٰداب الدعاء
تذییل
مصنف: رئیس المتکلمین علامہ نقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمن
شارح: مجدد اعظم امام احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمن
محشی: مولانا مفتی محمد اسلم رضا قادری
پہلا فائدہ: ریاضتِ نفس۔ خواجہ شفیق بلخی کے ایک مرید خواجہ بایزید کے پاس آئے۔ آپ نے ان کے پیر کا حال دریافت فرمایا۔ عرض کی، خلق سے فارغ اور خدا پر متوکل ہوکر بیٹھ گئے ہیں۔ فرمایا، میری طرف سے شفیق سے کہنا، دو روٹیوں کے واسطے خدا کو نہ آزماؤ۔ نامہ توکل کا طے کرکے بھوک کے وقت بھیک مانگ لیا کرو۔ کہیں اس فعل کی شامت سے وہ ملک زمین میں نہ دھنس جائے۔
قولِ رضا : اللہ عزوجل پر توکل فرضِ عین ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: وَعَلَی اللّٰہِ فَتَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّوٴْمِنِیْنَO (464) ”اللہ ہی پر توکل کرو، اگر مسلمان ہو۔“ اور فرماتا ہے، اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَO (465) ”اگر تم خدا پر ایمان رکھتے ہو تو اسی پر بھروسہ کرو، اگر مسلمان ہو۔“ خصوصاً تصوف کہ انقطاع عن الغیر (466) بلکہ فنا عن الغیر (467) بلکہ نفی مطلقِ غیر ہے۔ اس میں نامہٴ توکل کیونکر طے کرنے کا حکم ہوسکتا ہے۔ ہاں! توکل قلب سے طرح اسباب ہے نہ کہ عمل میں ترکِ اسباب۔ (468) خود حکم فرماتا ہے: فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللّٰہِO (469) ”زمین میں پھیل جاؤ اور اس کا فضل ڈھونڈو۔“ ولہٰذا جب ایک صحابی نے عرض کی: یارسول اللہ! اپنا ناقہ چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں۔ فرمایا، بلکہ قید و توکل۔ ”اس کا پاؤں باندھ دے اور توکل کر“ یعنی خدا پر بھروسہ کر۔
رواہ البیھقی فی الشعب بسند جید عن عمرو بن امیۃ الضمری والترمذی بلفظ اعقلھا وتوکل عن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہما۔
بر توکل پائے اشتر را نبید
عالمِ اسباب میں رہ کر ترکِ اسباب گویا ابطالِ حکمتِ الٰہیہ ہے۔ کَبَاسِطِ کَفَّیْہِ اِلَی الْمَاءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ھُوَ بِبَالِغِہ470) ”جیسے کوئی ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے ہوئے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں۔“
سیدنا بایزید بسطامی رضی اللہ عنہ نے اسی کو منع فرمایا۔ رہا اذنِ سوال۔
اقول: اللہ عزوجل کے جس طرح کچھ فرائض و محرمات (بدن پر) ہیں جیسے نماز و زناویسے ہی قلب پر بھی ہیں اور ان کی فرضیت و حرمت اسی طرح یقینی قطعی ضروریاتِ دین سے ہے جیسے صبر و شکر و تواضع و اخلاص کی فرضیت، جزع (471) و کفران و تکبر و ریا کی حرمت۔
عوام اگر بہت متوجہ تقویٰ و طاعت ہوئے، انہیں فرائض و محرماتِ بدنیہ پر قناعت کرتے اور فرائض و محرمات قلبیہ سے اصلاً کام نہیں رکھتے۔ پڑھیں نماز اور کریں تکبر اور رب عزوجل فرمائے:
اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوَی الْمُتَکَبِّرِیْنَO (472)۔
”کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں متکبروں کا۔“
اربابِ قلب بشدت متوجہ بقلب ہوتے ہیں۔ ظاہری، باطنی دونوں فرائض بجالاتے اور دونوں کے تمام محرمات سے احتراز فرماتے ہیں۔ پھر ظاہری صلاح سہل ہے (473) اور باطنی اس سے بہت مشکل کہ جوارِح (474) کو نیک کام میں لگانا، بد سے بچانا ایک ہمت کا کام ہے اور قلب سے رذائل کو دھودینا، فضائل سے آراستہ کرلینا کارے دارد۔ یہ منہ کا نوالہ نہیں بلکہ بدن بھی تابعِ قلب ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان فی الجسد مضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذ فسدت فسد الجسد کلہ الا وھی القلب۔ ”بیشک بدن میں ایک گوشت پارہ ہے۔ وہ سنور جائے تو پورا بدن سنور جائے اور بگڑ جائے تو سب بدن خراب ہوجائے۔ سنتے ہو! وہ دل ہے۔“
