اپنی بات۔ آہ مسعودِ ملت!
آہ مسعود ملت۔ شہر میں اِک چراغ تھا، نہ رہا
مدیر اعلیٰ صاحبزادہ سید وجاہت رسول قادری کے قلم سے
قارئین کرام! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
اسلامیانِ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش گذشتہ ایک سال میں (جولائی 2007ء۔ اپریل 2008ء) پے بہ پے متعدد جانکاہ صدموں سے دوچار ہوئے ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ یہ عرصہ ہمارے لیے سانحہ اور آزمائش کا سال رہا تو بے جا نہ ہوگا۔ اس قلیل مدت میں نامور مسند نشینانِ مجلسِ علم و عرفان یکے بعد دیگرے عازمِ سفرِ آخرت ہوئے اور افرادِ ملتِ اسلامیہ کو روتا اور بلکتا چھوڑ گئے۔
سوزِ دل، اشکِ رواں، آہِ سحر، نالہٴ شب
ایں ہمہ از اثرِ لطفِ شما می بینم
(حافظ)
15/جولائی 2007ء کو تلمیذِ صدر الشریعہ حضرت مفتی غلام یٰسین راز امجدی واصلِ بحق ہوئے۔
3/اگست 2007ء کو نبیرہٴ استاذِ زمن حضرت حسن رضا بریلوی، صدر العلماء علامہ تحسین رضا بریلوی شہیدِ راہِ حق ہوئے۔
4/اگست 2007ء کو سلطان الواعظین علامہ ابو النور بشیر کوٹلوی داعیٴ اجل کو لبیک کہتے ہوئے آغوشِ رحمتِ الٰہی میں جا پہنچے۔
یکم ستمبر 2007ء کو محققِ رضویات، شرفِ ملت حضرت علامہ محمد عبد الحکیم شرف قادری دار فنا کے خار زار سے کوچ کرکے دارِ بقا کے سبزہ زار میں زیرِ سایہٴ رحمتِ پروردگار جابسے۔
ابتدائے سالِ نو ہجری و عیسوی (2/محرم الحرام 1429ھ/ 12/جنوری 2008ء) میں جلال الدین و الملت حضرت علامہ مفتی جلال الدین قادری رضوی اپنے علمی جاہ جلال کی جولانیاں دکھانے کے بعد آغوشِ رحمتِ ربِّ ذو الجلال میں آسودہٴ گل و گلزار ہوگئے۔ رحمہم اللہ تعالیٰ رحمت واسعہ۔
اور اب 28/اپریل 2008ء کو:
اِک محسنِ ملت سے ہوئی اور جدائی!
ناشرِ رضویت، ماہرِ رضویات، مسعود نام، صفت حق و صداقت، مسعودِ ملت، سراپا محبت و شفقت، ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل کے یومِ تاسیس (1980ء) سے نگران و سرپرست حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مظہری نقشبندی علیہ الرحمۃ اللہ الباری نے پیکرِ تسلیم رضا بن کر نفسِ مطمئنہ کے ساتھ داعی اجل کی آواز پر لبیک کہا اور فانی فی اللہ کی منزل سے گذر کر باقی باللہ کے مقام پر فائز ہوگئے۔
ماہرِ رضویات مسعود ملت محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ زندگی بھر اپنے ایمان اور ایقان پر ثابت قدم رہے۔ ایسی ہی ہستیوں کے لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یَآ اَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُO ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃًO فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْO وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْO
(الفجر: 89/ 27 تا 30)
ترجمہ: اے اطمینان والی جان! اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی، پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو اور میری جنت میں آ۔ (کنز الایمان)
