معارف‌‌ِ حدیث۔ گناہ صغیرہ و کبیرہ

10۔ گناہِ صغیرہ و کبیرہ
مرتبہ: مولانا محمد حنیف خاں رضوی بریلوی

(19) اسلام میں ضرر رسانی نہیں
161۔ عن ابی سعید الخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : لاَ ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ ، مَنْ ضَارَّ ضَارَّ ہُ اللّٰہُ، وَمَنْ شَاقَّ شَاقَّ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(اسلام میں ) نہ ضرر ہے اور نہ مضرت پہونچانا ۔ جس نے نقصان پہونچایا اللہ تعالیٰ اس کو نقصان میں مبتلا کریگا ۔ اور جس نے کسی کو مشقت میں مبتلا کیا اللہ تعالیٰ اسے مشقت میں ڈالے گا۔ فتاویٰ رضویہ 5/293

(20) کمزور کی مدد نہ کرنا گناہ ہے
162۔ عن سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : مَنْ اُذِلَّ عِنْدَ ہ مُؤمِنٌ فَلَمْ یَنْصُرْہ وَیَقْدِرُ عَلیٰ انْ یَّنْصُرَہ اَذَلَّہُ اللّٰہُ عَلیَ رُؤُسِ الْاَشْھَادِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔
فتاویٰ رضویہ، حصہ اول ، 9/21
”حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس کے پاس مؤمن کی تذلیل کی جائے پھر وہ اسکی مدد پر قادر ہونے کے باوجود اسکی مدد نہ کرے تو اللہ تعالیٰ اسکو قیامت کے دن بر سر عام رسو ا کریگا ۔“ 12م

(21) حسد ایمان کے ساتھ جمع نہیں ہوتا
163۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : لاَیَجْتَمِعُ فِیْ جَوْفِ عَبْدٍ اَلْاِیْمَانُ وَالْحَسَدُ۔
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی بندے کے دل میں ایمان اور حسددونوں جمع نہیں ہو سکتے۔“ 12م
فتاویٰ رضویہ، حصہ اول، 9/21

164۔ عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ قال : قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : اِیَّا کُمْ وَالْحَسَدَ فَاِنَّ الْحَسَدَ یَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَاتَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَ اَوْ قَالَ اَلْعُشْبَ۔ فتاوی رضویہ ، حصہ اول، 9/21
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حسد سے بچو کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو، یا سوکھی گھاس کو ۔ 12م

165۔ عن معاویۃ بن حیدۃ ر ضی اللہ تعالی عنہ قال : قال: رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : الْحَسَدُیُفْسِدُ الْاِیْمَا نَ کَمَایُفْسِدُ الصِّبْرُ الْعَسْلَ ۔
”حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشا د فرمایا : حسد ایما ن کو ایسا برباد کر دیتا ہے جیسے ایلوا شہد کو “۔ 12م

(22) عیب لگانے والے مستحق جہنم ہیں
166۔ عن ابی الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : مَنْ ذَکَرَ اِمْرَءً بِشَیْءٍ لَیْسَ فِیْہِ لِیُعِیْبَہ بہ حَبِسَہُ اللّٰہُ فِیْ نَارِ جَہَنَّمَ حَتّٰی یَاتِیَ بِنِفَاذِ مَا قَالَ۔ فتاویٰ رضویہ 3/747
حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا : جو کسی کے عیب لگانے کو وہ بات بیان کرے جو اس میں نہیں ہو اللہ تعالیٰ اسے نار جہنم میں قید کریگا۔ یہاں تک کہ اپنے کہے کی سند لائے ۔

167۔ عن ابی الدرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال: قال رسو ل اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم : ایُّمَا رَجُلٌ اشَاعَ عَلیٰ رَجُلٍ مُّسْلِمٍ بِکَلِمَۃٍ وَہُوَ مِنْہَا بَرِیْءٌ یُشِیْنُہ بِہَا فِی الدُّنْیَا کَانَ حَقًّا عَلیَ اللّٰہِ اَنْ یُّذِیْبَہ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یَاتِیَ بِنِفَاذِ مَا قَالَ۔
”حضرت ا بو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی شخص نے اپنے مسلمان بھائی کے بارے میں کوئی بات مشہور کی اور وہ اس سے بری ہے جسکا یہ دنیا میں عیب لگا رہا ہے تو اللہ تعالیٰ پر حق ہے کہ جب تک اپنی اس بات کا ثبوت نہ پیش کرے اسے آتش دوزخ میں پگھلائے۔ “
فتاویٰ رضویہ 3/747