خلق کی کثرتِ مخالطت (475) اعمالِ ظاہر میں بھی بہت مخل ہوتی ہے۔ ہزاروں گناہ جسمانی تو وہ ہیں کہ تنہائی میں ہو ہی نہیں سکتے اور جو ہوسکتے ہیں وہ بھی بحالِ مخالطت زائد ہوتے ہیں اور صحبتِ عوام قلب کے لیے تو بہت ہی خطرناک ہے۔ مگر بضرورت شرعیہ جیسے مفتیٴ شرع و قاضیٴ حق مدرسِ دین و واعظِ ہدیٰ اور غیر مالدار کے طُرُقِ کسب، (476) تجارت، زراعت، نوکری، مزدوری ہیں اور ان سب میں مخالطتِ ناس کی حاجت اور اصلاحِ نفس کے لیے عدم فراغت ہے اور تصحیح فرائض و اجتناب محرمات اہم ضروریاتِ دینیہ سے ہے اور ضرورتِ دینی کے وقت سوال حلال۔ یہ معنی ہیں ان کے اذن اور حضرت مصنف علام قدس سرہ کے ارشاد، ریاضتِ نفس کے، نہ وہ جو آج کل کے مڑچرے جوگیوں نے اختیار کیا ہے کہ اچھے خاصے جوان تندرست اور بھیک مانگنے کا پیشہ اور اصلاحِ قلب درکار، اصلاحِ ظاہر سے برکنار اور منع کیجئے تو شرعِ مطہر سے معارضے کو تیار کہ بھیک مانگنا بھی ریاض ہے۔ وَالْکَاسِبُ حَبِیْبُ اللَّہِ (477) یہ حرامِ قطعی ہے اور شرع کا مقابلہ اور سخت تر۔
ولاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم
دوسرا فائدہ: اپنی قدر و قیمت پر متنبہ ہونا۔ جب شبلی مرید ہوئے، خواجہ جنید رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: ”اے ابوبکر! تو ملک شام کا امیر الامراء تھا۔ جب تک بازار میں بھیک نہ مانگے گا، دماغ تیرا نخوت سے خالی نہ ہوگا (478) اور اپنی قدر و قیمت نہ جانے گا۔“ ابتداء ابتداء میں تو لوگوں نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا۔ آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار ان کا سست ہوتا جاتا۔ ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے، کوئی کچھ نہ دیتا۔ پیر سے حال عرض کیا۔ فرمایا، ”قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں پوچھتا“۔
حوالہ جات و حواشی
(464)سورۃ المائدہ، آیت: 23۔
(465)سورۃ یونس، آیت: 84۔
(466)یعنی غیر خدا سے لاتعلق ہوجانا۔
(467)یعنی غیر خدا کی نفی کردینا۔
(468)یعنی توکل کے معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کرکے بیٹھ رہے اور ہاتھ ہر پاتھ دھرے کہے، اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش کے بھی روزی وغیرہ دے گا۔
بلاشبہ اللہ عزوجل قادرِ مطلق ہے اور ایسا کرنا اس کے لیے کچھ مشکل نہیں۔ مگر بندے کا مذکورہ سوچ کے پیشِ نظر کوشش نہ کرتے ہوئے بیٹھ جانا، اپنے ربِ کریم عزوجل کی مشیت کے خلاف ہے کہ عالمِ اسباب یعنی دنیا میں رہ کر ترکِ اسباب گویا حکمتِ الٰہیہ کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں توکل کے معنی یہ ہیں کہ ان اسباب کو اصل نہ سمجھے اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرے بلکہ اُسی پر بھروسہ کرے کہ جو ان اسباب کا پیدا کرنے والا اور مسببِ حقیقی ہے۔
(469)سورۃ الجمعۃ، آیت: 10۔
(470)سورۃ الرعد، آیت: 14۔
(471)بے صبری و واویلا پن۔
(472)سورۃ الزمر، آیت: 60۔
(473)یعنی اعمالِ ظاہری کو درست کرلینا، ان میں اصلاح کرلینا، آسان ہے۔
(474)بدن کے اعضائے ظاہری۔
(475)یعنی لوگوں سے زیادہ میل جول، ملنا ملانا وغیرہ۔
(476)یعنی غیر مالدار کا معاشی ضروریات کے لیے مختلف طریقے و ذرائع اپنانا
(477)کسبِ حلال کے لیے کوشش کرنے والا اللہ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے
(478)یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ و غرور نہ جائے گا۔
(جاری ہے۔۔۔)
جون 2008 | تبصرہ کریں »