ہوسٹن میں تعزیتی جلسہ
مسجد النور ہوسٹن، امریکہ میں ڈاکٹر مسعود احمد علیہ الرحمۃ کا تعزیتی جلسہ
28/ اپریل بروز پیر حادثہٴ جانکاہ کہ محققِ عصر، ماہرِ رضویات، یادگارِ سلف حضرت پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کراچی میں انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ یہ جانکاہ خبر کوئی معمولی نہ تھی بلکہ دلوں پر بجلی بن کر گری اور ذہن و دماغ کو ماؤف کرتی چلی گئی۔
نارتھ امریکہ کی مرکزی مذہبی تنظیم النور سوسائٹی آف گریٹر ہیوسٹن کے ذمہ داران اور علماء نے دکھ درد کا اظہار کیا اور پھر 29اپریل منگل کو ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کے بہت قریبی حاضر باش اور تربیت یافتہ جناب پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری جو ان دنوں امریکہ کے دورہ پر شہر ہوسٹن میں قیام پذیر تھے، ان کو اطلاع دی گئی اور قرآن خوانی و جلسہ تعزیت منعقد ہوا۔ عصر سے مغرب تک قرآن خوانی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پھر بعد نمازِ مغرب تعزیتی جلسے کا اہتمام تھا۔
نمازِ مغرب کے بعد پروگرام شروع ہوا اور تلاوت و حمد و نعت کے بعد علمائے کرام نے اپنے اپنے تاثرات پیش کئے۔ حضرت مولانا مفتی محمد قمر الحسن قادری صاحب نے محترم ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کی ذات کے حوالے سے تازہ ترین تین رباعیاں پیش کیں جو حسبِ ذیل ہیں:
1۔
نشاطِ علم سے سرشار تھا وہ
مئے الفت کا بادہ خوار تھا وہ
جلو آفاقیت سے تھا درخشاں
بڑا ہی صاحبِ کردار تھا وہ
2۔
قلم کا آتشیں جوہر لئے تھا
نبی کے عشق کا گوہر لئے تھا
بڑا شیریں سخن لہجہ تھا اس کا
مگر تحریر کا نشتر لئے تھا
3۔
محقق تھا بڑا صاحب نظر تھا
رضا کی فکر کا وہ دیدہ ور تھا
وہ جامع تھا علومِ دینیہ کا
شکستہ قلب تھا یکتا گہر تھا
حضرت مفتی صاحب نے دورانِ کلام فرمایا کہ:
”میں نے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا کے ذریعہ جانا اور امام احمد رضا کو ڈاکٹر مسعود کے ذریعہ پہچانا۔ کیونکہ ہمارے اساتذہ نے عہدِ طالبعلمی ہی میں سیدی اعلیٰ حضرت کا نیازمند بنادیا تھا مگر ابھی تفصیلات معلوم نہیں ہوئی لیکن جب پروفیسر مسعود احمد صاحب کو پڑھا تو امام احمد رضا کے تنوعات ظاہر ہونے شروع ہوئے اور ان کی ہمہ گیری آفاقیت اور اقران پر تفوق کا پتہ چلا۔ کیونکہ ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے امام احمد رضا کی فکر کے ان مخفی گوشوں کو اجاگر کیا جو صرف کتاب کا حصہ تو تھے مگر ان کو ذہنوں میں اتارا جانا باقی تھا۔ اس لئے یہ بات مسلم ہے کہ ڈاکٹر مسعود صاحب چونکہ اس وقت کے ماہرِ رضویات تھے اور انڈ و پاک میں اس موضوع کے حوالے سے وہ درجہ استناد تک پہنچے ہوئے تھے تو رضویات کے حوالے سے سب سے پہلا آپ ہی کا نام لیا جاتا تھا۔
حضرت مفتی صاحب نے آگے چل کر مزید بیان فرمایا کہ:
”میں نے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کو صرف ایک بار دیکھا۔ وہ پہلی اور آخری ملاقات رہی۔ سن دو ہزار میں جب میں انڈیا گیا تھا تو ڈاکٹر صاحب موصوف ان دنوں دہلی میں قیام پذیر تھے۔ تو ہم اور ہمارے دوست ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم (ہمدرد یونیورسٹی) اور مولانا شمس الہدیٰ (جامعہ اشرفیہ) ان سے ملنے فتحپوری مسجد گئے۔ وہیں مفتی مکرم صاحب کے حجرے میں دیر تک گفتگو رہی۔ موصوف انتہائی سادہ، خوش مزاج اور متواضع انسان لگے۔ بلکہ بڑی خاص محبتوں سے گفتگو فرماتے رہے۔“
مفتی صاحب نے مزید فرمایا:
”رواں صدی میں اسلوبِ تحریر کی انفرادیت کے لحاظ سے دو شخصیتوں کا نام بالکل نمایاں ہے: حضرت علامہ ارشد القادری اور حضرت ڈاکٹر مسعود احمد علیہم الرحمۃ۔ ان حضرات نے اردو کو دلوں کی دھڑکن عطا کردی اور سبک اردو کو مکالماتی لب و لہجہ میں ڈھال کر قاری کے لئے جاذبیت بخش دی۔“ وغیرہ
حضرت مفتی صاحب کے بعد ناظم اسٹیج حضرت مولانا عبد الرب صاحب نے معزز مہمان گرامیٴ قدر پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب کو اظہارِ خیال کے لئے دعوت دی۔ ڈاکٹر مجید اللہ صاحب نے اپنا پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ ”کنز الایمان اور معروف تراجمِ قرآن“ مرحوم ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کی زیرِ نگرانی مکمل کیا اور یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ مزاجِ رضا کے حوالے سے ڈاکٹر مسعود احمد صاحب کی نگاہ کتنی دور رس اور معتبر ہے۔ انہوں نے اس ترجمہ کنزالایمان کے تقابلی مطالعہ میں تنقید کا کوئی پہلو باقی نہ چھوڑا ہوگا۔ علاوہ ازیں ڈاکٹر مجید اللہ صاحب نے کئی بار اس کا اظہار کیا کہ ان کی زندگی میں دینی ترجیحات کے جتنے عناصر نظر آرہے ہیں یہ چشمِ فیض ہے چند اکابرِ اہلِ دل کا جن میں ڈاکٹر مسعود احمد صاحب مرحوم ایک ہیں اور ان کی چشم کشا نے میرے اندر بہت سارے تغیرات پیدا کئے۔ ڈاکٹر مجید اللہ قادری بہت پژمردہ، متاثر اور غمزدہ تھے کہ میں اپنے استاذ اور مربی کے آخری دیدار اور آخری رسومات میں شریک نہ ہوسکا۔ تاہم انہوں نے کوئی پچاس منٹ تک اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مرحوم کی زندگی کے کتنے گوشے ایسے واضح کئے جو ان کی دیانت، تقویٰ اور زاہدانہ زندگی کے مخفیات سے تعبیر ہیں۔ آپ نے ڈاکٹر مسعود علیہ الرحمۃ کے حوالے سے کہا کہ ان کا تعلق امام احمد رضا سے کیسے ہوا؟ اور انہوں نے ایک عبقری پر اتنا بڑا کام کیسے کردیا کہ وہ رضویات کے حوالے سے سنگِ میل بن گئے۔ آپ نے بیان فرمایا کہ:
”پاکستان کے مشہور اور عظیم محقق و اسکالر ڈاکٹر غلام مصطفی صاحب کے زیر نگرانی جب ڈاکٹر مسعود احمد نے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھنا چاہا تو ڈاکٹر غلام مصطفی مرحوم نے مسعود صاحب کو مشورہ دیا کہ مولانا احمد رضا خاں کا ترجمہٴ کنز الایمان ضرور مطالعہ کریں چنانچہ ڈاکٹر صاحب نے اس کا مطالعہ کیا تو ترجمے کی انفرادیت نے انہیں گرویدہ بنالیا اور پھر ڈاکٹر مسعود صاحب امام احمد رضا کی تصانیف کے دلدادہ ہوگئے اور انہوں نے بھرپور مطالعہ کیا۔ اور 1978ء میں ان کی پہلی کتاب اس حوالے سے منظرِ عام پر آئی تھی حتیٰ کہ اس کے بعد کوئی ڈیڑھ سو سے دو سو مقالے ان کے قلم سے منصہٴ شہود پر آئے جو انتہائی علمی اور تحقیق شدہ تھے۔ اس طرح وہ 1995ء تک مسلسل لکھتے رہے۔“
پھر عالمی تحقیقات اور انٹرنیشنل رضویات پر کام کے حوالے سے ڈاکٹر مجید اللہ نے بتایا کہ:
”ڈاکٹر مسعود صاحب نے پھر امام احمد رضا کو بین الاقوامی سطح پر متعارف کرانے کا عزمِ مصمم کرلیا اور انسائیکلوپیڈیا آف جارڈن (اردن)، انسائیکلوپیڈیا آف پنجاب یونیورسٹی اور انڈیا کی بعض علمی، تحقیقی دانشگاہوں تک امام احمد رضا کا تعارف کرایا جو بالکل نئے اور جدید اسلوب نیز عصری حوالوں سے تعبیر ہے۔
علاوہ ازیں ڈاکٹر صاحب ہی کی کاوشوں سے امام احمد رضا پر عالمی جامعات میں کام شروع ہوا اور اب تک تقریباً 22(بائیس) پی۔ایچ۔ڈی امام احمد رضا پر ہوچکی ہیں جو دنیا کا ایک ریکارڈ ہے کہ کسی شخصیت پر اس کثرت سے تھیسس لکھی گئی ہوں اور اس کا علمی وقار متعین کیا گیا ہو۔“