حقیقت یہ ہے کہ مسعودِ ملت کی اچانک رحلت نے تمام عالَمِ اہلِ سنت کو نہ صرف سوگوار کردیا بلکہ مذکورہ ”سبقونا بالایمان“ کی جدائی کے زخموں کو پھر سے ہرا کردیا۔ قحط الرجال کے اس دور میں اب دنیائے اہلِ سنت کا ہر فرد بالخصوص رجالِ علم و تحقیق حالتِ غم و اندوہ میں ایک دوسرے کا منہ تکتے پھر رہے ہیں اور ایک دوسرے سے پوچھ رہے ہیں کہ اب کیا ہوگا؟
صنما باغمِ تو عشق چہ تدبیر کنم؟
حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کی شخصیت کے متنوع پہلو ہیں، جس رُخ سے انہیں دیکھیں اور پرکھیں ان کے گفتار و کردار اور علم و عمل کے روشن پہلو نظر آتے ہیں۔ لوگ ان سے مل کر مسرور و شاداں ہی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کی محفل سے رخصت ہوتے وقت اپنے دلوں میں عشقِ صادق کی شمع فروزاں کرکے اٹھتے تھے:
جن سے مِل کر زندگی سے عشق ہوجائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں، مگر ایسے بھی تھے
راقم کو ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا کا ایک ادنیٰ کارکن کی حیثیت سے (1981ء) حضرت مسعودِ ملت کی زندگی اور ان کے معمولات کو بہت قریب سے دیکھنے اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کا شرف حاصل رہا ہے۔ فقیر پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ اور بلا خوفِ تردید یہ بات کہہ سکتا ہے بلکہ اس پر اصرار بھی کرسکتا ہے کہ قبلہ پروفیسر صاحب کی حیات کے مختلف پہلوؤں میں راقم کو حضور اکرم سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک اچھے، دیانتدار، امین و متین اور سچے امتی ہونے کا واضح عکس نظر آتا تھا۔ یہی ان کی کامیاب و کامران زندگی کا سب سے بڑا راز تھا۔ راقم خاص طور پر ان کے کردار کی چند خصوصیات کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہے جو انہیں محسنِ انسانیت، معلمِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب کرتی ہیں۔ کتبِ احادیث، آثار و سیر میں متعدد روایات ملتی ہیں کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی سے بلند آواز سے گفتگو نہیں فرمائی۔ حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب علیہ الرحمۃ بھی ہمیشہ دھیمے لہجے میں گفتگو کے عادی تھے حتیٰ کہ ناراضگی کے عالم میں بھی آپ کا لہجہ نرم اور دھیما ہوتا تھا۔ گویا آپ کا کردار قرآن کریم کی اس آیت کریمہ کا مظہر تھا ”وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ط“ (اٰلِ عمران: 3/ 134)
ترجمہ: ”اور غصہ پینے والے اور لوگوں سے درگزر کرنے والے۔“ (کنز الایمان)
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی قہقہہ نہیں لگایا بلکہ ہمیشہ زیرِ لب تبسم ہی فرمایا۔ اعلیٰ حضرت عظیم البرکت علیہ الرحمۃ نے کیا خوب کہا ہے:
جس کی تسکیں سے روتے ہوئے ہنس پڑیں
اس تبسم کی عادت پہ لاکھوں سلام
