از پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم فرخی
امام احمد رضا علم و سعادت کا سمندر ہیں
امینِ دولتِ حق، رہبرِ راہِ پیمبر ہیں
صنائع خانہٴ عالم میں ہیں گل کاریاں ان سے
ضیاءِ خواجہٴ عالم سے ممتاز و منور ہیں
ان ہی کے فیض سے رخشاں ہیں راہیں دین و دانش کی
ان ہی کا فیض ہے اب تک کہ یہ راہیں منور ہیں
وہ اعلیٰ حضرت اعلیٰ مرتبت فہم و ذکا فطرت
یہ راہیں ان کی نسبت ہیں کہ وہ حق گوئی کے پیکر ہیں
جمالِ حرفِ معنی ہیں گریزِ لن ترانی ہیں
وقارِ خوش بیانی ہیں، صفیروں میں مُفَخَّر ہیں
دیارِ دل میں ان کے فیض سے ہر سُو اجالا ہے
سکونِ قلبِ مضطر ہیں، علاجِ دیدہٴ تر ہیں
سخن میں تازگی ان سے، سخن میں روشنی ان سے
سخن گو ہیں، سخن داں ہیں، سخن پرور، سخن ور ہیں
ادائے حق، رضاءِ حق، عضدِ حق برائے حق
امام احمد رضا کی آئینہ سازی کے جوہر ہیں
کہاں اتنی مجال اسلم کہ میں حرفِ ثنا لکھوں
امام احمد رضا علم و سعادت کا سمندر ہیں
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
ماہر رضویات پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی کی رحلت پر
نتیجہٴ فکر
پروفیسر ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم
ہوگیا ہے حضرتِ مسعود احمد کا وصال
ملت ِ اسلامیہ غم سے ہوئی ان کے نڈھال
دفعتاً مجھ کو ملی جب ان کی رحلت کی خبر
اشک آنکھوں سے بہے دل کو ہوا صدہا ملال
عقل کو تشویش ہے کہ حادثہ کیونکر ہوا
دل ہے لیکن مطمئن کہ حکمِ رب ہے لایزال
موت ہے ہر اِک نَفَس کو اس میں کوئی شک نہیں
بس وہی باقی رہے گا اور ہے سب کو زوال
بس گئے جاکر جوارِ رحمت ِ باری میں وہ
ہم ابھی تک پیکرِ رنج و الم، شوریدہ حال
دہلی کے اُس خانوادے کے تھے وہ چشم و چراغ
اہلِ ہند و پاک میں جس کا رہا علمی جلال
فقہ و تفسیر و حدیث و نحو و صرف و فلسفہ
سیرت و عرفان سب میں ان کو حاصل تھا کمال
اعلیٰ حضرت کون تھے، دنیا کو وہ بتلا گئے
مُلکِ رضویات کے تھے حکمراں ہے یہ خیال
وہ حقیقت میں محقق ان کی ہر شے پر نظر
ان کی ہر تحقیق عمدہ، ان کی باتیں بے مثال
نقشبندی سلسلہ کا فیض حاصل تھا انہیں
بزرگانِ دین سے ان کی محبت اِک مثال
عاشقِ صادق وہ حضرت شیخ سرہندی کے تھے
پندرہ جلدوں میں سوانح جس کی ہے واضح مثال
وہ محب ِ مصطفی تھے، خلد ان کا مستقر
شک نہیں اس میں ذرا بھی، ہے اگر، دل سے نکال
تابعِ فرمانِ نبوی (صلی اللہ علیہ وسلم) اہلِ سنت کے نقیب
حامیٴ اہلِ محبت، ماحیٴ کفر و ضلال
عاملِ قرآن و سنت، عابدِ شب زندہ دار
مرکزِ رشد و ہدایت، خوش عقیدہ، خوش خصال
صاحبِ طرزِ نگارش، واقفِ رازِ سخن
مالکِ خُلق حسن، جادو رقم، شیریں مقال
مسلکِ احمد رضا خاں کی اشاعت تھا مشن
وقف تھے جس کے لیے سب زندگی کے ماہ و سال
ایک عرصہ تک ملازم تھے حکومت پاک کے
شعبہٴ تعلیم میں تھی ان کی خدمت بے مثال
”مرکزِ تحقیق امام احمد رضا“ کو مل گئی
ان کی تنہا ذات سے شہرت جہاں میں لازوال
اہلِ دانش، اہلِ فن ان سے رجوع کرتے رہے
علم میں آنکھیں ملائے کوئی ان سے کیا مجال
وہ شریعت وہ طریقت دونوں کے سنگم حسیں
