مسعود ملت کا انتقال۔ روزنامہ روزن
پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کے انتقالِ پُرملال پر روزنامہ ”روزن“ کی خبر کا تراشہ
مرسلہ: میاں فضل احمد حبیبی (نور علی نور فاؤنڈیشن، گجرات)
محترم المقام حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری دامت برکاتہ
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
طالب خیریت بخیریت الحمد للہ۔ مورخہ 5/مئی 2008ء کو ”معارفِ رضا“ جلال الملت نمبر موصول ہوا۔ اس سے قبل وحید العصر حضرت ڈاکٹر پروفیسر محمد مسعود احمد علیہ الرحمۃ اس دنیا سے رخصت ہوتے ہوئے جدائی کا داغ سینہ میں چھوڑ گئے ہیں۔ ان کے اچانک وصال نے ایسی صورت پیدا کردی ہے کہ جیسے روزِ روشن میں اچانک سیاہ رات پھیل جائے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
موصوف ڈاکٹر صاحب کا وصال غالباً ساڑھے آٹھ بجے بعد نمازِ مغرب ہوا۔ کراچی میں ابھی عشاء کا وقت شروع نہ ہوا ہوگا۔ 9بجے شرق پور شریف سے محترم و مکرم میاں جمیل احمد شرقپوری صاحب نے وصال کی اطلاع بذریعہ فون دلادی۔ اس کے بعد وہی حالت جس کا اوپر ذکر کیا ہے، پیدا ہوگئی۔ راقم کے اہلِ خانہ کا ڈاکٹر صاحب کے گھرانہ سے خاصہ تعلقِ شناسائی تھی۔ اکثر فون پر بات بھی ہوجاتی اور جب کراچی آتے تو ڈاکٹر صاحب کے در دولت پر حاضری لازم تھی۔ اسی تعلق کی بِنا پر سب اہلِ خانہ غمزدہ ہوگئے۔ اسی وقت کراچی رابطہ کرتے رہے لیکن 10بجے کے قریب رابطہ قائم ہوسکا۔ ابھی علامہ جلال الدین قادری رضوی علیہ الرحمہ کا صدمہ کم نہ ہوا تھا کہ ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمۃ کا صدمہ اس سے عظیم تر صدمہ پیش آگیا۔
علامہ جلال الدین صاحب علیہ الرحمہ کے بارے میں مقالہ نگاروں کے جذبات و ارادت و عقیدت اور حسرت بھرے اوراق نظروں سے جیسے جیسے گزرتے گئے، اسی شدت سے علامہ صاحب اور موصوف ڈاکٹر صاحب علیہما الرحمہ کی یادیں اداس کرتی رہیں۔
محترم ڈاکٹر صاحب علیہ الرحمہ کا راقم کے نام آخری خط جو انہوں نے 12/اپریل کو لکھا تھا اور مجھے 16/اپریل کو ملا تھا۔ اس کے ٹھیک بارہ دن بعد ڈاکٹر صاحب جدا ہوگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
ڈاکٹر صاحب کے وصال پر روزنامہ ”روزن“ کے دفتر پہنچا۔ وہاں ان کے لیے دعا کی اور ایصالِ ثواب کیا گیا۔ اگلی صبح ”روزن“ نے تین کالم کی سرخی کی خبر شائع کی جس میں آپ کی رحلت کی خبر شائع کی۔ (”روزن“ کے چیف ایڈیٹر ڈاکٹر صاحب سے عقیدت رکھتے ہیں۔)
مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی کے صاحبزادے ڈاکٹر مسعود احمد کی وفات پر تعزیتی اجلاس
تعزیتی اجلاس محمد افضل راز کی صدارت میں روزن آفس میں ہوا۔ اجلاس میں مرحوم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا گیا
مرحوم نیک نہایت ہی صالح ولی اللہ تھے، محمد افضل راز، مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء مدتوں پر نہ ہوسکے، میاں فضل حبیبی
تعزیتی اجلاس میں عبد الرزاق، ایم۔بی خان، ارشد گل، قمر شہزد، محمد انور، شہزاد احمد، عثمان احمد، محمد بلال اور دیگر نے شرکت کی
گجرات (عبد الرزاق سے) پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مجددی کی وفات پر روزن آفس میں زیرِ صدارت چیف ایڈیٹر روزنامہ ”روزن“ محمد افضل راز اور میاں فضل احمد حبیبی تعزیتی اجلاس منعقد ہوا جس میں انہوں نے مرحوم کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم بین الاقوامی محقق عالمِ اسلام کی عظیم شخصیت مفتیٴ اعظم ہند مفتی محمد مظہر اللہ دہلوی کے صاحبزادے تھے۔ مرحوم نیک نہایت ہی صالح اور ولی اللہ تھے۔ مرحوم سلسلہٴ عالیہ مجددیہ کا مینارہ نور ہونے کے ساتھ ساتھ امام ربانی مجددِ الف ثانی انسائیکلوپیڈیا کے علاوہ تقریباً پانچ سو کتب کے مصنف اور ماہرِ رضویات تھے۔ ان کی وفات سے جو خلا پیدا ہوا ہے۔ وہ شاید مدتوں پر نہ ہوسکے۔ مرحوم گوناگوں خوبیوں کے مالک تھے۔ ان کی وفات سے عالمِ اسلام ایک ہمدرد اور ولی کامل سے محروم ہوگیا۔ آخر میں میاں فضل احمد حبیبی نے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ تعزیتی اجلاس میں عبد الرزاق، ای۔بی خان، ارشد گل، قمر شہزاد، محمد انور بانٹھ، شہزاد احمد، عثمان احمد، محمد بلال اور دیگر نے شرکت کی۔
جون 2008 | تبصرہ کریں »