ڈاکٹر مجید اللہ صاحب نے آگے بیان کیا کہ:
”ڈاکٹر مسعود صاحب کی کاوشوں کا ثمرہ یہ ظاہر ہوا کہ ان کی نگرانی میں یا ان کی ہدایات پر انڈیا، پاکستان، عراق، مصر، امریکہ وغیرہ میں ڈاکٹریٹ کے مقالے لکھے گئے اور ڈاکٹر مسعود صاحب بہر نوع مقالہ نگاروں سے پورا تعاون کرتے رہے۔“
آپ نے بتایا کہ:
”ایک انڈین لڑکی ڈاکٹر اوشا سانیال (Dr. Usha Sanyal) نے جب کولمبیا یونیورسٹی، نیویارک (Columbia University Newyork) میں اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ: برٹش انڈیا میں مولانا احمد رضا خاں بریلوی اور اہلسنّت و جماعت تحریک (Maulana Ahmad Raza Khan Barelvi and the Ahl-e-Sunnat wa Jamaat Movement in British India) لکھنا شروع کیا تو ڈاکٹر مسعود احمد صاحب نے اس کی بھرپور مدد کی اور اس کو اپنی لائبریری سے کتابیں فراہم کیں۔ موضوع کے حوالہ سے اس کو مواد دیا اور اس طرح اس نے امریکن یونیورسٹی میں امام احمد رضا پر اپنا مقالہ مکمل کیا۔ ان کا مقصد تھا کہ امام احمد رضا کو ان کا حق ملنا چاہئے وہ جس معیار (Caliber) کے انسان تھے، اس کے مطابق ان کو متعارف نہیں کرایا گیا۔“
انہوں نے یہ بات بھی بتائی کہ:
”ڈاکٹر صاحب سے لوگوں نے کہا کہ آپ نقشبندی اور مجددی ہیں، ان پر کام کیجئے۔ مولانا احمد رضا خاں کے ہاں کیا ہے کہ اس پر وقت ضائع کررہے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ اتنی عظیم شخصیت ہیں کہ ان کے تمام گوشوں کا احاطہ کرنا مشکل کام ہے۔ پھر بھی انہوں نے تقریباً 15سال تک امام احمد رضا پر لکھا۔ پھر 1996ء سے اپنے سلسلے کے بزرگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور حضرت مجدد الف ثانی امام ربانی علیہ الرحمۃ پر ”جہانِ امام ربانی“ کے نام سے گیارہ جلدی مرتب کیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی زندگی میں دو عظیم مجددِ دین پر قلم اٹھایا اور حقِ قلم ادا کیا۔ رحمہم اللہ تعالیٰ“
ڈاکٹر مجید اللہ قادری نے اپنی پچاس منٹ کی گفتگو میں مسعود ملت علیہ الرحمۃ کے حوالے سے جن جن گوشوں کو اجاگر کیا اگر ان کو بالتفصیل لکھا جائے تو بذاتِ خود ایک مقالہ بن جائے۔ ڈاکٹر مسعود صاحب نے کئی ادارے قائم کئے۔ اپنی کتابوں کی طباعت کے حوالہ سے کبھی کسی سے ایک پیسہ نہیں لیا۔ خود شریعت پر عمل کرتے تو لومۃ لائم سے بے نیاز ہوکر عمل کرتے۔ ڈاکٹر مجید اللہ صاحب نے بتایا کہ:
”حکومتِ پاکستان نے ان کی کارکردگی پر ایوارڈ دیا۔ جب وصول کرنے کے لیے گئے تو گلے میں نہیں پہنا کیونکہ مردوں کے لئے سونا پہننا حرام ہے۔“
خلاصہٴ کلام ڈاکٹر پروفیسر مجید اللہ قادری صاحب نے بڑی معلومات افزا گفتگو کی مگر دورانِ خطاب وہ بار بار اس تاسف کا اظہار کرتے رہے کہ یہ میری حرماں نصیبی ہے کہ اپنے شفیق ترین مخدوم کی آخری رسومات میں شریک نہ ہوسکا۔
یہ تعزیتی جلسہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ زیبِ اسٹیج حضرت مولانا مسعود رضا صاحب (فلاح مسجد)، حضرت مولانا فیضان المصطفیٰ صاحب (کے ٹی طیبہ مسجد) بھی تھے۔ اخیر میں فاتحہ خوانی، سلام و دعا ہوئی، پھر نمازِ عشاء کے بعد عشائیہ پیش کیا گیا اور یہ پروگرام ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ پروفیسر مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ کی قبر کو منور فرمائے اور ان کے اعمالِ حسنہ کی اچھی جزاء دے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
رپورٹ: جاوید احمد پٹیل
(النور جامع مسجد (مرکز) ہوسٹن، امریکہ)
جون 2008 | تبصرہ کریں »