مسعودِ ملت کو بھی کبھی راقم نے بلند آواز سے قہقہہ لگاتے نہیں دیکھا بلکہ حالتِ سرور میں ہمیشہ ان کے لبوں پر تبسہم ہی دیکھا اور ان کے تبسم کا انداز دیکھ کر ان کے مخاطب کے دل کی کلیاں کِھل جایا کرتی تھیں۔
ہمارے پیارے آقا و مولیٰ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم بلاتفریق رنگ ونسل، نیک و بد، خورد و کلاں، منصب و عہدہ ہر ایک سے انتہائی محبت، شفقت اور مہربانی سے پیش آتے تھے۔ حضرت مسعود ملت کو بھی اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سنت پر بہ تمام و کمال عمل پیرا ہوتے دیکھا ہے۔ بزرگ ان سے مل کر شاداں و فرحاں ہوتے اور اپنی محفلوں میں ان کے اخلاقِ عالیہ کی مثال دیتے، نوجوان ان کی محفل سے متاثر و متحرک اٹھتے، اپنے کردار کی درستگی اور زندگی کے بامقصد صالح مشاغل کی تکمیل میں استقامت اور عزیمت کی راہ اختیار کرتے۔ زندگی رب کریم جل جلالہ کا ایک انمول تحفہ ہے۔ ہمیں عرصہ حیات یعنی وقت کی قدر کرنی چاہئے۔ وجہِ تخلیقِ کائنات سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ کا کوئی لمحہ بے کار یا بے مقصد شغل میں نہیں گذارا۔ حتیٰ کہ رات میں جب آپ آرام فرماتے، چشمانِ مبارک بند ہوتیں مگر قلبِ اطہر بیدار، ذکر اللہ میں مشغول ہوتا۔ گویا آپ کی ظاہری حیات مبارکہ سورہٴ والعصر کی مکمل تفسیر تھی اور امت کے لیے ایک نمونہٴ کامل۔
مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت عظیم البرکت، الامام الاکبر امام احمد رضا خاں حنفی قادری برکاتی قدس سرہ صلی اللہ علیہ وسلم السامی سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہٴ حسنہ کا عکسِ جمیل تھے۔ زندگی کے انمول وقف کی قدر جیسی انہوں نے کی، ان کے دور میں شاید و باید کسی نے کی ہو۔ قلیل الطعام تھے، رات بمشکل ڈھائی گھنٹہ آرام فرماتے تھے۔ نمازِ باجماعت کے اوقات کے علاوہ ملاقاتِ احباب اور مستفتی حضرات کے لیے اوقات مقرر تھے۔ اس کے علاوہ سارے شب و روز میں وہ ہوتے، قلم و قرطاس ہوتا اور کنج خمولے: ان کے پاس نہ کسی کی تحسین سننے کے لیے کچھ وقت تھا اور نہ کسی کے طعن و تشنیع کے جواب کے لیے: وہ خود فرماتے ہیں:
نہ مرا نوش ز تحسیں، نہ مرا نیش ز طعن
نہ مرا گوش بمدحے، نہ مرا ہوشِ ذمے
منم و کنج خمولے کہ نہ گنجد در وے
جزمن و چند کتابی و دوات و قلمے
اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ کا قلم ان کی 65سالہ حیات کے بیشتر لمحوں میں اپنے آقائے نعمت، رسولِ رحمت، محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدحت سرائی اور ان کے دشمنوں کی بیخ کنی اور ان کے دین کی تبلیغ اور نشر و اشاعت میں مشغول رہا۔ ان کے سوانح نگاروں کے مطابق وہ اپنی زندگی کے ہر پانچ گھنٹہ بعد بیس ورقہ ایک رسالہ تحریر کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ہزار سے زائد کتب و رسائل اور کتابچے معرضِ وجود میں آئے۔ جب پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد علیہ الرحمۃ کا رابطہ امام احمد رضا سے ان کی تصانیف کی معرفت (1968ء میں) ہوا تو انہوں نے ان کو وہاں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی لذت آشنائی کے ساتھ وقت کی قدر شناسی کا سلیقہ بھی ملا۔ وہ حیران ہوئے کہ ایک نحیف و نزار شخص اپنی ذات میں ایک انجمن نکلا اور مختصر سی زندگی میں علم و حکمت اور فروغِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ کام کرڈالا جو بیسیوں تحقیقی ادارے مل کر بھی نہ کرسکیں۔
