اپنی بات2۔ مسعود ملت

اپنی بات۔2
امام احمد رضا خاں محدثِ بریلوی اور خدماتِ ماہرِ رضویات حضرت مسعودِ ملت
مدیر پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری کے قلم سے

پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد نقشبندی مجددی دہلوی ابن مفتی شاہ محمد مظہر اللہ نقشبندی مجددی دہلوی (المتوفی 14/شعبان المعظم 1386ھ/ 28/نومبر 1966ء) ابن مفتی شاہ محمد سعید نقشبندی دہلوی (المتوفی 1307ھ/ 19889ء) ابن مفتی شاہ محمد مسعود نقشبندی مجددی محدثِ دہلوی (المتوفی 1309ھ/ 1892ء) دہلی میں 1349ھ/ 1930ء میں پیدا ہوئے اور ایک طویل بامقصد زندگی گزار کر خدمت ِ دین کرتے ہوئے 22/ربیع الثانی 1429ھ/ 28/اپریل 2008ء بروز پیر (وصالِ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دن) نمازِ مغرب سے فارغ ہوکر اپنے خالقِ حقیقی سے جاملے جیساکہ باری تعالیٰ کا ارشاد ہے:
یا ایتھا النفس المطمئنۃ O ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ O فادخلی فی عبادی O وادخلی جنتی O
(سورۃ الفجر: 27۔ 30)

”اے اطمینان والی جان (یہ مومن سے اس وقت کہا جاتا ہے جب وہ موت کا ذائقہ چکھ کر دنیا سے سفرِ آخرت کی طرف روانہ ہوتا ہے) اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔“

جاری رکھیں »

اگست 2008 | 2 تبصرے »

ایک صاحب کردار استاد

از: پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری

اللہ عزوجل قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلًامِّمَّنْ دَعَا اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَّقَالَ اِنَّنِی مِنَ الْمُسْلِمِیْنَo (حم۔ السجدہ:33)
اور اس سے زیادہ کس کی بات اچھی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیکی کرے اور کہے میں مسلمان ہوں۔ “
(کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن)

آیت کریمہ میں ایک اچھے مسلمان کی دو اہم نشانیاں بتائی گئی ہیں کہ وہ خود نیکو کار ہوتا ہے اور ہمہ وقت ایسے کام کرتا ہے جس میں نیکی کا پہلو نمایاں ہو اور اس کام میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا ہو یعنی اس کی زندگی کے تمام کام صبح و شام قرآن و سنت کے مطابق ہوں اور پھر وہ لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔عوام الناس ایسے ہی لوگوں کے اعمال اور کردار سے متاثر ہوتے ہیں اور پھر وہ بھی اللہ کی طرف جھکتے ہیں اور ان کے دلوں میں رغبتِ دین پیدا ہوجاتی ہے۔ اسی کردار اور اعمال ہی کی طرف آیت کریمہ میں خداوند کریم نشاندہی فرمارہا ہے کیونکہ ایسے اعمال اس بندے کی نسبت سے بہت ہی اچھی بات ہوتی ہے جو اپنے کردار سے بندوں کو اللہ کی طرف بلائے۔ ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ایسے بندوں کے کردار کو پسندکی نگاہ سے دیکھتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:

مَنْ اَوْفٰی بِعَھْدِہ وَاتَّقٰی فَاِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَo
(اٰل عمران:76)

”جس نے اپنا عہد پورا کیا اور پرہیزگاری کی تو بے شک پرہیزگار (صاحب کردار) اللہ کو خوش آتے ہیں۔“
(کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن)
جاری رکھیں »

اگست 2008 | تبصرہ کریں »