حوالہ جات
161۔المسند لا حمد بن حنبل،1/ 313
۔۔۔ السنن الکبری للبیہقی،6/ 69
۔۔۔ المستدرک للحاکم،2/ 58
۔۔۔ المعجم الکبیر للطبرانی،2/ 81
۔۔۔ مجمع الزوائد للہیثمی،4/ 110
۔۔۔ التمہید لا بن عبد البر،10/230
۔۔۔ کنز العمال للمتقی،9498، 4/ 59
۔۔۔ تاریخ دمشق لابن عساکر،6/ 325
۔۔۔ ارواء الغلیل للالبانی،3/ 48
۔۔۔ حلیۃ الاولیاء لا بی نعیم،9/ 76
۔۔۔ تاریخ اصفہان لا بی نعیم،1/ 344
۔۔۔ کشف الخفا للعجلونی،2/506
162۔ المسند لا حمد بن حنبل،3/ 847
۔۔۔ المعجم الکبیر للطبرانی،6/ 89
۔۔۔ مجمع الزوائد للہیثمی،7/ 267
۔۔۔ اتحاف السادۃ للزبیدی،7/ 544
۔۔۔ الجامع الصغیر للسیوطی،2/ 510
163۔ الدر المنثور ، للسیوطی،2/183
۔۔۔ الترغیب والترہیب للمنذری،3/ 546
164۔السنن لا بی داؤد ، الادب،2/ 272
۔۔۔ السنن لا بن ماجۃ ، الزہد،2/ 320
۔۔۔ اتحاف السادۃ للزبیدی،1/ 294
۔۔۔ الدر المنثور للسیوطی،2/ 182
۔۔۔ جمع الجوامع للسیوطی،366
۔۔۔ التمہید لا بن عبد البر،6/ 124
۔۔۔ التاریخ الکبیر للبخاری،1/ 272
۔۔۔ التفسیر للقرطبی،5/ 251
۔۔۔ الدر المنثور للسیوطی،6/ 419
۔۔۔ تاریخ بغداد للخطیب،2/ 227
۔۔۔ کشف الخفاء للعجلونی،1/ 426
۔۔۔ الترغیب والترہیب للمنذری،3/ 547
165۔اتحاف السادۃ للزبیدی،8/ 55
۔۔۔ کشف الخفاء للعجلونی،1/ 426
166۔مجمع الزوائد للہیثمی،4/ 210
۔۔۔ الترغیب والترہیب للمنذزری،3/ 199
167۔الترغیب والترہیب للمنذری ، 3/ 515

(جاری ہے۔۔۔)

جون 2008 | تبصرہ کریں »

نعت۔ عارضِ شمس و قمر سے

کلام: اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خاں فاضلِ بریلوی علیہ الرحمہ

عارضِ شمس و قمر سے بھی ہیں انور ایڑیاں
عرش کی آنکھوں کے تارے ہیں وہ خوشتر ایڑیاں

جابجا پرتوفگن ہیں آسماں پر ایڑیاں
دن کو ہیں خورشید، شب کو ماہ و اختر ایڑیاں

نجم گردوں تو نظر آتے ہیں چھوٹے اور وہ پاؤں
عرش پر پھر کیوں نہ ہوں محسوس لاغر ایڑیاں

دب کے زیرِ پا نہ گنجایش سمانے کو رہی
بن گیا جلوہ کفِ پا کا ابھر کر ایڑیاں

ان کا منگتا پاؤں سے ٹھکرادے وہ دنیا کا تاج
جس کی خاطر مرگئے مُنْعَمْ رگڑ کر ایڑیاں

دو قمر دو پنجہٴ خور دو ستارے دس ہلال
ان کے تلوے پنجے ناخن پائے اطہر ایڑیاں

ہائے اس پتھر سے اس سینہ کی قسمت پھوڑیئے
بے تکلف جس کے دل میں یوں کریں گھر ایڑیاں

تاج روح القدس کے موتی جسے سجدہ کریں
رکھتی ہیں واللہ وہ پاکیزہ گوہر ایڑیاں

ایک ٹھوکر میں احد کا زلزلہ جاتا رہا
رکھتی ہیں کتنا وقار اللہ اکبر ایڑیاں

چرخ پر چڑھتے ہی چاندی میں سیاہی آگئی
کرچکی ہیں بدر کو ٹکسال باہر ایڑیاں

اے رضا طوفانِ محشر کے طلاطم سے نہ ڈر
شاد ہو، ہیں کشتیٴ امت کو لنگر ایڑیاں

جون 2008 | تبصرہ کریں »