منقبت۔ نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا

نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا
منقبتِ اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی الشاہ احمد رضا خاں علیہ رحمۃ الرحمن
از جناب سید محمد ایوب صاحب رضوی بریلوی علیہ الرحمۃ

اہلِ سنت پہ ہے بار احساں تیرا
نائبِ مصطفی، شاہ احمد رضا

دودھ کا دودھ، پانی کا پانی کیا
کس نے تیرے سوا، شاہ احمد رضا

تیرے مشتاق نادیدہ ہیں سینکڑوں
محوِ حسنِ لقا، شاہ احمد رضا

دوست، دشمن کی تھی کچھ نہ ہم کو خبر
تُو نے ظاہر کیا، شاہ احمد رضا

ایک میں کیا، ہزاروں ہیں شیدا تیرے
بندگانِ خدا، شاہ احمد رضا

پوچھے اللہ والوں سے رتبہ تیرا
مرحبا مرحبا شاہ احمد رضا

سچ تو یہ ہے کسوٹی ہے ایمان کی
ہے کھرے سے کھرا، شاہ احمد رضا

کوئی منصور اعدا میں ہو کس طرح
شیرِ شیرِ خدا، شاہ احمد رضا

گل ہزاروں کھلے گلشنِ دہر میں
پھول اعلیٰ کھلا، شاہ احمد رضا

آستانہ تیرا چھوڑ جائیں کہاں
تیرے در کے گدا، شاہ احمد رضا

مجھ کو جو کچھ ملا، تیرے در سے ملا
واہ کیا ہے عطا، شاہ احمد رضا

خوفِ محشر اور ایوبِ رضوی تجھے
آپ لیں گے بچا، شاہ احمد رضا

جون 2008 | تبصرہ کریں »

نعت۔ عارضِ شمس و قمر سے

کلام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جابجا پرتوفگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید، شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہی
بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جس کی خاطر مرگئے مُنْعَمْ رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجہٴ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیئے
بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی
کرچکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

اے رضا طوفانِ محشر کے طلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو، ہیں کشتیٴ امت کو لنگر ایڑیاں

جون 2008 | تبصرہ کریں »