پروفیسر صاحب فرماتے ہیں:
”مولانا بریلوی نے جس اندازِ فکر کی نشاندہی کی ہے، اگر اس کو اپنا لیا جاتا تو آج ہمارے پڑھے لکھے نوجوان جدید افکار و خیالات سے اتنا مرعوب اور اسلامی فکر و خیال سے اتنے بیگانہ نظر نہ آتے بلکہ راقم کو تو یہ خیال ہے کہ خود سائنسدان قرآن سے روشنی حاصل کرتے تو جہاں وہ آج پہنچے ہیں، صدیوں قبل پہنچ چکے ہوتے۔“
(حیاتِ مولانا احمد رضا خاں، ص: 113، ناشر اسلامی کتب خانہ، سیالکوٹ، 1981ء)
مسعودِ ملت علیہ الرحمۃ وقت کے قدر شناس ہونے میں امام احمد رضا کا پَرتو تھے۔ وقت کا صحیح استعمال انہوں نے مجدد اعظم امام احمد رضا سے سیکھا اور وہ اس کا صحیح مَصرف جانتے تھے۔ مستعار زندگی کے لمحات کا صحیح مَصرف اور اوقاتِ کار کی سختی سے پابندی معلم کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہٴ حسنہ ہے۔ بیسویں صدی عیسوی میں اس کا بہترین نمونہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدثِ بریلوی قدس سرہ کی ذات میں نظر آتا ہے۔ وقت کی پابندی کے حوالہ سے غالباً اعلیٰ حضرت کا ایک قول ہے جو راقم کی نظر سے کہیں گذرا ہے:
”وقت اللہ کی امانت ہے۔ اس کا صحیح استعمال عبادت ہے۔“
ہمارے دور میں محترم ڈاکٹر محمد مسعود صاحب اس قول کی عملی تفسیر تھے۔ اس سلسلہ میں بہت سے واقعات کی مثالیں دی جاسکتی ہیں لیکن طوالت کے خوف سے چند مثالوں پر اکتفاء کرتا ہوں۔
مسعودِ ملت کے شاگردِ رشید محترم پروفیسر فیاض احمد خاں کاوش مرحوم فرماتے ہیں کہ قبلہ ڈاکٹر محمد مسعود احمد صاحب کبھی اپنا وقت بے کار ضائع نہیں فرماتے تھے۔ تدریس کے دوران جو فرصت کے اوقات ملتے تھے، ان میں بھی وہ بیکار نہیں بیٹھتے تھے، علمی تخلیقات کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ وہ اس حدیث شریف پر یقین رکھتے تھے ”جس کے دو دن یکساں گذر گئے وہ خسارے میں رہا۔“
جس کا نتیجہ تھا کہ ہر سال اوسطاً 6مضامین و مقالات اور ایک تصنیف یا تالیف عالمِ وجود میں آتی رہی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں ”تذکارِ مسعودِ ملت“۔ مرتبہ: محمد عبد الستار طاہر، ص: 245)
مکتوب نگاری ایک فن ہے اور بعض حضرات کے لیے وقت گذاری کا ایک ذریعہ۔ لیکن ڈاکٹر صاحب مرحوم و مغفور نے اس کو بھی اصلاحِ احوال، فروغِ دین اور مسلکِ اعلیٰ حضرت اور فکرِ مجدد الف ثانی کی نشر و اشاعت کے لیے استعمال کیا اور عبادت سمجھ کر کیا۔ سردست ان کی مکتوب نگاری کی خصوصیات بیان کرنا راقم کا موضوع نہیں، صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ وقت کی پابندی کے حوالے سے اور سنتِ خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل پیرا ہونے کی نیت سے قبلہ مسعودِ ملت احباء، اقربا، محبین، متعلقین، طلباء، اساتذہ اور اہلِ علم و تحقیق کو پابندی سے خطوط لکھا کرتے تھے اور نہایت سرعت اور مستعدی کے ساتھ خط لکھنے والوں کو جواب بھی تحریر فرماتے تھے۔ راقم کو یاد نہیں پڑتا کہ ان کو کوئی خط لکھا ہو اور انہوں نے اس کا جواب نہ دیا ہو۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس ناچیز کے برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش، مصر، نجد و حجاز، انگلینڈ، امریکہ و افریقہ کے متعدد اہلِ علم سے قلمی رابطہ ہیں لیکن آج تک کسی نے یہ نہیں کہا کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے خط کا جواب نہیں دیا بلکہ ان کی سرعتِ تحریر اور جواب میں مستعدی کے ہمیشہ مداح رہے ہیں۔
یہی حال تقریبات اور علمی و دینی مجلسوں میں وقت کی پابندی کے ساتھ شرکت کا تھا۔ کراچی میں دینی مجالس بالعموم اور شادی کی تقریبات بالخصوص کبھی وقت پر شروع نہیں ہوتیں۔ لیکن کبھی یہ نہ دیکھا گیا کہ محترم ڈاکٹر صاحب دعوت پر نامہ پر درج وقت کے مطابق مجلس میں نہ پہنچے ہوں۔ ان کا معمول تھا کہ شادی کی تقریب میں وقت معینہ پر پہنچ جاتے۔ تقریباً ایک گھنٹہ انتظار کے بعد جب وہ محسوس کرتے کہ اس کے شروع ہونے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں تو وہ میزبان سے مل کر اسے مبارکباد پیش کرتے، تحفہ دیتے اور معذرت کرکے واپس ہوجاتے۔ اسی طرح ان کی 32 سالہ تدریسی زندگی میں جو اساتذہ اور طلباء کالجوں میں ان کے ساتھ رہے، ان کا یہ کہنا ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ معین وقت پر وہ اپنی کلاس یا اپنے دفتر میں موجود نہ ہوں۔ اس طرزِ عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ کالج کے تدریسی عملہ سمیت طلباء اور چپراسی تک وقت کے پابند ہوگئے اور ڈاکٹر صاحب کی خصوصی توجہ، شفقت اور محبت کی وجہ سے خوشگوار ماحول میں درس و تدریس ہوتی رہی۔
ان کے حسنِ کردار سے اساتذہ، طلباء اور غیر تدریسی افرادسب متاثر ہوئے اور کالج کے نظم و ضبط میں بھی سدھار پیدا ہوا۔ جن دنوں وہ کالج کے پرنسپل رہے، ان میں کچھ بڑی سیاسی ابتری اور لسانی فسادات کے گذرے بالخصوص اندرونِ سندھ کے اسکولوں اور کالجوں اور جامعات کے حالات نہایت ناگفتہ تھے۔ لیکن یہ ڈاکٹر صاحب کی وقت شناسی، تدبر اور اخلاق عالیہ کی برکت تھی کہ ان کی عملداری (یعنی جہاں وہ پرنسپل رہے) میں طلباء صرف پُرسکون ہی نہیں رہے بلکہ تدریسی عمل میں بھی شامل رہے اور ان کا قیمتی سال برباد ہونے سے بچ گیا۔ طلباء یونین ہال میں جہاں ڈاکٹر صاحب کی آمد سے قبل شرابیں پی جاتی تھیں، دنگا فساد ہوتا تھا، اب نمازیں پڑھی جانے لگتیں اور مذاکرے ہونے لگے۔
