روئیداد تعزیتی ریفرنس ۔ مسعود ملت
بیاد مسعود ملت حضرت ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری رحمہ اللہ تعالی
منعقدہ جامعہ رضویہ احسن القرآن دینہ ،جہلم (پنجاب)
اثر خامہ : مولانا محمد سہیل احمد سیالوی
فون پر واجب التعظیم، حضرت صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری زید مجدہ العالی ( صدر ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا انٹر نیشنل ، کراچی ) نے حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کے وصال کی برق بداماں خبر سنائی تو کرب اور غم کے جذبات نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ،کافی دیر تک باہم سوگوار جملوں کا تبادلہ ہوتا رہا اور حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کے خصال ِحمیدہ کا ذکر گوش و دہن میں لذتیں بکھیرتا چلا گیا ، صدر محترم( سید وجاہت رسول قادری زید مجدہ) کے الفاظ کا کرب اور لہجے کا دکھ ان کے غمِ دروں کی عکاسی کر رہا تھا ۔ فون بند ہوتے ہی راقم الحروف ،والد گرامی شیخ المجودین ،امام القراء ،قاری محمد یوسف سیالوی بارک اللہ فی عمرہ کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ نے حکم فرمایا کہ کل صبح حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کی یاد میں ایصال ثواب کی نشست کا اہتمام کیا جائے ،حضرت کے تذکار سے گرمیٴ محفل کا سامان فراہم کیا جائے اور طلباء کو آپ کے ایمان افروز سوانحی وقائع سے آشنا کرکے اشتیاق علم کے جذبے کو مہمیز لگائی جائے ۔
حکم ملتے ہی میں نے برادرفاضل، مولانا ڈاکٹر محمد اشفاق جلالی ( لیکچرار گونمنٹ ڈگری کالج، جہلم) سے رابطہ کیا اور دوسرے دن 12 بجے کا وقت مقرر ہو گیا ۔ا گلے ہی دن کالج میں بھی مسعود ملت علیہ الرحمہ کی یاد میں تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا ۔12 بجے کے قریب میں ڈاکٹر صاحب کو لینے کالج پہنچا تو کالج کے سٹاف روم میں تقریب کا آغاز ہو چکا تھا ،ڈاکٹر جلالی ،حضرت مسعود ملت کی خدمات پر فکر انگیز گفتگو فرما رہے تھے ۔مجھے بھی اس محفل پاک میں شرکت کی سعادت ملی ،گفتگو کے اختتا م پر ڈاکٹر جلالی نے اصرار کے ساتھ مجھے دعا مانگنے کا حکم دیا ۔ دعا پر محفل اختتام پذیر ہوئی اور ہم گاڑی میں” جامعہ رضویہ احسن القرآن“ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
ہمارے پہنچنے سے قبل ادارہ کے” فخرالمشائخ ہال“ میں تقریب کا باقاعدہ آغاز ہو چکا تھا ۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد ڈاکٹر محمد اشفاق جلالی کو دعوتِ سخن دی گئی۔ ڈاکٹر جلالی نے حضرت مسعودِملت کے چند سوانحی کوائف ،خاندانی پسِ منظر اورموروثی علم و فضل کے اجمالی تذکرہ کے بعد فرمایا:
”حضرت مسعودِملت رحمہ اللہ صرف کراچی والوں کے لیے نہیں ،صرف اہلِ پاکستان کے لیے نہیں بلکہ تمام عالمِ اسلام کے لیے اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا عطیہ تھے ۔ ان کا وصال تمام عالمِ اسلام کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے۔ ان کی علمی و تحقیقی خدمات آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ ان کے انداز ِ تحریر میں اتنی اثر انگیزی ہے، اس قدر ندرت اور انفرادیت ہے کہ جو کوئی اچھا ادیب بننا چاہے وہ بکثرت ان کی تحریریں پڑھے، ان کی تحریریں قلم پکڑنے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔ ان کا مزاج انتہائی درویشانہ تھا ، تواضع اور انکساری کا پیکر تھے، مجلس میں کبھی سٹیج پر نمایاں جگہ پر نہ بیٹھتے ۔ اہلِ علم کی قدر کرتے۔ اخلاق و مروت کا مجسمہ تھے۔
اندرون ملک اور بیرون ملک محققین، دانشوروں اور ریسرچ سکالرز کے لیے ان کی ذات ایک مینارئہ نور تھی۔ رضویات پر کام کے حوالے سے وہ ایک تاریخی حیثیت کے حامل تھے اور دائرۃ المعارف کی حیثیت رکھتے تھے۔امامِ ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمدسرہندی فاروقی علیہ الرحمۃ پر 15ضخیم جلدوں میں جہانِ امامِ ربانی کے نام سے عظیم علمی ذخیرہ جمع فرما کر انہوں نے سلسلہ ٴ عالیہ سے نسبت کا حق ادا کر دیا اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلندفرمائے ،پس ماندگان کو صبرِ جمیل سے نوازے اوران کے فیوض کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رہے”
ڈاکٹر محمد اشفاق جلالی حفظہ اللہ تعالی کی پر از معلومات گفتگو کے بعد راقم الحروف نے حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کی سیرت کے چند پہلووٴں پر مختصر گفتگو کا اعزاز حاصل کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ راقم الحروف کے نزدیک ان کا اصلی حسن وہ تھا جو ان کے باطن میں جلوہ گر تھا ۔ وہ ایک بے نفس انسان تھے اور” موتوا قبل ان تموتو“ اور” خاک شو پیش ازاں کہ خاک شوی“ کا مصداق تھے ۔ میں نے ان کی کسی کتاب میں پڑھا تھا کہ کئی غیر مسلم ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر اسلام کے دامن رحمت میں آئے ۔
وہ اخلاق نبویہ کے زیور سے مرصع اور پابندیٴ شریعت کے غازہ سے آراستہ تھے ۔ ان کی استقامت علی الحق اور گرمیٴ عشق ایک قابل تقلید حیثیت رکھتی تھی اور یہی ان کے خصائص تھے جو فی زمانہ علماء میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں الا ماشاء اللہ ۔
راقم الحروف کے بعدقبلہ والد محترم نے حضرت مسعودملت علیہ الرحمہ کی سیرت کے حوالے سے طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ :
حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ جیسے افراد کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں ۔ ان کا ذکر خیر کرنے کا ایک مقصد آپ کے دلوں میں طلب علم اور حصول فہم دین کے جذبے کو تازگی بخشنا اور آپ کے ذہنوں میں یہ بات راسخ کرنا ہے کہ ہم بھی ان جیسا بننے کی کوشش کریں اور ان جیسے اسلاف کرام کے رنگ میں اپنے آپ کو رنگ لیں۔
آخر میں قبلہ والد گرامی نے حضرت مسعود ملت علیہ الرحمہ کی بلندیٴ درجات کے لئے خصوصی دعا فرمائی ، فاتحہ خوانی پر اس مختصر مگر جامع تعزیتی اجلاس کا اختتام ہوا ۔
جون 2008 | تبصرہ کریں »