صاحبانِ دین و دانش معترف بے قیل و قال
وہ تھے پابندِ شریعت اپنے قول و فعل میں
دیکھتے وہ غور سے کیا ہے حرام و کیا حلال
سادگی، سادہ مزاجی، انکساری تھی بہت
نہ تھی ان میں تمکنت نہ ان میں تھا جاہ و جلال
ظاہر و باطن تھا یکساں، سب کو تھی اس کی خبر
سیرت و صورت میں دونوں پیکرِ حسن و جمال
وہ وحیدِ عصر تھے، ان کا کوئی ثانی کہاں
اس سے کہہ دو یہ جواباً گر کرے کوئی سوال
شمعِ علم و فن کے بجھتے ہی اندھیرا چھاگیا
پھر جہاں میں کس طرح علمی فضا ہوگی بحال
ان کے جاتے ہی جہاں سے علم جیسے اٹھ گیا
صاحبانِ علم ان جیسے جہاں میں خال خال
ان کے اوصاف و محامد یہ قلم کیا کیا لکھے
وہ سمندر تھے یہ قطرہ ہے لکھا جو خدّ و خال
ان پہ فضلِ خاص فرما اے خدائے ذوالمنن
نور سے تو قبر بھر دے، خیر کر ان کا ماٰل
شافعِ محشر کی تُو ان کو شفاعت کر نصیب
مالکِ روزِ قیامت تُو ہی ہے اے ذو الجلال
قبر جنت کی بنا کیاری خدایا فضل سے
مغفرت اور عفو سے ہو قبر ان کی مالامال
جنت الفردوس میں صحبت ملے سرکار کی
یہ دعا تجھ سے ہے میری اے خدائے ذوالجلال
اپنے فضلِ خاص سے تُو جس کو چاہے بخش دے
کچھ نہیں ہے غیر ممکن، کچھ نہیں امرِ محال
مجھ کو تھی ان سے عقیدت، وہ تھے میرے محترم
پھر نہ کیوں فرطِ عقیدت سے لکھا جائے یہ حال
پس روانِ حضرتِ مسعود کو صبرِ جمیل
دور کر ان کے دلوں سے خدا رنج و ملال
جب ہوئی یہ فکر دامن گیر کہ کیسے لکھوں
ان کی رحلت کب ہوئی ہے، کب ہوا ہے انتقال
ہاتفِ غیبی سے کانوں میں مِرے آئی صدا
دل کو اپنے تھام کر لکھ قطعہ تاریخِ وصال
وہ ”عزیز القدر“ (429) تھے اس کا عدد لے کر پڑھیں
”جانبِ خلدِ بریں ان کا ہوا شدِّ رحال“ (1579)
429 + 1579 = 2008ء
پیش انجم ہے تہِ دل سے محبت کا خراج
کر قبول یارب طفیلِ سیدی حضرت بلال
اگست 2008 | تبصرہ کریں »
نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا
منقبتِ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی الشاہ احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمن
از جناب سید محمد ایوب صاحب رضوی بریلوی علیہ الرحمۃ
اہلِ سنت پہ ہے بار احساں تیرا
نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا
دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیا
کس نے تیرے سوا، شاہ احمد رضا
تیرے مشتاق نادیدہ ہیں سینکڑوں
محوِ حسنِ لقا، شاہ احمد رضا
دوست، دشمن کی تھی کچھ نہ ہم کو خبر
تُو نے ظاہر کیا، شاہ احمد رضا
ایک میں کیا، ہزاروں ہیں شیدا تیرے
بندگانِ خدا، شاہ احمد رضا
پوچھے اللہ والوں سے رتبہ تیرا
مرحبا مرحبا شاہ احمد رضا
سچ تو یہ ہے کسوٹی ہے ایمان کی
ہے کھرے سے کھرا، شاہ احمد رضا
کوئی منصور اعدا میں ہو کس طرح
شیرِ شیرِ خدا، شاہ احمد رضا
گل ہزاروں کھلے گلشنِ دہر میں
پھول اعلیٰ کھلا، شاہ احمد رضا
آستانہ تیرا چھوڑ جائیں کہاں
تیرے در کے گدا، شاہ احمد رضا
مجھ کو جو کچھ ملا، تیرے در سے ملا
واہ کیا ہے عطا، شاہ احمد رضا
خوفِ محشر اور ایوبِ رضوی تجھے
آپ لیں گے بچا، شاہ احمد رضا
جون 2008 | تبصرہ کریں »