اسی طرح جب اپنی ملازمت کے آخری ایام میں وہ حکومتِ سندھ میں محکمہٴ تعلیم کے ایڈیشنل سیکریٹری بنے تو ڈاکٹر صاحب قبلہ روز اول ہی سرکاری اوقات کے مطابق وقتِ مقررہ پر اپنے دفتر میں موجود تھے جبکہ سارا عملہ غیر حاضر تھا۔ حسبِ روایات ایک ایک گھنٹہ تاخیر سے جب عملہ کے دیگر افراد دفتر پہنچے تو حیران رہ گئے کہ یہ کون اعلیٰ افسر ہے جوآج وقت پر اپنی کرسی پر براجمان ہے کیونکہ ان سرکاری دفاتر میں وقت کی پابندی کے ساتھ دفتر میں حاضری کی روایت ہی ختم ہوچکی تھی۔ لیکن انہیں کیا خبر کہ اللہ کا ولی اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتا ہے اور اس امانت کی حفاظت اور بر وقت فرائضِ منصبی کی ادائیگی اس کی عبادات کا ایک حصہ ہیں۔
قبلہ پروفیسر صاحب مرحوم مغفور ادارہٴ تحقیقات امام احمد رضا کے سرپرستِ اعلیٰ تھے۔ ابتداء یعنی 1981ء سے کوئی امام احمد رضا کانفرنس ایسی نہیں کہ ڈاکٹر صاحب کراچی میں تشریف فرما ہوں اور اس میں شریک نہ ہوئے ہوں۔ راقم یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ ان کی علامہ شمس بریلوی اور حضرت مولانا تقدس علی خاں علیہم الرحمۃ کی ذات ایسی تھی جو ہمیشہ وقت معینہ پر کانفرنس ہال میں موجود ہوتی تھیں۔ حالانکہ یہ کانفرنسیں متعدد وجوہ کی بِناء پر ایک آدھ گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوتی رہی ہیں۔ آخری امام احمد رضا کانفرنس جس میں حضرت مسعود ملت شریک ہوئے، وہ 23/فروری 2008ء کی تھی۔ یہ علی گڑھ انجینئرنگ یونیورسٹی، گلشنِ اقبال، کراچی کے ہال میں منعقد ہوئی تھی اور اب کی بار کچھ زیادہ ہی تاخیر سے شروع ہوئی۔ راقم کی طبیعت دو ماہ سے مسلسل کام کرنے کی وجہ سے اس دن کچھ زیادہ ہی ناساز تھی۔ پہلے ادارے کے دفتر جانا تھا، وہاں سے اپنی کار میں پریس سے مطبوعات لے کر کانفرنس ہال پہنچنا تھا۔ پھر کراچی کی ٹریفک کا اژدھام۔ تاخیر سے پہنچا تو تو پتہ چلا کہ ابھی نہ مہمانِ خصوصی ہیں نہ صدرِ مجلس حتیٰ کہ مقالہ نگار میں سے بھی کوئی نہیں پہنچا۔ محترم پروفیسر ڈاکٹر مجید اللہ قادری صاحب (جنرل سیکریٹری، ادارہٴ ہٰذا) نے فرمایا کہ ڈاکٹر صاحب قبلہ وقتِ معین پر تشریف لائے تھے۔ کافی دیر بیٹھے رہنے کے بعد یہ حکم دے کر گئے ہیں کہ نقاہت کی وجہ سے زیادہ دیر نہیں بیٹھ سکتے۔ قریب ہی میں کسی عزیز کے مکان پر آرام فرمائیں گے۔ کانفرنس شروع ہوتے ہی ان کو اطلاع دے دی جائے تو وہ دوبارہ تشریف لے آئیں گے۔ سبحان اللہ! پابندیٴ وقت اور پھر ہم جیسے چھوٹوں کی دل جوئی اور ہمت افزائی کی کیسی قابلِ تقلید مثال تھی۔ کوئی اور ہوتا تو دو گھنٹہ بیٹھ کر گھر چلا جاتا
ایسا کہاں سے لاؤں کہ تم سا کہیں جسے
مسعودِ ملت علیہ الرحمۃ کی شخصیت جیسا کہ راقم نے ابتداء میں تحریر کیا کہ ایک ہمہ جہت اور ہمہ صفت پہلو رکھتی تھی لیکن بایں وسعت و ہمہ گیریت ان کی حیاتِ مستعار کے دائرہٴ عمل کو تین واضح عنوانات میں سمویا جاسکتا ہے:
1۔فکرِ رضا اور تعلیماتِ مجدد کی روشنی میں تعلیم کا فروغ اور اساتذہ، علماء اور مشائخ کا احترام
2۔نوجوانانِ ملت کی ذہنی و روحانی تربیت اور
3۔اصلاحِ معاشرہ کے لیے سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عنوانات پر مبنی آسان پیرائے میں تحریر شدہ لٹریچر کی نشر و اشاعت اور صحیح خانقاہی روایات کا فروغ۔
ان تینوں عنوانات پر بہت کچھ لکھا جاسکتا ہے لیکن اداریئے کے صفحات اس کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ البتہ مسعودِ ملت اور رضویات پر کام کرنے والے مستقبل کے محققین کے لیے مذکورہ عناوین ضرور ایک دعوتِ فکر و عمل ہیں۔
حضرت مسعودِ ملت کے وصال کے بعد اب اہلِ سنت کے اربابِ علم و تحقیق بالخصوص رضویات پر کام کرنے والوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں لہٰذا ماہرِ رضویات قبلہ مسعود احمد صاحب نے امام احمد رضا علیہ الرحمۃ کے جن علمی گوشوں کی نشاندہی کی ہے اور ان پر وہ کام نہ کرسکے یا ادھورا چھوڑ گئے اور جو گوشے اب جدید دریافت ہورہے ہیں یا ہوں گے ان پر پہلے سے زیادہ ایک ٹیم ورک اور ایک بہتر رابطے اور نظم و ضبط کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ان شاء اللہ اس موضوع پر جولائی کے ستارے میں جو ”ماہرِ رضویات نمبر“ کا دوسرا حصہ ہوگا، راقم تفصیل سے اظہارِ خیال کرے گا۔
جنہوں نے حضرت پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مرحوم و مغفور کو بہت قریب سے دیکھا ہے، وہ ضرور اس بات کی گواہی دیں گے کہ بلاشبہ وہ اپنے حصہ کے مذکورہ فرائض بہ تمام و کمال اور پوری دیانت داری سے ادا کرنے کے بعد اپنے خالقِ حقیقی کے حضور بڑے فخر اور پورے اطمینانِ قلب کے ساتھ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمایہ لئے حاضر ہوگئے اور اللہ تعالیٰ کے احسان یافتہ بندوں میں شامل ہوگئے۔
وہ قرآن حکیم کے حکم ”کونوا مع الصادقین“ میں بیان کردہ ”صادقین“ کے حسنِ سیرت کا مظہر تھے، صاحبِ صدق و صفا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی زبان و بیان اور اس سے کہیں زیادہ ان کی تحریر میں ایسی تاثیر تھی جو دلوں پر اثر کرتی تھی۔ ان کی مجلس میں بیٹھنے والا کبھی بے فیض نہیں لوٹا۔ بے ہوش اور بے خبر جاتے تھے اور ان کی مجلس سے باہوش و باخبر اپنے دلوں میں حسنیِ معنیٰ کی ایک دنیا سجائے لوٹتے تھے۔ ان کی مجلس کا حال بقول جگر کچھ یوں تھا
حریمِ حسنِ معنیٰ ہے جگر کاشانہٴ اصغر
جو بیٹھو باادب ہوکر تو اٹھو باخبر ہوکر
وہ اقبال کے مردِ مومن کی تمام خوبیوں کا عطر مجموعہ اور ان کے اس شعر کا عکسِ جمیل تھے:
چہ باید مرد را، طبعِ بلندے، مشربے نابے
دلِ گرمے، نگاہِ پاک بینے، جانِ بیتابے
(بانگِ درا)
مگر آج! حیف آں ساقی نہ ماند! اللہ تعالیٰ ان کی قبر پر رحمت و رضوان کی بارش فرمائے، ان کے صوروی و معنوی پس ماندگان کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، ان کے صاحبزادہٴ ذی وقار محبی و عزیزی محمد سرور احمد صاحب زید مجدہ کو ان کا سچا جانشیں اور اہلِ سنت و جماعت کو بالعموم اور ادارہٴ تحقیقاتِ امام احمد رضا انٹرنیشنل کراچی کو بالخصوص ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔ آمین بجاہِ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم۔
ایک روشن دماغ تھا نہ رہا
شہر میں اِک چراغ تھا نہ رہا
جون 2008 | تبصرہ کریں »